کیوبیک مسجد حملہ : فوکس نیوز کی گمراہ کن ٹویٹ

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے دفتر سے سرکاری درخواست کے بعد امریکی نیوز چینل فوکس نیوز نے اپنی وہ ٹویٹ ہٹا دی جس میں انھوں نے حالیہ کیوبیک مسجد حملے کا ذمہ دار ایک مراکشی باشندے کو ٹھہرایا تھا۔ وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی مشیر برائے ذرائع ابلاغ کیٹ پرچیز نے کہا کہ فوکس نیوز اپنی ٹویٹ کے ذریعے گمراہ کن خبر پھیلا رہا ہے۔ یاد رہے کہ 29 جنوری کو کینیڈا کے شہر کیوبیک کی مسجد میں فائرنگ کے نتیجے میں نماز پڑھنے والے چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 19 افراد اس واقع میں زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ کیوبیک اسلامک کلچرل سینٹر میں اتوار کی شب پیش آیا تھا ۔ یونیورسٹی کے طالب علم 27 سالہ فرانسیسی کینیڈین الیگزینڈر بیسونیت پر نمازیوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا foxnews-bisonnetteگیا ہے۔

 فوکس نیوز کی ٹویٹ میں کہا گیا تھا : ‘کیوبیک کے مسجد حملے میں ملوث شخص مراکش سے تعلق رکھتا ہے۔’ واقعے کے بعد آنے والی خبروں میں کہا گیا تھا کہ حراست میں لیے جانے والے دو افراد میں سے ایک مراکش کا ہے لیکن بعد میں بتایا گیا کہ وہ عینی شاہد ہے اور ان کو چھوڑ دیا گیا۔ فوکس نیوز نے اپنی خبر میں یہ تصیح کر لی تھی لیکن ٹویٹ نہیں خارج کی جس میں مراکشی باشندے کو بھی اس واقعے میں موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔ فوکس نیوز کے ٹوئٹر پر 13 میلین فالورز ہیں۔

کیٹ پرچیز نے فاکس نیوز کو ٹویٹ میں کہا کہ وہ یا تو ٹویٹ ہٹا دیں یا اس خبر کی تصیح کر لیں۔ انھوں نے مزید کہا: ‘ آپس میں دیواریں کھڑی کرنے اور الزامات لگانے کے بجائے۔ ہماری ساری توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ ہماری آبادی کے تمام لوگوں کو محفوظ اور متحد رہیں۔’ ٹویٹ ہٹائے جانے کے بعد انھوں نے فاکس نیوز کا شکریہ بھی ادا کیا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s