ڈان کے صحافی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا

انگریزی روزنامے ڈان کے رپورٹر سرل المائڈا نے کہا ہے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔ سینئر صحافی نے ٹوئٹر پر لکھا: ’مجھے بتایا گیا ہے اور شواہد دکھائے گئے ہیں کہ میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے۔‘ انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا: ’میں آج رات بہت اداس ہوں۔ یہ میری زندگی، میرا ملک ہے۔ کیا غلط ہو گیا۔‘ ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے لکھا: ’میرا کہیں جانے کا ارادہ نہیں تھا۔ یہ میرا گھر ہے۔ پاکستان۔`یاد رہے کہ اس ماہ کی سات تاریخ کو سرل المائڈا نے خبر دی تھی کہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سول اور فوجی قیادت کے درمیان دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے تھے۔ ادھر ڈان اخبار نے اس پر ردِعمل میں لکھا ہے کہ اس کی خبر، ’جسے ایوانِ وزیرِ اعظم نے من گھڑت قرار دیا ہے، اس کی متعدد بار تصدیق کی گئی تھی اور اس کے حقائق ہر طرح سے پرکھے گئے تھے،‘ اور یہ کہ ’ایک سے زیادہ ذرائع نے اس خبر کی تصدیق کی تھی۔‘

تاہم حکومت کی جانب سے اس خبر کی متعدد بار سختی سے تردید کی گئی ہے۔ صحافتی حلقوں میں ایک صحافی کا ای سی ایل میں ڈالنے پر شدید تنقید کی گئی ہے اور اکثر لوگوں نے المائڈا سے یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔  یہ خبر اس لحاظ سے بےحد حساس تھی کہ اس سے کچھ ہی عرصہ قبل انڈیا نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان میں قائم شدت پسند تنظیموں کے اراکین نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک فوجی کیمپ پر حملہ کر 18 فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ پاکستان نے اس کی تردید کی تھی۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات بےحد کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ گذشتہ روز وزیر اعظم ہاؤس کے پریس آفس کی طرف سے سول اور فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں جاری کردہ ایک بیان میں گذشتہ ہفتے ملک کے مقتدر اخبار ڈان میں ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئےاس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکا اس بات پر مکمل طور پر متفق تھے کہ یہ خبر قومی سلامتی کے امور کے بارے میں رپورٹنگ کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اس غلط اور گمراہ کن مواد جس کا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے کوئی تعلق نہیں تھا کی اشاعت سے قومی مفاد کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔ اسلام آباد میں نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ایوانِ وزیر اعظم کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں میاں نواز شریف نے ہدایت کی ہے کہ اس خبر کے ذمہ داروں کا سراغ لگا کر اُن کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاہم اس بیان سے یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ہدایات سرکاری اہلکاروں کے لیے ہیں جنھوں نے یہ معلومات افشا کی تھیں یا جس صحافی نے یہ خبر دی تھی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s