امریکی صدر ٹرمپ کا میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا حکم

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حکمنامے میں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کے سو فیصد اخراجات بھی میکسیکو سے لیے جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے علاوہ ایک ان امریکی شہروں کی فنڈنگ روکنے کے احکامات پر دستخط کیے ہیں جو غیر قانونی تارکین وطن کی گڑھ ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم میں ان کا ایک اہم انتخابی نعرہ میکسیکو کی سرحد پر 2000 میل طویل دیوار تعمیر کرنا تھا۔ ٹرمپ نے سرحدی دیوار کی تعمیر کے حکمنامے پر دستخط ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے میں منعقد ایک تقریب میں کیے۔ ٹرمپ نے اس موقع پر کہا ہے کہ امریکہ کی جنوبی سرحد پر’بحران’ ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ کوئی ملک سرحدوں کے بنا ‘ملک’ نہیں ہوتا اور آج سے آغاز کرتے ہوئے امریکہ اپنی سرحدوں کا کنٹرول واپس حاصل کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اے بی سی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میکسیکو خرچ کی گئی سو فیصد رقم ادا کرے گا۔ انھوں نے کہا ہے کہ’ ہم اس کے بارے میں شروع سے بات کر رہے تھے۔ میکسیکو دیوار کے لیے رقم دے گا جس کا گذشتہ تخمینہ 8 ارب ڈالر ہے۔’ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ‘ہم اس سلسلے میں جلد بات چیت شروع کریں گے اور خرچ کی گئی رقم کی ادائیگی ایک بندوبست کے تحت ہو گی، میں صرف آپ کو بتایا رہا ہو کہ اس کی ادائیگی ہو گی اور یہ ایک بندوبست کے تحت ہو گی. تاہم یہ ایک پیچیدہ بندوبست ہو گا اور یہ میکسیکو کے لیے بھی اچھا ہو گا۔’  توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند روز میں نئے امریکی صدر امیگریشن اور سرحدی سکیورٹی کے حوالے سے متعدد صدارتی حکم ناموں پر دستخط کر دیں گے۔ ان حکم ناموں میں افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے چند ممالک سے امریکہ آنے والے افراد کی کڑی جانچ پڑتال جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان اقدامات کی وجہ سے ملک میں پناہ گزینوں کی رسائی بھی مشکل ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ ’کل قومی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم دن ہے۔ دیگر موضوعات سمیت، ہم وہ دیوار بنائیں گے!‘ اس کے علاوہ ایسے اقدامات بھی متوقع ہیں جن کی وجہ سے مختلف شہروں کے حکام غیرقانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کے لیے وفاقی حکام کے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ توقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سات ممالک سے امیگریشن پر کڑی شرائط بھی لاگو کریں گے۔ ان ممالک میں شام، یمن، اور عراق بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ممالک سے تارکینِ وطن کی آمد کو بھی اس وقت روکا یا کم کیا جائے گا جب تک جانچ پڑتال کے عمل کو بہتر نہیں کیا جاتا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ ولس کا کہنا ہے کہ امدادی تنظیموں کے ایسی پالیسیوں پر ناراض ہونے کا امکان ہے۔ ادھر بی بی سی کے شمالی امریکہ کے ایڈیٹر جان سوپل کا کہنا ہے کہ ’اس ہفتے نئے صدر اپنے مشہور ترین انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔‘

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s