اگر بشارالاسد جیت جاتے ہیں تو کیا ہوگا ؟

bashar-al-assad-ghoutaخانہ جنگیاں ہمیشہ ایک طویل عرصے تک لڑی جاتی ہیں اور یہ شدید اور خطرناک ہوتی ہیں۔ یہ بڑی انسانی تباہی لاتی ہیں کیونکہ شہری ہی ہمیشہ کبھی ایک فریق اور کبھی دوسرے فریق کا ہدف ہوتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ایک خانہ جنگی کے خاتمے کا ہمیشہ خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر شام میں جاری سفاکانہ اور تباہ کن خانہ جنگی کے خاتمے کا خیر مقدم کیا جائے لیکن بد قسمتی سے اگر بشارالاسد جیت جاتے ہیں تو یہ شاید انسانی المیے کے خاتمے کا آغاز نہ ہو۔ اس خدشے کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں کہ اگر بشارالاسد تنازعے میں کامیاب ٹھہرتے ہیں تو یہ شاید انسانی المیے کے آغاز کا خاتمہ ہو۔pg-22-aleppo-getty

اگر وہ اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب رہتے ہیں تو ان کی پہلی ترجیح یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے خلاف پھر کبھی اس طرح کی کوئی عوامی بغاوت برپا نہ ہو۔اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنے ہر مخالف کو ایک مثال بنا دیں گے۔ اس توقع کا ہر جواز موجود ہے کہ انتقام اتنا ہی سفاکانہ ہو سکتا ہے جتنا کہ یہ تنازعہ خود سفاکانہ ہے۔ حلب میں تباہ کاریوں سے متعلق ان گنت رپورٹس اور ویڈیو فوٹیج میں سے جو بات فراموش کی جارہی ہے، وہ یہ ہے کہ چھے سال قبل یہ تنازعہ کیوں شروع ہوا تھا ؟ صدر بشار الاسد اپنے پیش رو اور والد حافظ الاسد کی طرح بعث پارٹی کے نظام کی صدارت کررہے ہیں۔ یہ نظام بالکل اسی طرح کے جبر و استبداد کا حامل ہے جس طرح کا سرد جنگ کے زمانے میں مشرقی یورپ میں تھا یا صدام حسین کے تحت عراق میں نظام تھا۔ وہاں جس کسی کے بارے میں یہ سمجھ لیا جاتا کہ وہ ”ریاست کا دشمن” ہے تو اس کو پکڑ لیا جاتا، جیل میں ڈال دیا جاتا اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ یہ ایک معمول تھا۔ اگر ان میں سے کوئی مزاحم ہوتا تو اس کو پھر بڑی خاموشی سے موت کی نیند سلا دیا جاتا تھا۔

ایسے ہی حالات تھے جب سنہ 2011ء کے اوائل میں شامی عوام عرب بہار کے دل فریب دنوں میں اسد حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ ان ابتدائی دنوں کی دلچسپ بات یہ ہے کہ شام میں حکومت پر اگرچہ علوی شیعہ فرقے کی بالادستی تھی لیکن اس کے خلاف عوامی بغاوت فرقہ وارانہ نوعیت کی نہیں تھی۔ شامی معاشرے کے تمام عناصر اور طبقات نے مل جل کر حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔ ان میں شامی فوج کے منحرفین اور اسد حکومت کا ساتھ چھوڑنے والے سیاست دان بھی شامل تھے۔ بعد میں جب داعش ، ایرانی ملیشیاؤں اور حزب اللہ کا منظرنامے میں ظہور ہوا تو اس تنازعے نے فرقہ وارانہ رُخ اختیار کر لیا تھا۔ اب اسد حکومت کے بارے میں ہم یہ تصور کرسکتے ہیں کہ یہ گذشتہ چھہ سال سے جاری شدید فرقہ وارانہ خانہ جنگی کے دوران بہت سخت گیر ہوچکی ہے تو اب اس تجربے کے بعد یہ اور کیا بن جائے گی؟ یا پھر ہمیں فی الوقت کوئی بھی چیز تصور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہم نے اس تمام تنازعے کے دوران حکومت کا شہریوں سے روا رکھا گیا رویہ دیکھا ہے۔ اس نے اپنے ہی شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار،کلسٹر بم استعمال کیے ہیں۔ اسپتالوں اور انسانی امداد مہیا کرنے والے اداروں پر منظم انداز میں بمباری کی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے محاصرے اور بھوک کو اپنے ہی شہریوں کے خلاف ایک جنگی حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ بہ الفاظ دیگر، باغی گروپ بالآخر اگر ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور امن کا اعلان کردیا جاتا ہے تو پھر ہمارے لیے یہ توقع کرنے کے بہت سے جواز موجود ہیں کہ بشارالاسد کی حکومت بغاوت کی حمایت کرنے والی شہری آبادی کے خلاف سزا کے طور پر جنگ جاری رکھے گی۔ یہ جنگ شاید اس طرح واضح طور پر نظر نہ آئے جس طرح کہ شہری آبادی کے مراکز میں واقع اسپتالوں پر بمباری کا پتا چل جاتا ہے۔ جنگ سے قبل کے حالات کی طرح خفیہ پولیس کی جیلوں میں شہریوں کے خلاف یہ جنگ مسلط کی جائے گی۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اس جنگ میں بشارالاسد کے اتحادیوں ایران اور روس کے کردار کو نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔ روس نے خاص طور پر شام سے بڑی تعداد میں مہاجرین کے انخلاء ،ان کے ترکی اور وہاں سے یورپ میں داخلے سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ اب شاید صدر ولادی میر پوتین تنازعے کو حل کرنے کے خواہاں ہوں تاکہ وہ اپنی فوجی مداخلت کا بوریا بستر سمیٹ سکیں اور یوں اخراجات میں بھی کمی لاسکیں لیکن اس کے باوجود وہ یہ بھی چاہیں گے کہ یورپ کی جانب مہاجرین کے انخلاء کا سلسلہ جاری رہے۔ چنانچہ بشارالاسد اور ان کے اہم اتحادی پوتین کا مفاد اسی بات میں وابستہ ہے کہ شام کو انسانیت کے لیے جہنم زار بنائے رکھا جائے اور اس کے نتیجے میں ملک میں اسد نظام کے مخالفین کی دربدری کا سلسلہ بھی جاری رہے.

 کیونکہ اس عمل سے ان کے اتحادیوں میں سے کسی پر بھی منفی اثرات مرتب نہیں ہورہے ہیں۔ البتہ لبنان اس معاملے میں ایک استثنا ضرور ہے کیونکہ وہ بہر صورت شام کی ایک طفیلی ریاست ہے اور وہ اس معاملے میں کچھ کہنے کی سکت بھی نہیں رکھتا ہے۔ ہمیں یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ان دونوں کھلاڑیوں ہی کو تنازعے کے خاتمے کی صورت میں حاصل ہونے والے ممکنہ نتائج میں سے زیادہ حصہ ملنے والا ہے۔ اس لیے ان دونوں کے مفادات کا اسی صورت میں تحفظ ہو سکتا ہے کہ شامی عوام کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ یہ بات یقین کرنے کا جواز نہیں ہے کہ شام میں جاری انسانی بحران میں جلد کوئی بہتری آنے والی ہے۔

ڈاکٹر عظیم ابراہیم

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s