‘میں نے موت کو دیکھا اور میں لگ بھگ مرچکی ہوں’

syria_AP505656463008شام کے شہر حلب میں حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان جاری جھڑپوں کا احوال اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر بیان کرنے والی 7 سالہ بچی بانا ال عبید بمباری کے نتیجے میں اپنے گھر سے بھی محروم ہو گئی اور ماں کے ساتھ گلیوں میں بھٹک رہی ہے۔ یہ بچی اور اس کی ماں باغیوں کے زیرقبضہ حلب کے مشرقی حصے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ٹوئٹر پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس سات سالہ بچی نے بتایا کہ ہم ابھی تک حلب کے مشرقی حصے میں پھنسے ہوئے ہیں ‘ ہم ابھی تک اندر ہیں اور یہاں سے بھاگ نہیں سکتے، اگر ہم حکومتی حصے کی جانب جائیں گے تو وہ ہمیں قتل کردیں گے، ہمیں قتل کی متعدد دھمکیاں مل چکی ہیں، ہم بس اکھٹے رہ کر انتظار کررہے ہیں’۔c5ac30ddddc941d28af233b31732ccfe_9

اس سے قبل اس بچی نے ٹوئٹر پر اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے کی تصویر ٹوئٹر پر شیئر کی تھی۔ اسی طرح اتوار کی رات اس نے ٹوئیٹ کیا ‘ آج رات ہمارا کوئی گھر نہیں رہا، اس پر بمبار ہوئی اور ہم اب ملبے میں ہیں، میں نے موت کو دیکھا اور میں لگ بھگ مرچکی ہوں’۔ یہ ننھی بچی اپنے شہر کی تباہ حالی، اپنے خوف اور زندگی کا احوال اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ کے ذریعے شیئر کرتی ہے جہاں اس کے فالورز کی تعداد 99 ہزار کے قریب ہے۔  شام میں صدر بشار الاسد اور ان کے مخالفین کے درمیان لگ بھگ چھ سال سے جاری ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک اور لاکھوں ہی اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

گزشتہ چند ہفتوں کے تعطل کے بعد دوبارہ فضائی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جس نے حلب کے اس مشرقی حصے کو تباہ کر دیا ہے جبکہ وہاں کے رہائشیوں کو خوراک، ادویات اور ایندھن کی قلت کا سامنا ہے۔ بانا کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ اس کی والدہ سنبھالتی ہیں جس میں شہر کی بمباری کی شکار عمارات اور گھر مں اس بچی کی مصروفیات کو دکھایا جاتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s