دنیا ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر؟

روس اور امریکہ کے باہمی تعلقات جس قدر خراب آج کل ہیں، سرد جنگ کے خاتمے کے بعد شاید ہی کبھی ہوئے ہوں۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ امریکی افسران حلب پر روس اور شامی فوجوں کے حملوں کو ‘بربریت’ کہہ رہے ہیں اور روس کو خبردار کر چکے ہیں شام میں جنگی جرائم کا ارتکاب ہو رہا ہے۔ دوسری جانب روسی صدر بھی واشنگٹن اور ماسکو کے تعلقات کی خرابی کا اظہار واضح الفاظ میں کر چکے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ اوباما انتظامیہ روس سے برابری کی سطح پر بات کرنے کی بجائے اس پر ‘حکم’ چلانا چاہتی ہے۔ اس کے باوجود شام کے معاملے میں روس اور امریکہ ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔ تند و تیز جملوں کے تبادلے اور الزامات کے باوجود، دونوں یہ جانتے ہیں کہ شام میں جاری ڈرامے کا جو بھی اختتام ہو گا، اس میں دونوں ممالک کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ ماسکو جانتا ہے کہ شام کی مستقل جنگ نہ امریکہ کے مفاد میں اور نہ ہی خود روس کے مفاد میں ہے۔

لیکن جب تک دونوں ممالک کے درمیان اعتماد پیدا نہیں ہوتا اور دونوں ایک دوسرے کی بات نہیں سمجھتے، اس وقت تک شام کے معاملے میں دونوں کے درمیان مذاکرات کی بنیادیں مضبوط نہیں ہو سکتیں۔ کسی کو یہ توقع نہ تھی کہ روس اور امریکہ کے تعلقات اتنے بگڑ جائیں گے، بلکہ اکثر لوگ یہ سمجھتے تھے کہ سرد جنگ کے خاتمے سے دونوں کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو جائیں گے۔ کچھ عرصے کے لیے روس نے خود کو عالمی معاملات سے پیچھے کر لیا تھا، لیکن اب وہ پورے زور و شور سے عالمی سٹیج پر واپس آ چکا ہے۔ اس کی شدید خواہش ہے کہ وہ ارد گرد کے ممالک میں اپنے کردار کو متسحکم کر لے اور اس تاثر کو غلط ثابت کرے کہ مغرب کے ہاتھوں اس کی سبکی ہوتی رہے گی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے حالات اس نہج تک پہنچے کیسے؟ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد روس اور مغرب ایک نئی قسم کے تعلقات قائم کرنے میں کیوں ناکام ہوئے؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا امریکہ نے اپنی حدود سے تجاوز کیا اور روس کے جذبات کی پرواہ نہیں کی، یا روس ابھی تک سوویت دور کی عظمت کو سینے سے لگائے بیٹھا ہے؟ روس اور امریکہ کے معاملات اتنے خراب کیوں ہو گئے ہیں، اور کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ دونوں میں ایک نئی سرد جنگ شروع ہو چکی ہے؟

میں یہاں ان سوالوں کے کوئی مفصل جواب نہیں دوں گا کیونکہ امریکہ اور روس کے تعلقات کی کہانی اتنی پُر پیچ ہے کہ اس موضوع سے انصاف کرنے کے لیے مجھے ٹالسٹائی کے ناول ‘وار اینڈ پِیس’ جتنی ضخیم کتاب لکھنا پڑے گی۔ بہرحال میری کوشش ہو گی کہ کچھ چیزیں آپ کے سامنے رکھوں۔ امریکہ کی جورج ٹاؤن یونیورسٹی سے منسلک تجزیہ کار پال آر پِلر کہتے ہیں کہ اس معاملے میں بنیادی غلطی خود مغرب کی ہے۔ پال آر پِلر کے خیال میں روس اور مغرب کے تعلقات خراب ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مغرب نے روس کو ایک ایسے ملک کی حیثیت سے قبول ہی نہیں جو اپنے کاندھے سے اشتراکیت کا طوق اتار چکا تھا۔ ان کے بقول ‘ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کمیونزم کے خاتمے کے بعد روس کو اقوام کی برادری میں خوش آمدید کہا جاتا، لیکن روس کے اس اقدام کو سراہنے کی بجائے مغرب نے روس کو سوویت یونین کا جانشین سمجھا۔ ایک ایسا ملک جس پر مغرب کبھی بھی اعتماد نہیں کر سکتا۔’

کیا مغرب نے روس کو اپنی برادری میں خوش آمدید نہ کہہ کر غلطی کی؟ آپ چاہیں تو اسے مغرب کا پہلا گناہ کہہ سکتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد نیٹو کا دائرہ اثر بڑھانے کے جوش میں مغرب نے پولینڈ، چیک ریپبلک اور ہنگری جیسے ان ممالک کو اس اتحاد میں شامل کر لیا جہاں قوم پرستی کی روایت بہت قدیم تھی اور یہ ممالک ماسکو کے تسلط کے خلاف ایک عرصے سے جد وجہد کر رہے تھے۔

لیکن نیٹو کا پھیلاؤ ان ممالک تک محدود نہ رہا بلکہ اس میں بلقان کی ان ریاستوں کو بھی شامل کر لیا گیا جن کے بیشتر علاقے سوویت یونین کا حصہ تھے۔ اسی لیے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جب جارجیا اور یوکرین کی مغربی مدار میں شمولیت کی بات ہوتی ہے، اور روس ان ممالک کے راستے میں روڑے اٹکاتا ہے تو ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

قصہ مختصر یہ کہ روس کو یقین ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی مغرب نے اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ صاف ظاہر ہے مغرب اس کو اپنی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مغرب سمجھتا ہے کہ روس ‘بزور بازو’ اپنے علاقے واپس لینا چاہتا ہے۔ مغرب کا خیال ہے کہ روسی سوچ کے اصل ترجمان صدر ولادی میر پوتن ہیں جن کا کہنا تھا کہ سوویت یونین کا ٹوٹنا 20 ویں صدی کا ‘سب سے بڑا سیاسی حادثہ’ تھا۔ اس حوالے سے امریکی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے حلقوں میں بحث جاری ہے کہ روس کا مؤقف درست ہے یا مغرب کا۔ کیا مغرب اور روس کے تعلقات میں سرد مہری کی ذمہ داری مغرب کی اس غلطی کو سمجھنا چاہیے کہ اس نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد روس کو قبول نہیں کیا یا ہمیں اس کی ذمہ داری روس کی حالیہ جارحانہ کارروائیوں پر ڈالنی چاہیے جس میں وہ جارجیا، شام اور یوکرین پر چڑھائی کر چکا ہے۔

برطانوی خفیہ ادارے (ایم آئی 6) کے سابق سربراہ اور اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سابق سفیر، سر جون سیورز کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں حالیہ برسوں میں روسی سفارتکاری کا بغور جائزہ لیا ہے۔ وہ سرد جنگ کے خاتمے کے دنوں کی بات نہیں کرتے، بلکہ ان کے خیال میں روس اور مغرب کے تعلقات کو ہمیں حالیہ برسوں کے واقعات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ گذشتہ دنوں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سر جون سیورز کا کہنا تھا کہ مغرب نے پچھلے آٹھ سالوں میں روس کے ساتھ سٹریٹیجک تعلقات بنانے پر خاص توجہ نہیں دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر واشنگٹن اور ماسکو یہ اصول طے کر لیتے کہ انھیں تعلقات کی اس راہ پر کیسے آگے بڑھنا ہے تو شام اور یوکرین جیسے علاقائی مسائل حل کرنا آسان ہو جاتا۔ اگر دونوں یہ تسلیم کر لیتے کہ وہ ایک دوسرے کے قائم کردہ نظاموں کو گرانا نہیں چاہتے، تو آج حالات بہتر ہوتے۔’ میں نے اس سلسلے میں کئی ماہرین سے بات کی اور انھوں نے بھی اوباما انتظامیہ کی سفارتکاری کی اس خرابی کے بارے میں اشارہ کیا کہ اس میں کوئی تنوع نہیں اور اکثر اوقات آپ کو سمجھ نہیں آتی کی امریکہ اصل میں کیا چاہتا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ بطور واحد عالمی طاقت، امریکہ کے اثر ورسوخ میں کمی آ رہی ہوں، لیکن کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کے پاس جو طاقت بچی ہے وہ اسے کیسے استعمال کرے۔ کیا واقعی امریکہ کا جھکاؤ ایشیا کی جانب ہو رہا ہے اور کیا واقعی یورپ اور مشرق وسطیٰ پر اس کی توجہ کم ہوتی جا رہی ہے یا یہ محض دکھاوا ہے؟

کیا امریکہ محض نعرے ہی لگاتا رہے گا یا ان پر عمل کرنے کے لیے اپنی طاقت بھی استعمال کرے گا؟ ہم جانتے ہیں کہ شام کی حد تک تو امریکہ صرف نعرے بازی ہی کرتا رہا ہے۔ اور کیا امریکہ کو واقعی معلوم ہے کہ اس نے ماسکو کے حوالے سے جو پالیسی اپنا رکھی ہے اس کے مضمرات کیا ہوں گے۔ سنہ 2014 میں جب روس نے کرائیمیا کو اپنے علاقے میں شامل کیا تھا تو مسٹر پوتن نے روسی پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اگر آپ کسی سپرنگ کو اس کی حد سے زیادہ دبائیں گے تو جب یہ واپس پلٹے گا تو آپ کو زخمی کر دے گا۔ یہ بات آپ کو یاد رکھنی چاہیے۔’ مسٹر پوتن کے اس بیان کے جواب میں قومی پالیسی کے موضوعات پر لکھنے والے امریکی جریدے ‘نیشنل انٹرسٹ’ نے اپنے ایک حالیہ شمارے میں لکھا کہ ‘سمجھداری کی بات یہ ہو گی کہ آپ سپرنگ پر دباؤ کو کم دیں اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اپنے بچاؤ کا بندوبست ضرور کر لیں۔’ ماضی میں جو بھی غلطیاں ہوئیں اور جو بھی ان غلطیوں کا ذمہ دار تھا، حقیقت یہ ہے کہ روس اور مغرب کے تعلقات خراب ہو چکے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی شام کے مسئلے پر امریکہ اور روس ایک دوسرے سے لڑنے جا رہے ہیں؟ میرا خیال ہے ایسا نہیں ہوگا۔ لیکن کیا ہم ایک نئی سرد جنگ کے دھانے پر کھڑے ہیں؟

پال پِلر کہتے ہیں کہ روس اور امریکہ کے حالیہ خراب تعلقات کے حوالے سے ‘سرد جنگ’ کے الفاظ استعمال کرنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے بقول ‘ آج عالمی سطح پر نظریات کی کوئی ایسی جنگ نہیں ہو رہی جو سرد جنگ کے دور میں تھی اور نہ ہی روس اور مغرب کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی دوڑ ہو رہی ہے۔

‘جو چیز باقی ہے وہ اثر ورسوخ اور عالمی غلبے کی لڑائی ہے اور اس حوالے سے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد روس کمزور ہوا ہے جبکہ امریکہ کی طاقت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور وہ آج بھی ایک سپر پاور ہے۔’

تو آئندہ ہو گا کیا؟

امریکہ میں صدارتی انتخابات کی مہم زوروں پر ہے اور ہو سکتا ہے کہ روس اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے۔ اور اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ وہ دنیا کے ان علاقوں میں جہاں تنازعات جاری ہیں، کچھ ایسا کرنے کو کوشش کر رہا ہے جو وائٹ ہاؤس کے نئے مکین کی مشکلات میں اضافہ کر دے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s