پاکستانی تاریخ میں صحافیوں پر پابندیاں

سنہ 1992 میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی اخبار دی نیوز کی ایڈیٹر تھیں۔ ان کی ادارت میں مقامی اخبار میں جب احتساب سے متعلق ایک طنزیہ نظم شائع کی گئی جس میں ذو معنی انداز میں وزیراعظم نواز شریف کی ہنسی اڑائی گئی تھی تو اخبار کی انتظامیہ کے خلاف بھی نقصِ امن کا مقدمہ درج کیا گیا جو کہ صحافی برادری کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد واپس لے لیا گیا۔ مئی 1999 میں نواز شریف کے ہی دورِ حکومت میں فرائڈے ٹائمز کے ایڈیٹر نجم سیٹھی کو گرفتار کر کے ان کے خلاف نقصِ امن کی فردِ جرم عائد کی گئی۔ ایک ماہ تک حراست میں رہنے کے بعد پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے ان کے خلاف مقدمات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انھیں رہا کر دیا تھا۔

حامد میر

سنہ 2014 میں جب جیو نیوز کے صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوا تو جیو ٹی وی چینل نے آئی ایس آئی کے سربراہ کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ اس وقت بھی اس الزام لگانے کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھتے ہوئے حامد میر کے بھائی عامر میر اور جیو نیوز پر بھی مقدمہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا نے جیو کا لائسنس 15 روز کے لیے منسوخ کرتے ہوئے چینل پر ایک کروڑ کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے غیر ملکی صحافی بھی ہیں جن کی صحافت نے وقتاًفوقتاً پاکستان کو ‘خطرے’ میں ڈال دیا۔ پاکستانی صحافیوں کو تو نقصِ امن یا بغاوت کے مقدمات سے خوف دلایا جاتا ہے مگر غیر ملکی صحافیوں کو ایسی صورت میں ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔

سنہ 2001 میں برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کو پاکستان سے نکال دیا گیا۔ ان کا موقف تھا کہ ان کے پاس کچھ ایسی معلومات تھیں کہ پاکستانی فوج کے کچھ اہلکار طالبان کمانڈرز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور اسی لیے انھیں نکالا گیا۔

سنہ 2003 میں دو فرانسیسی صحافیوں مارک ایپسٹین اور جان پال گوئیلاٹو، اور خبروں کے حصول اور رابطوں میں ان کی مدد کرنے والے خاور مہدی رضوی کو کراچی میں گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ دونوں فرانسیسی صحافی بغیر اجازت کے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ گئے تھے۔

ماضی قریب میں کسی غیر ملکی صحافی کو ملک بدر کیے جانے کا سب سے مشہور واقعہ شاید نیو یارک ٹائمز کے بیورو چیف ڈیکلن والش کو نکالے جانے کا تھا۔ مئی 2013 میں وزارتِ داخلہ کے اہلکار ڈیکلن والش کے گھر رات گئے آئے اور انھیں ایک خط دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ‘نا پسندیدہ’ کاموں کے پیشِ نظر ان کا پاکستان کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ڈیکلن والش کو اسی رات پولیس کے پہرے میں ایئر پورٹ جانا پڑا اور اب تک وہ پاکستان دوبارہ نہیں آسکے ہیں۔

2014 میں حکومتِ پاکستان نے بھارتی اخبار ‘دی ہندو’ کی نامہ نگار مینا میمن اور ‘پریس ٹریسٹ آف انڈیا’ کے نمائندے سنیش فلپس کو ملک بدر کر دیا۔ دونوں صحافیوں کا کہنا تھا کہ انھیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس اقدام کی وجہ کیا تھی تاہم اُس وقت چند تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ یہ دونوں صحافی پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی گرمی سردی کا نشانہ بنے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s