جب ترک صدر نے پرویز مشرف کو کھری کھری سنا دیں

دنیا بھر میں جہاں جمہوریت کو پذیرائی دی جاتی ہے وہیں جمہوری حکمرانوں کے تختے الٹنے والوں پر کڑی تنقید بھی کی جاتی ہے۔ ایسی تنقید پاکستان میں حکومت کا تختہ الٹنے والے جنرل مشرف کو بھی سہنا پڑی۔ کرامت اللہ غوری اپنی کتاب بارشناسائی میں لکھتے ہیں، منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پرویز مشرف نے ترکی جانے کی ٹھانی۔ اتفاق سے اس وقت ترکی کے صدر اور وزیر اعظم دونوں اپنی فوج کے ہاتھوں ڈسے ہوئے تھے۔ لہٰذا پہلی ہی ملاقات میں ترک صدر سلیمان دیمرل نے پرویزمشرف کو کھری کھری سنائیں۔  نوک جوک نامی ایک بلاگ کے مطابق اس وقت کے ترک صدر سلیمان دیمرل نے مشرف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،”جنرل! مجھے عملی سیاست میں پچاس برس سے زیادہ ہو چکے ہیں اور اس طویل عرصے میں جس عمل نے میرے ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، وہ سیاست میں فوج کی مداخلت ہے۔

ہمارے جرنیلوں کے دماغ میں بھی یہ خناس تھا کہ وہ ملک کو سدھار سکتے ہیں لیکن ہر بار وہ جب اپنا تماشہ دکھا کے واپس بیرکوں میں گئے تو حالات پہلے کی نسبت اور خراب کر گئے۔ جنرل !دنیا کی کوئی فوج کسی ملک کی تقدیر نہیں سنوار سکتی۔ یہ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ مجھے پاکستان سے محبت ہے اور تمہیں میں اپنا چھوٹا بھائی سمجھتا ہوں۔ لہٰذا بڑا بھائی ہونے کے ناطے میرا مشورہ یہ ہے کہ جتنی جلد ہو سکے، اقتدار سیاست دانوں کو واپس کرو اور اپنی بیرکوں کو لوٹ جاو۔“ ترک وزیراعظم نے بھی پرویز مشرف کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان تمام نقصانات کی فہرست گنوائی جو سیاسی عمل میں فوج کی مداخلت سے ترکی میں پیدا ہوئے اور دنیا کے ہر اس ملک میں ہو سکتے تھے جہاں فوج زبردستی اپنی حکمرانی مسلط کرتی ہو۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s