احتجاج کی قیمت کیا ہو گی ؟

احتجاج ہر کسی کا جمہوری حق ہے، لیکن اس کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ اور اگر پاکستان تحریکِ انصاف کے احتجاج کو پاکستانی معیشت پر مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتبار میں کمی، معیشت پر ریاست کے کم ہوتے کنٹرول اور ریگولیٹری فرائض کی انجام دہی میں ناکامی کے پیمانے پر دیکھا جائے، تو اس احتجاج کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ اس احتجاج سے پیداوار میں کمی یا ملک کے بنیادی ڈھانچے کو فوراً کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، مگر جن ستونوں پر معیشت قائم ہوتی ہے، انہیں ناقابلِ پیمائش نقصان پہنچے گا، بھلے ہی ان میں سے زیادہ تر نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔

ریاست نے دو سال پہلے دھرنے کے دوران اپنائی جانے والی حکمتِ عملی دوبارہ اپناتے ہوئے ہزاروں کنٹینر ضبط کر کے انہیں سڑکوں پر رکھ دیا ہے تاکہ پی ٹی آئی کے مظاہرین کا راستہ روکا جا سکے۔ یہ بات واضح ہے کہ حکومت کی اس حکمتِ عملی سے پہلے سے مشکلات کی شکار برآمدات کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ اس ماہ تاریخی بلندی کو چھونے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں اب 1500 پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے، جو کہ سرمایہ کاروں میں پھیلتی بے چینی اور عدم اعتماد کا نتیجہ ہے۔ برآمدات کو نقصان وہ نقصان ہے جس سے بچا جا سکتا ہے، مگر اسٹاک مارکیٹ کا نقصان وہ ہے کہ جب دھرنا ختم ہونے کے بعد مارکیٹ بحال ہوگی، تب بھی اس کے اثرات اپنی جگہ موجود رہیں گے، کیوں کہ پیداواری شعبے کے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں بہت وقت لگے گا۔AGITATION-AND-POLITICS-IN-PAKISTAN

احتجاج کرنے والے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ احتجاج نہ کرنے کی قیمت کیا ہے؟ یہ ایک جائز سوال ہے، کیوں کہ معمول کے مطابق چلتی چیزوں میں بھی جگہ جگہ نااہلی کی مثالیں نظر آتی ہیں جن میں گورننس کے مسائل، امن و امان کی خراب صورتحال، اور بدعنوانی شامل ہیں۔ پر یہ سوچنا بھی احتجاج کرنے والوں کی خام خیالی ہے کہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہی یہ سارے مسائل غائب ہوجائیں گے۔ پاکستان کے مسائل کو حل کرنے کا راستہ طویل ہے اور اسے صرف مرحلہ وار ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ جو چیز سب سے پہلے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، وہ سیاسی نظام ہے، خاص طور پر وہ نظام جس کے ذریعے کوئی جماعت اقتدار میں آتی ہے۔ مگر اس مسئلے پر ہم جتنی زیادہ سیاست کریں گے، اتنا ہی مسائل کے حل کے لیے دستیاب آپشنز سے صرفِ نظر کریں گے۔

معیشت ٹھیک کرنے کے لیے ریاست کا استحکام ضروری ہے اور سیاسی اکھاڑے میں موجود تمام امیدواروں پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اقتدار کا راستہ صرف ایک ہے، اور وہ بیلٹ باکس کا راستہ ہے۔ اس اصول کی خلاف ورزی ریاست کے اپنے مسائل حل کرنے میں آڑے آتی ہے پھر بھلے ہی حکمرانوں کی نیت کچھ بھی ہو۔ ان احتجاجوں کی قیمت ان فوائد سے کہیں زیادہ ہے جس کا احتجاج کرنے والوں کی قیادت نے اپنے لوگوں سے وعدہ کر رکھا ہے۔

یہ اداریہ ڈان اخبار میں 31 اکتوبر 2016 کو شائع ہوا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s