کنگڈم آف ہیون

3bbf102565624a977974d5b523061d7912 ویں صدی کی صلیبی جنگوں کا احاطہ کرتی یہ فلم 2005ء میں ریلیز ہوئی، جس کے ہدایت کار، رزمیہ فلمیں بنانے والے رڈلے سکاٹ ہیں ۔ صلاح الدین ایوبی اور صلیبی بادشاہوں کے درمیان تاریخی کشمکش کی داستان بیان کرتی اس فلم میں چند تاریخی مناظر کو کمال مہارت سے فلمایاں گیا ہے ،جیسا کہ جنگ حطین اور فتح بیت المقدس کے مناظر اپنی مثال آپ ہیں۔ میں نے رڈلے سکا ٹ کی بہت زیادہ فلمیں نہیں دیکھیں، پھر بھی مجھے کنگڈم آف ہیون اور 2008ء میں ریلیز ہوئی باڈی آف لائیز دیکھنے کے بعد اس بات کا اندازہ ہوا کہ رڈلے دو مذاہب کے اختلاف کو غیر جانبدارانہ طریقے سے پیش کرنے کی کسی حد تک قدرت رکھتے ہیں۔

اس فلم کی کہانی مجموعی طور پر ایک لوہار بیلین (اورلینڈو بلوم) کے گرد گھومتی ہے، جو اپنی بیوی کی موت کے بعد اتفاقی طور پر اپنے گمشدہ باپ بیرون گاڈ فرے (لیام نیسن) سے مل جاتا ہے۔ اطالیہ کے شہر مسینا میں گاڈفرے اپنی موت سے قبل بیلین کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ القدس یعنی یروشلم چلا جائے اور وہاں کے بادشاہ کی خدمت اور مجبوروں و محتاجوں کی حفاظت کرے، لیکن یہاں پہنچ کر بیلین کو ایک نئی سیاسی کشمکش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یروشلم کا بادشاہ بالڈوین چہارم (ایڈورڈ نارٹن) جو جذام کا مریض ہے حالانکہ صلاح الدین ایوبی کا مخالف ہے، اس کے باوجود وہ اس کے خلاف جنگی اقدام کرنے سے گریز کرتا ہے جبکہ دوسری طرف بادشاہ کی بہن و ملکہ یروشلم آئزابیلا (ایوا گرین) ملکہ کا شوہر گائے دی لوزینیان(مارٹن سوکاس) مشترکہ طور پر مسلمانوں کے خلاف محاذ تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

افسانوی اور رومانوی آمیزش کو چھوڑ کر فلم کی کہانی قریباً تاریخی حقائق پر مبنی ہے۔ اگر آپ تاریخی موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں اور خاص طور پر 11 ویں اور 12 ویں صدی کی دنیا اور اس زمانے کی جنگی حکمت عملیوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، تو کنگڈم آف ہیون بہت اچھا انتخاب ہوگا۔ فلم کے جنگی مناظر کو دیکھ کر سنیما ٹوگرافر جان ماتھی سن کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ میرے خیال میں انہوں نے 12 ویں صدی کے جنگ کا نقشہ عین ویسا ہی کھینچ دیا ہے، جیسا اس زمانے کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کے ذہن میں نقش ہے۔ فلم کے بیشتر منظرکشی مراکش کے علاقے ورززات میں فلمائے گئے۔

حیران کن طور پرمغربی ممالک میں یہ فلم اتنی پذیرائی حاصل نہیں کرپائی ،جس کی یہ حقدار تھی۔ خصوصاً امریکا و کینیڈا میں تو یہ فلم بری طرح فلاپ ہو گئی، جس کی بظاہر بڑی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ کے متعلق مغربی مورخین نے اس قدر زہر گھولا ہے کہ عام لوگ حقیقی تاریخ کو قبول ہی نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ فلم کے حوالے سے مغرب میں عوامی ردعمل سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کے عوام میں مسلمانوں کے حوالے سے یہ تاثر اندر تک راسخ ہو چکا کہ یہ ہمیشہ سے غیر تہذیب یافتہ اور اجڈ قوم رہی ہے اور ان سے یہ بات ہضم ہی نہیں ہوئی کہ محض آٹھ صدیاں قبل یہ بات بالکل الٹ تھی اور مسلمان علم کی شمعیں روشن کیے ہوئے تھے۔

عثمان احمد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s