لوگ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟

کچھ لوگ بہت زیادہ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟ اس کا جواب آخرکار سائنس نے بتا دیا ہے۔ ایک انگریزی کہاوت ہے ‘ ایک بار کا جھوٹا، ہمیشہ کا جھوٹا’ اور اب معلوم ہوا ہے کہ اس میں سائنسی حقیقت بھی ہے۔ یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔ یونیورسٹی کالج لندن کی تحقیق کے مطابق چھوٹے جھوٹ بولنے کی عادت آخر کار بڑے اور سنگین جھوٹ بولنا انسان کے لیے آسان کردیتی ہے۔ اس حوالے سے 80 افراد کو ایک تجربے سے گزارا گیا جس میں انہیں سکے دے کر انہیں سچ یا جھوٹ بولنے پر مختلف مراعات دینے کا وعدہ کیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جب لوگ جھوٹ بولتے ہیں تو ان کے دماغ کے اس حصے جسے amygdala کہا جاتا ہے، جو کہ جذبات کے تجزیے کا کام کرتا ہے اس کی سرگرمی میں تبدیلی آتی ہے۔

 

تو جب شخص مسلسل جھوٹ بولتا ہے تو یہ حصہ کم سے کم متحرک ہونے لگتا ہے اور اس طرح جھوٹ بولنا آسان ہوجاتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص اپنے فائدے کے لیے جھوٹ بولتا ہے تو amygdala غیر متحرک ہونے لگتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ ذاتی مفاد بدیانتی کو جنم دیتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ اس دماغی حصے کی سرگرمیوں میں کمی کو ٹریک کرنے کے حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

یہ تحقیق جریدے نیچر نیورو سائنز میں شائع ہوئی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s