دنیا کی خطرناک ترین جیل کی بھیانک کہانی

دنیا کے مختلف ممالک میں خوفناک جیلیں موجود ہیں، جہاں خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ عموماً ان جیلوں میں ایسے قیدی رکھے جاتے ہیں، جن کے بارے میں یہ یقین ہو چلا ہو کہ ان کا ’’راہِ راست‘‘ پر آنا ممکن نہیں، تاہم بعض جیلوں میں ان ’’خطرناک قیدیوں‘‘ کے ساتھ بھی ایسا انتہائی افسوسناک اور غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے کہ دنیا بھر کی تنظیمیں اس پر احتجاج کیے بغیر نہیں رہ پاتیں۔ افریقا کے کیپ ٹاون میں واقع ’’پولسمور جیل‘‘ کو بھی قیدیوں کو دی جانے والی اذیت کے اعتبار سے دنیا کی سخت ترین جیل کہا جاتا ہے۔ آزادی کی علامت سمجھے جانے والے افریقی ہیرو آنجہانی نیلسن منڈیلا کو بھی پولسمور جیل میں ڈالا گیا تھا۔ 1960 میں بننے والی جیل کی سختی کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ 19 افراد کے کمرے میں 80 افراد کو رکھا جاتا ہے۔

 پوری جیل میں صرف 1619 افراد کی گنجائش ہے، تاہم اس وقت یہاں 4284 قیدی ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ چمٹے رہنے کی وجہ سے قیدیوں میں انتہائی خطرناک جسمانی امراض پیدا ہوتے ہیں جبکہ صفائی کا کوئی انتظام نہ ہونے کے باعث کھٹمل، جوئیں اور پسو بھی کثرت سے ہیں۔ اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ 4ہزار قیدیوں کے لیے صرف ایک بیت الخلا بنا ہے، جہاں ہروقت ہزاروں قیدی قطار بنائے اپنی باری کے منتظر رہتے ہیں۔ سردی اور گرمی سے بچائو کے لیے جیل میں کسی قسم کی سہولت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ جنوبی افریقا کی جیلیں قیدیوں کی شرح کے اعتبار سے دنیا بھر میں 11 ویں نمبر پر ہیں۔ افریقا کے تیسرے بڑے شہر کی حیثیت کے ساتھ کیپ ٹاون دنیا کے 10خطرناک ترین شہروں میں بھی ایک ہے۔ 2015 میں قتل کے واقعات کی تعداد کے اعتبارسے کیپ ٹاؤن کو عالمی سطح پر 9 ویں حیثیت حاصل رہی اور ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s