پِیسا ٹاور : عمارات جو زمین میں دھنس رہی ہیں

Leaning-Tower-of-Pisa_shutterstock_85100518دنیا میں کئی ایسے مقامات ہیں جو بیک وقت دو طرح سے مشہور ہو جاتے ہیں۔ ایک بذاتِ خود وہ مقام ہوتا ہے جو مشہور ہو جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ سیاح اِس انداز سے اْس کی تصویر لیتے ہیں کہ بعد میں آنے والے سیاح بھی اْسی زاویے سے تصویر لینا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس طرح اس مقام کو مقبولیت مل جاتی ہے۔ اٹلی میں ایک شہر ہے جِس کا نام ’’پِیسا‘‘ ہے۔ اِس شہر میں مشہورِ زمانہ پِیسا ٹاور موجود ہے جو دِن بدن رفتہ رفتہ ڈھلکتا جا رہا ہے۔ ایک مرتبہ کِسی فوٹوگرافر نے ایک صاحبِ ذوق کی اِس انداز سے تصویر لی گویا وہ پِیسا ٹاور کو سہارا دیے ہوئے ہے اور گِرنے سے روک رہا ہے۔ ظاہر ہے تصویر میں ایسا ہی لگتا ہے مگر حقیقت میں پیسا ٹاور پس منظر میں بہت پیچھے ہوتا ہے اور صاحبِ ذوق کیمرہ کے بہت پاس۔

دوسرے سیاحوں کو یہ انداز اتنا پسند آیا کہ اب وہ پِیسا ٹاور کی بجائے اِس انداز سے تصویر کھینچنے کے لیے پِیسا جاتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر جب بھی پِیسا ٹاور کو ڈھونڈھا جائے، زیادہ تر یہی تصویری سامنے آئیں گی۔ پیسا مینار ایک چرچ کیتھیڈرل آف پیسا کی عمارت کا حصہ ہے جو اٹلی کے شہر پیسا میں واقع ہے۔ چرچ کی وجہ سے اسے مخصوص رومن اسک اسٹائل میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس میں Composanto سمیٹری موجود ہے۔ “Composanto” کا مطلب مقدس زمین سے نکالی گئی مقدس مٹی کو کھڑا رکھنا ہے۔ اس کی وجہ شہرت اس کا ایک طرف جھکاؤ اور رومن طرز تعمیر کا شاہکار ہونا ہے۔ اِس مینار کی تعمیر8 اگست 1173ء کو شروع ہوئی۔ اس کی 8 منزلیں ہیں۔ مینار جھکی ہوئی جانب 183.27 فٹ (55.86 میٹر) اور بلند جانب 56.70 میٹر (186.02فٹ ) اونچا ہے۔

اگرچہ اس مینار میں ابھی بھی وہ پرانی گھنٹیاں موجود ہیں جو اس کی تعمیر کے وقت لگائی گئیں تھیں لیکن ان کا اب استعمال نہیں کیا جاتا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کی تعمیر 200 برسوں میں مکمل ہوئی یعنی دو صدیاں بیت گئیں۔ تعمیر میں اس قدر تاخیر کی وجہ اس میں پائے جانے والے تعمیراتی مسائل تھے جو وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے تھے کبھی ایک مسئلہ کھڑا ہو جاتا تھا اور کبھی دوسرا۔ جب اس کی تین منزلیں مکمل ہو چکی تھیں تو اچانک تعمیراتی عملے کو یہ معلوم ہوا کہ مینار ایک طرف سے نرم مٹی میں دھنس رہا ہے۔ مزید تعمیر فوراً روک دی گئی اور یہ اگلے 100 سال تک رکی رہی۔ خیال تھا کہ اتنے بڑے عرصے کے دوران میں مٹی سخت ہو جائے گی اور جھکاؤ ختم ہو جائے گا۔ اس جھکاؤ کو ختم کرنے کی پہلی کوشش 1275ء میں کی گئی جب تعمیر کا سلسلہ ازسر نو بحال کیا گیا۔ 1301ء میں اس کی چھ منزلیں تعمیر ہو چکی تھیں۔ 1350ء میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ اب تک یہ مینار اپنی مقررہ جگہ سے 6 میٹر تک جھک چکا ہے اور اس ٹیڑھ پن کو دور کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ مسلسل ایک طرف کو جھک رہا ہے۔

سائنس دانوں نے حساب لگا کر بتایا ہے کہ یہ ہر سال 0.25 انچ یعنی ایک ملی میٹر کی رفتار سے جھک رہا ہے اور ایک دن ایسا آئے گا جب یہ بالآخر گر جائے گا۔ اس مینار کو 1990ء سے حفاظت اور اس کے تحفظ کی وجوہات کے پیش نظر عوام کے لیے بند کر دیا گیا اور ایک دہائی تک اس کے جھکاؤ کو روکنے کی کوششیں کی گئیں بالآخر 2001ء میں اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ ماہرین تعمیرات کا کہنا ہے کہ جدید طریقوں سے مینار کو اگلے 300 سالوں تک گرنے سے بچالیا گیا۔ یہ وہی مینار ہے جس کی آخری منزل سے مختلف چیزوں کو گرا کر گیلیلیو نے کشش ثقل کے بارے میں اپنے تجربات کئے تھے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s