طیبہ کے ساتھ لاکھوں دوسرے بچے بھی خطرے میں ہیں

پاکستان میں وہ کونسا شعبہ جہاں معصوم بچوں اور مستقبل کے معماروں سے زبردستی کام نہیں لیا جا رہا ؟ اینٹوں کی صنعت سے لیکر قالین سازی، کوئلے کا کاروبار، کپاس کی چنائی، چوڑیاں بنانا، چمڑے کی صنعت، آلات جراحی بنانا، شوگر مل، گندم کی بوائی، کٹائی اور گوداموں میں پہنچانے اور دیگر کئی طرح کے کاموں تک بچوں سے مشقت کروائی جاتی ہے۔ اینٹوں کے بھٹے، کوئلہ، قالین، کپاس، شوگر ملز اور گندم کے کام میں بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے جبکہ آلات جراحی، چمڑے اور چوڑیوں کے کاروبار میں بچوں یا اُن کے والدین کی مرضی سے مشقت کروائی جا رہی ہے۔

امریکہ کی وزارت محنت کے بعض اعداد و شمار کے مطابق چائلڈ لیبر کی بعض اقسام تو ایسی ہیں جن میں پاکستان کا کوئی ثانی ہی نہیں ہے۔ جیسے کہ آلات جراحی بنانے میں بچوں کی مشقت کے حوالے سے صرف پاکستان کا نمبر ہے، کیونکہ پاکستان کے آگے پیچھے اور کوئی ملک نہیں ہے۔ سپارک ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جس کے زیرِ اہتمام کراچی میں پاکستان سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے عنوان پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں یہ خوفناک انکشاف سامنے آیا کہ پاکستان چائلڈ لیبر کے حوالے سے موریطانیہ اور ہیٹی جیسے ممالک کے بعد دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اِس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں چائلڈ لیبر کی شرح ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں دن بدن کم ہو رہی ہے، مگر پاکستان میں اقدامات کے باجود مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے یقیناً ایک لمحہ فکریہ ہے۔

گزشتہ روز ایڈیشنل سیشن جج کے گھر سے ملنے والی معصوم بچی طیبہ کا کیس میڈیا کی زینت بننے سے ایک طوفان سا برپا ہو گیا ہے۔ حیرانگی اِس بات پر ہو رہی ہے کہ طیبہ پر ہونے والے ظلم پر واویلا کرنے والے نا جانے اِس حوالے سے خطرناک ترین حقیقت کو نظر انداز کرکے صرف اِس ایک واقعے تک خود کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔ راقم نے مثال کے طور پر ایک محدود علاقے میں نظریں دوڑائیں تو 10 سے زیادہ ایسے مقامات نظروں کے سامنے آئے جہاں کم عمر بچے مشقت کرتے پائے گئے۔ لیکن صورت حال صرف مشقت تک محدود نہیں ہے بلکہ اِس سے بڑھ کر تشویشناک بات یہ ہے ہم سب بے پر کی اُڑانے کے ماہر ہیں۔

ہم ہر بچے کو کام کرتا دیکھتے ہیں تو چائلڈ لیبر کا رونا ڈال دیتے ہیں حالانکہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی وضح کردہ تعریف کے مطابق بچوں کا کام کرنا کسی بھی طرح سے چائلڈ لیبر کے ضمرے میں نہیں آتا۔ یاد رہے ILO اقوام متحدہ کا ہی ایک ذیلی ادارہ ہے۔ اِس ادارے کی بیان کردہ تعریف کے مطابق ’ ایسا کوئی بھی کام جس سے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشونما، تعلیم، صحت متاثر نہ ہو وہ چائلڈ لیبر کے ضمرے میں نہیں آتا، اور نہ ہی ایسا کوئی کام چائلڈ لیبر قرار دیا جا سکتا ہے جس میں بچے اپنا خرچ یا اپنے خاندان کے چھوٹے کاروبار یا اپنے والدین کا ہاتھ بٹا رہے ہوں‘. یعنی سادہ الفاظ میں بچوں سے اُن کا بچپن چھین لینا چائلڈ لیبر ہے۔

طیبہ تو چھپے ہوئے آئس برگ کی ایک ٹپ ہے۔ لیکن اگر تھوڑی ہمت ہے تو کبھی ہوٹلوں میں جھانکیے، چوراہوں پر دیکھیے، موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی ورکشاپس میں دیکھیے جہاں بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ شاگردی میں آنے کے لیے ماں بہن کی گالی سہنا لازم ہے، اور بچے مجبوری میں یہ سب کچھ سہتے بھی ہیں۔ کسی مکینک کی دکان پر دیکھیے، کسی کباڑ خانے میں دیکھیے، کیسے بچپنا چھینا جا رہا ہے۔ چائے لینے بھیجنا ہے تو ایک بھاری گالی دے کر مخاطب کیا جاتا ہے اور بچہ دوڑ کر جاتا ہے۔ ابے تیری ماں کی۔۔۔ اتنے نمبر کی چابی پکڑا ذرا، چابی پکڑاتے ہوئے وہ جوانی میں قدم رکھنا شروع کردیتا ہے چاہے عمر آٹھ سال ہی کیوں نہ ہو۔ اوئے چھوٹے تیری بہن کی۔۔۔ جا ذرا دودھ پتی کا آرڈر دے آ۔ دودھ پتی کا آرڈر دینے کے ساتھ وہ اپنے بچپن کو بھی وہیں رکھ آتا ہے کیوںکہ اُسے بچپن میں بڑا ہونا ہے۔ ارے تو میسنی، کسی ۔۔۔۔ کی اولاد ۔۔۔ یہ جھاڑو لگانے کا طریقہ ہے؟ ہڈ حرام، تجھ سے اتنا سا کام نہیں ہوتا ؟ ایسا کچھ ان ننھی کلیوں کے ساتھ ہر دوسرے گھر میں برتاو کیا جاتا ہے جنہیں ماں باپ یا تو مجبوری کی وجہ سے بڑے گھروں میں کام کاج کے لیے چھوڑ جاتے ہیں یا پھر لاوارث کلیاں ایسے گھروں کے کام کاج کے لیے پہنچتی ہیں۔

مجھے طیبہ سے اتنی ہی ہمدردی جتنی آپ کو ہے، سچ پوچھیں تو اُس معصوم بچی کے لیے دل آج بھی رو رہا ہے، مگر گزارش اور درخواست یہ ہے کہ اپنی توجہ صرف اِس ایک کیس تک محدود نہ رکھیں، کیونکہ یہ ایک ایسے آئس برگ کی ظاہری ٹپ ہے جو صرف ہمیں نظر آ رہی ہے۔ اصل المیہ اِس سے کہیں زیادہ اور پوشیدہ ہے جو کسی بھی معاشرے کو ڈبونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نقصان بھی ایسا کہ جس کا ازالہ نہ ہو پائے گا۔ گھروں میں، ورکشاپس میں اور دیگر جگہوں پر کام کرکے اپنا اور اپنے خاندان کا سہارا بننے والے بچوں کو اگر آپ جسمانی، ذہنی، تعلیمی لحاظ سے اچھا ماحول دے رہے ہیں تو اُن کے کام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہر بچے کو چائلڈ لیبر کا نام نہ دیجیے، بلکہ اپنا کردار ادا کیجیے اور کام کرنے والے بچوں کو اچھا ماحول دیجیے۔ ورنہ یہ خراب ماحول کا شکار ہونے والے بچے کل کو معاشرے کا ناسور بن جائیں گے اور تعمیر کے بجائے تخریب کی طرف مائل ہو جائیں گے۔ کیوںکہ اُن کے ذہنوں میں یہ خیال راسخ ہو جائے گا کہ آگے بڑھنے کے لیے بُری زبان، بُرا کردار اور بُرا لہجہ لازم ہے، اور خدانخواستہ اگر یہ سوچ نئی نسل میں پروان چڑھ گئی تو ہم طیبہ سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔

شاہد کاظمی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s