کامیاب آپریٹنگ سسٹمز جن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا

رواں صدی ٹیکنالوجی نے بے پناہ ترقی کی۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں کمپیوٹر نے انقلاب برپا کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو نئی جدتوں سے بھی متعارف کروایا۔ اسی طرح سمارٹ فونز، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپ اور سمارٹ واچز نے بھی اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ کمپیوٹرز کی موجودہ حالت کوئی آج کی ایجاد نہیں بلکہ کئی سالوں کی محنت، ترمیمات اور انجینئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔ لیکن ان تمام تر ایجادات میں آپریٹنگ سسٹم کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ آپریٹنگ سسٹم کے بغیر نہ تو یہ ایجادات کوئی کام سر انجام دے پاتی اور نہ ہی کوئی کامیابی حاصل کرتیں۔ دنیا بھر میں استعمال کیے جانے والے چند کامیاب آپریٹنگ سسٹمز ایسے ہیں جن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آج ہم آپ کو اُن آپریٹنگ سسٹمز سے متعارف کروائیں گے جو بار بار اپ ڈیٹ ہونے کی بنا پر شاید کبھی پُرانے نہیں ہونگے۔

1۔ مائیکرو سافٹ ونڈوز

20 نومبر 1985ء کو مائیکرو سافٹ نے ونڈوز نامی ایک آپریٹنگ سسٹم متعارف کروایا۔ مائیکرو سافٹ کمپنی کے مالک اور دنیا کے امیر ترین انسانوں کی فہرست میں شامل بل گیٹس نے فیصلہ کیا کہ وہ ورلڈ ٹریڈ مارکیٹ میں ایک ایسا پرسنل کمپیوٹر (PC) متعارف کروائیں گے جو باقی تمام آپریٹنگ سسٹم کو مات دے گا۔ یہاں تک کے 1984ء میں سامنے آنے والا مقبول ترین آپریٹنگ سسٹم Mac OS بھی ونڈوز کا مقابلہ نہ کر سکا اور ناکام ٹھہرا۔ ونڈوز کی وجہ سے Mac OS کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔ تاہم ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کو آپ ایک شاہکار کہہ سکتے ہیں وہ اس وجہ سے کہ دنیا بھر کے لوگوں نے اسے بلا جھیجک قبول کیا اور 2006ء تک پوری دنیا میں ونڈوز کا استعمال کیا جانے لگا۔

ونڈوز کے پہلے ورژن کا نام ’’ونڈوز 1.01‘‘ رکھا گیا جس کی تقریباً 14 سیریز منظرِ عام آئی جبکہ اس کے بعد کے مشہور ونڈوز ورژن میں ونڈوز 95 اور 98، 2000، ME، XP، Vista، 7، 8 اور 10 سرِفہرست ہیں۔ ان تمام ورژنز میں سب سے زیادہ مقبولیت ونڈوز XP، 7 اور 10 نے سمیٹی۔ تاہم Mac کی سکیورٹی ونڈوزکے مقابلے میں قدرِ بہتر ہے۔ اکتوبر 2010 میں نوکیا کے اشتراک سے مائیکرو سافٹ ونڈوز کا پہلا سمارٹ فون منظرِ عام پر آیا۔ اس کے بعد مائیکرو سافٹ نے نوکیا سمیت ایچ ٹی سی، سیم سانگ، ٹی موبائل اور دیگر مشہور کمپنیز کے اشتراک سے بھی کئی سمارٹ فونز متعارف کروائے۔ شروعات میں تو ان سمارٹ فونز نے خوب بزنس کیا، لیکن اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی کے آجانے کے بعد ونڈوز فونز کی مارکیٹ گر گئی۔

2۔ اینڈرائیڈ

ہر نئی ٹیکنالوجی کی کامیابی کا ایک محدود دورانیاں ہوتا ہے۔ اِس دورانیے کے بعد نئی چیز کا مقام و مرتبہ اور مقبولیت تک ختم ہو جاتی ہے۔ اسی کڑوے سچ کا سامنا ونڈوز کو کرنا پڑا۔ 2013ء تک اینڈرائیڈ مکمل طور پر مارکیٹ میں ونڈوز کی جگہ لینے میں کامیاب ٹھہرا۔ اور رواں سال میں پوری دنیا کے 80 فیصد موبائل فونز میں اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کے اینڈرائیڈ کو اس کی مقبولیت کے پیش نظر 100 زبانوں میں ترتیب دیا گیا۔ جبکہ اس کی ایجاد کا سہرا اینڈی رابن نامی ایک امریکن سافٹ وئیر انجینئر کے سر ہے۔ بقول رابن اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی 2003ء تک مکمل طور پر بن چکی تھی۔ تاہم 25 جولائی 2005ء کو گوگل نے 50 ملین ڈالر کے عوض رابن سے اینڈرائیڈ خرید لیا اور خود رابن کو ہی اپنا ملازم رکھ لیا کیونکہ اس وقت رابن اینڈرائیڈ کے بارے میں سب سے بہتر جانتے تھے۔ اینڈرائیڈ کے کامیاب ترین ورژنز میں 4.1 (جیلی بینز)، 4.4 (کٹ کیٹ)، 5.0 (لالی پاپ) اور 6.0 (مارش میلو) سرِفہرست ہیں۔

3۔ ایپل

25 جون 1978ء کو ایپل نے ’’ایپل DOS 3.1‘‘ نامی اپنا پہلا کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم متعارف کروایا۔ ایپل ٹیکنالوجی کے ایجاد کاروں میں سٹیو جابز، سٹیو ووزنیاک، رونلڈ وائن شامل ہیں۔ سٹیو ووزنیاک نے بذاتِ خود اپنے ہاتھ سے لکڑی کا بورڈ استعمال کر کے اپنے پہلے کمپیوٹر کی کٹ تیار کی۔ سٹیو جابز نے جب اپنے تیار کیے اس نمونے کو مقامی کمپیوٹر کلب میں متعارف کروایا تو کئی بڑے انویسٹرز نے اس ٹیکنالوجی کو کامیابی دلوانے کی حامی بھری۔ اس سب کے بعد سے ہی ایپل نے اپنی کامیابی کی پہلی اُڑان بھری۔ یہاں تک کہ 1980ء کو ایپل نے IBM اور مائیکروسافٹ کے مقابلے میں اپنا تیسرا ’’ایپل 3‘‘ نامی کمپیوٹر پیش کیا جسے بے پناہ مقبولیت ملی۔ جوبز کو بہت جلد ہی یہ معلوم ہو گیا کہ آنے والے زمانے میں تمام کمپیوٹرز گرافیکل طور پر خوبصورت بنائیں جائیں گے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے ایپل آپریٹنگ سسٹم میں بہت سی گرافیکل تبدیلیاں کیں۔

ایپل III کے بعد ایپل کے کامیاب آپریٹنگ سسٹمز میں مچنٹوز پورٹیبل جسے لیپ ٹاپ کی پہلی شکل کہہ جا سکتا ہے اور بعد میں پین لائیٹ جسے ٹیبلٹ کی پہلی شکل کہا جا سکتا ہے اور اس کے بعد نیوٹن جسے ٹچ سمارٹ فون کی پہلی شکل کہا جا سکتا ہے سرِ فہرست ہیں۔ سن 2006ء میں ایپل کی پہلی میک بک ریلیز کی گئی جسے حرف عام میں لیپ ٹاپ بھی کہا جاتا ہے، یہ میک بک ایپل کی پہلی ڈیوائس تھی جس میں نامی گرامی پروسیسر پروڈکشن کمپنی انٹل کا بنایا گیا پروسیسر نصب کیا گیا۔ ستمبر 2011ء تک ایپل دنیا کا دوسرا سب زیادہ استعمال کیا جانے والا آپریٹنگ سسٹم بن چکا تھا۔ اینڈرائیڈ کی وجہ سے ایپل کو طرح طرح کے چیلینجز کا سامنا رہا۔ لیکن اپنی معیاری و منفرد ورائٹی اور بہترین سکیورٹی سسٹم کی بنا پر ایپل آج تک مارکیٹ میں جگہ بنائے ہوئے ہے۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والا آئی فون 6 اس کی زندہ مثال ہے۔

دانش احمد انصاری

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s