چین نے مسعود اظہر پر پابندی کی بھارتی کوشش پھر ناکام بنا دی

چین نے اقوام متحدہ میں ہندوستان کی جانب سے کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی درخواست پر ایک بار پھر ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے اپنے اعتراض میں مزید 6 ماہ کی توسیع کردی۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مطابق چین نے اس سے قبل اپریل میں بھی ہندوستان کی درخواست پر ’تکنیکی اعتراض‘ اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ سے درخواست کی تھی کہ وہ فی الحال اس پر عمل درآمد نہ کرے۔ چین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراض کی مدت ختم ہونے میں دو روز باقی تھے کہ چین نے اپنے اعتراض کو مزید 6 ماہ کی توسیع دینے کا اعلان کردیا۔ اگر چین دوبارہ اس پر اعتراض نہ اٹھاتا تو مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کے عمل میں پیش رفت کی راہ ہموار ہوجاتی۔

بھارت کا الزام ہے کہ جیش محمد اور اس کے سربراہ مسعود اظہر پٹھان کوٹ ایئر بیس میں ہونے والے حملے میں ملوث ہیں۔ یاد رہے کہ یہ حملہ دسمبر 2015 میں وزیر اعظم نواز شریف کی سالگرہ اور نواسی کی شادی کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اچانک دورہ لاہور کے چند دنوں بعد ہی ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے بیجنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ’مارچ 2016 میں ہندوستان کی جانب سے 1267 کمیٹی میں جمع کرائی جانے والی پابندی کی درخواست پر چین اپنے تکنیکی اعتراض میں توسیع کرچکا ہے اور بھارت کی درخواست پر اختلاف رائے موجود ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’درخواست پر تکنیکی اعتراض کی مدت میں اضافے سے کمیٹی کو اس معاملے پر مزید غور کا موقع ملے گا جبکہ فریقین کو بھی مزید مشاورت کا وقت مل جائے گا‘۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق 31 مارچ 2016 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن چین نے کونسل کی پابندی کمیٹی کے ذریعے مسعود اظہر پر پابندی لگانے کی کوشش کو ویٹو کردیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں چین واحد رکن تھا جس نے بھارت کی درخواست پر اعتراض اٹھایا تھا جبکہ دیگر ارکان نے مسعود اظہر کو 1267 پابندی کی فہرست میں شامل کرنے کے اقدام کی حمایت کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ 2009 سے چل رہا ہے جب چین اور برطانیہ نے اس معاملے پر تکنیکی اعتراض اٹھادیا تھا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی 1267 کمیٹی سیکیورٹی کونسل کے متلعقہ قراردادوں کے مطابق کام کرتی ہے اور چین کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ فہرست میں نام شامل کرنے کے معاملے پر 1267 کمیٹی کو معروضیت، غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ اصولوں پر کاربند رہنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کے فیصلے ٹھوس شواہد پر مبنی ہونے چاہئیں اور تمام فیصلے سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان اتفاق رائے سے ہونے چاہئیں۔

چین کی جانب سے ایک بار پھر اعتراض اٹھائے جانے پر نئی دہلی کا باضابطہ رد عمل سامنے نہیں آیا تا ہم انڈین ایکسپریس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اکتوبر کے وسط میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقا (BRICS) ممالک کے اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے اس معاملے پر بات کرسکتے ہیں۔

مارچ میں مسعود اظہر کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندی کمیٹی سے رابطہ کرنے سے قبل ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ کا کہنا تھا کہ ‘ہم مسعود اظہر کا نام پابندی کی فہرست میں شامل کروانے کے لیے 1267 پابندی کمیٹی سے رابطہ کریں گے۔ یہ خلاف معمول بات ہے کہ ایک تنظیم کا نام تو فہرست میں موجود ہے، لیکن اس کے رہنما کا نام اس میں شامل نہیں ہے’۔

یاد رہے کہ 18 فروری کو ‘ہندوستان میں دہشت گردی سے منسلک’ 11 افراد اور تنظیموں کی فہرست 2253/1989/1267 داعش اور القاعدہ سینکشنز کمیٹی کو پیش کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے 2001 میں جیش محمد پر پابندی عائد کی تھی لیکن ہندوستان کی جانب سے ممبئی حملوں کے بعد مسعود اظہر پر پابندیاں عائد کروانے کی کوشش اُس وقت کامیاب نہ ہوسکیں جب چین نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔ یاد رہے کہ مولانا مسعود اظہر کو ہندوستان میں 1994 میں گرفتار کیا گیا تھا، تا ہم ان کو اور دیگر دو افراد عمر شیخ اور مشتاق زرگر کو ہائی جیک کیے گئے ایک طیارے کے مسافروں اور عملے کے بدلے میں رہا کرنے پر مجبور کیا گیا، اس طیارے کو 1999 میں ‘حرکت المجاہدین’ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے کھٹمنڈو سے ہائی جیک کیا تھا اور اسے افغانستان کے علاقے قندھار میں لینڈننگ کے لیے مجبور کیا گیا۔ عمر شیخ کو 2002 میں کراچی میں وال اسٹریٹ جرنل کے رپورٹر ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ مشتاق زرگر کے مظفر آباد میں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ مولانا مسعود اظہر کے بھائی رؤف کو مذکورہ ہائی جیکنگ کا ماسٹر مائنڈ تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان آمد کے بعد مولانا مسعود اظہر نے 2000 میں حرکت المجاہدین سے علیحدگی اختیار کی اور اپنی ایک تنظیم جیش محمد قائم کی۔ بین الاقوامی دباؤ کے باعث سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے 2002 میں جیش محمد پر پابندی عائد کردی تھی، جس کے بعد مولانا مسعود نے اس کا نام تبدیل کر کے ‘جماعت الفرقان’ رکھا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s