دنیا کے 10 ممالک جو تعلیم میں سب سے آگے ہیں

عالمی اقتصادی فورم نے اپنی سالانہ مسابقت رپورٹ میں دنیا کے سب سے پڑھے لکھے ممالک کی فہرست بھی پیش کی ہے۔ ادارہ مختلف معروضی و موضوعی پیمانوں کو استعمال کرکے یہ اشاریہ ترتیب دیتا ہے، جس میں ہر ملک کو ایک سے لے کر سات تک کا سکول دیا جاتا ہے، جو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی شرح جیسے عوامل کی بنیاد پر بنتا ہے۔ اس کے لیے ہر ملک میں کاروباری شخصیات سے پانچ سوالات کیے گئے۔ جیسا کہ ’’آپ کے ملک میں تعلیمی نظام ایک اچھی معیشت کی ضروریات کو کیسے پورا کرتا ہے؟‘‘ اور ’’آپ کے ملک میں ملازمین کی تربیت اور نمو میں ادارے کس حد تک سرمایہ کاری کرتے ہیں؟‘‘اس کے نتیجے میں جو ممالک آئے، ان میں سے ٹاپ 10 یہ ہیں:

10۔ نیوزی لینڈ سکور: 5.9 نیوزی لینڈ دنیا کے بہترین تعلیمی نظام رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ملک کا محکمہ تعلیم ہمیشہ جدت میں آگے ہوتا ہے۔ جیسا کہ ستمبر میں حکومت نے آن لائن تعلیمی کورسز متعارف کروانے کا منصوبہ پیش کیا ،جس میں طالب علموں کو ہفتے کے چند دن سکول آنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

9۔ آسٹریلیا سکور: 5.9 آسٹریلیا ایک انتہائی تعلیم یافتہ ملک ہے اور یہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ 43 فیصد افراد نے سکول چھوڑنے کے بعد کسی ادارے سے تربیت حاصل کر رکھی ہے، جو کینیڈا، جاپان، اسرائیل، کوریا، امریکا اور برطانیہ کے بعد سب سے زیادہ شرح ہے۔

8۔ امریکا سکور: 5.9 امریکا میں 43 فیصد آبادی یونیورسٹی تعلیم رکھتی ہے۔ یہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پانچویں سب سے بڑی شرح ہے۔

7۔ ناروے: ناروے میں ٹیکس کی شرح کافی زیادہ ہے اور یہی پیسہ تعلیم میں لگایا جاتا ہے۔ ملک پرائمری سے لے کر یونیورسٹی تعلیم تک فی طالب علم 14 ہزار ڈالرز سالانہ خرچ کرتا ہے، جو ترقی یافتہ ممالک میں تیسری سب سے بڑی شرح ہے۔

6۔ ڈنمارک سکور: 5.9 ڈنمارک ترقی یافتہ ممالک میں اپنی دولت کا سب سے بڑا حصہ تعلیم پر خرچ کرنے والا ملک ہے۔ ڈنمارک اپنے جی ڈی پی کا 7.9 تعلیمی اداروں پر لگاتا ہے۔ تعلیم کتنی بڑی ترجیح ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2008ء سے 2010ء کے دوران مالیاتی بحران کے دور میں بھی یہاں تعلیمی اخراجات میں کمی نہیں بلکہ اضافہ کیا گیا۔

5۔ بیلجیئم : بیلجیئم میں اعلیٰ تعلیم کا پورا پورا فائدہ ملتا ہے کیونکہ ملک میں یونیورسٹی سطح تک کی تعلیم رکھنے والوں میں بے روزگاری کی شرح صرف 3 فیصد ہے۔ دیگر سطح کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں بھی یہاں بے روزگاری کی شرح یورپ کے اوسط سے کم ہے۔ ملک میں تدریس بھی ایک اہم شعبہ ہے۔ اوسطاً یہاں اساتذہ کی تنخواہ 74 ہزار ڈالرز ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ اوسطاً 52 ہزار ڈالرز ہوتی ہے۔

4۔ سوئٹزرلینڈ سکور: 6.0 سوئٹزرلینڈ کی آبادی کی اکثریت مکمل ثانوی تعلیم رکھتی ہے: 25 سے 64 سال کی عمر کے افراد میں 86 فیصد۔ ملک اس پر بہت سرمایہ کاری بھی کرتا ہے۔ سالانہ ایک طالب علم پر 16 ہزار ڈالرز اوسطاً جبکہ یورپی یونین کا اوسط 9500 ڈالرز ہے۔

3۔ نیدرلینڈز سکور: 6.1 تعلیم کے کئی شعبوں میں ولندیزی آگے ہیں۔ 25 سے 64 سال کی ایک تہائی آبادی یونیورسٹی کی ڈگری رکھتی ہے، جو ترقی یافتہ ممالک میں بھی کافی آگے ہے کہ جہاں یہ اوسط 24 فیصد ہے۔

2۔ فن لینڈ سکور: 6.2 فن لینڈ کے تعلیمی نظام کو دنیا بھر میں قبول کیا جاتا ہے۔ یہاں اساتذہ کا انتخاب ملک کے ٹاپ 10 فیصد گریجویٹس میں سے کیا جاتا ہے اور ان کو تعلیم میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

1۔ سنگاپور سکور: 6.3 سنگاپور کا تعلیمی نظام دنیا بھر میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، لیکن اسے اپنی شدت اور سختی کی وجہ سے ’’پریشر ککر‘‘ بھی کہتے ہیں۔ ریاضی اور سائنس کی صلاحیت میں عالمی تقابل کرتے ہیں ،تو سنگاپور کا سکول سسٹم زیادہ تر پہلے نمبر پر آتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s