پاکستان جیسا خوبصورت ملک کہیں نہیں دیکھا : مہم جو لکھاری، فوٹو گرافر اور سیاح ول ہیٹن

ول ہیٹن ایک لکھاری اور فوٹوگرافر ہے، مہم جوئی اُن کو پسند ہے اور سفر کرنا اُن کا شوق۔ وہ برطانیہ سے لے کر پاپوا نیوگنی تک طویل اسفار کرچکے ہیں اور مختلف اوقات میں قریباً70 ممالک کا سفر کرچکے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک بلاگ ’’ پاکستان کا سفر کرنے کی وجوہات‘‘ لکھا ہے، جو کافی مشہور ہوا ہے۔ یہاں قارئین کے لیے اُن کے بلاگ کا ترجمہ پیش خدمت ہے: ’’جب میں نے پہلی بار اپنی ماں کو بتایا کہ میں پاکستان جانے کا منصوبہ بنارہا ہوں تو وہ پریشان ہوگئیں۔ پاکستان ایسا ملک ہے، جسے میڈیا میں جنگ زدہ اور جہنم جیسا ملک ظاہر کیا جا تا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ سیاحت نامی کوئی شے پاکستان میں نہیں، لیکن ہر سال مہم جوئی کے شوقین مہم جو اپنا سامان باندھتے ہیں اور پاکستان کا سفر کرتے ہیں، میں ان میں سے ایک بننا چاہتا تھا۔

پاکستان کا سفر ایک ایسا تجربہ ہے، جو مایوس کن بھی ہوسکتا ہے، ذہن کو روشن اور زندگی کو تبدیل کر دینے والا بھی، لیکن سب سے زیادہ یہ حیران کن ہے۔ پاکستان کو ایڈونچر کرنے کے دلدادہ افراد کی جنت کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ بوریا بستر باندھیں اور پاکستان کا سفر کریں اور اس کی چند وجوہات یہ ہیں: حیران کن لوگ پاکستان کے عوام بلاشبہ دنیا کے سب سے مہمان نواز، با اخلاق اور تپاک کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کرنے والے ہیں۔ میں نے ایسے لوگ کہیں نہیں دیکھے۔ لاہور کی ہنگامہ خیز گلیوں سے لے کر ہنزہ کے خاموش پہاڑی قصبوں تک، جب بھی کسی مقامی شخص نے مجھے دیکھا، تو ایک بڑی سی مسکراہٹ، میں نے اس کے چہرے پر دیکھی اور کئی مرتبہ مجھے کھانے پر دعوت دی گئی۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کتنی مرتبہ مفت کی چائے پی بلکہ ایک مرتبہ تو رحمان نامی ایک شخص مجھے اپنے پہاڑی گاؤں میں واقع اپنے چھوٹے سے گھر لے گیا۔ میں اُن کے ساتھ قریباً ایک ہفتہ رہا، قریبی گلیشیرز پر ہائیکنگ کی، اُن کے بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلی۔

میں نے اپنے دنیا بھر کے سفر میں دوستیاں قائم کیں، لیکن جیسی حقیقی اور سچی دوستیاں پاکستان میں بنیں، وہ کہیں نہیں۔ مجھے ملک میں کئی جگہ اجنبی افراد کی جانب سے اپنے گھروں میں دعوت دی گئی، وہ مجھے کھانا کھلانے پر ایسے زور دیتے، جیسے میں بادشاہ ہوں اور ساتھ ہی قریبی علاقوں کی سیر بھی کرواتے، میں اپنے ان دوستوں سے دوبارہ ضرور ملوں گا۔ ناقابلِ یقین مناظر نقشے کے بارے میں معمولی سا علم رکھنے والے بھی یہ بات جانتے ہیں کہ پاکستان اپنے پہاڑوں ، وادیوں، دریاؤں، گلیشیرز اور جنگلات کی وجہ سے مشہور ہے اور یہ ایک ایسا ملک ہے، جس میں کئی حیرت انگیز مقامات ہیں۔ دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے پانچ پاکستان میں ہیں، جن میں مشہور اور خطرناک ترین کے ٹو بھی ہے۔ اگر آپ کوہ پیمائی، پہاڑی دریاؤں میں کشتی رانی یا ٹریکنگ کے شوقین ہیں، تو پاکستان آپ ہی کے لیے ہے۔ میں نے قریباً 70 ممالک کا سفر کیا ہے اور میں نے پاکستان جیسا مختلف الانوع اور خوبصورت ملک کہیں نہیں دیکھا۔ یہاں کئی ایسے پہاڑ ہیں جنہیں کبھی سر نہیں کیا گیا، جو کسی مہم جو کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہاں سب کچھ ممکن ہے پاکستان ویسا نہیں، جیسا آپ سمجھتے ہیں یا توقع رکھتے ہیں۔ جب میں لاہور میں تھا تو چند افراد کو معلوم ہوگیا کہ ایک مہم جو آیا ہوا ہے اور اس سے پہلے کہ مجھے معلوم ہوتا انہوں نے ایک خاص پارٹی کا انتظام کرکے مجھے مدعو کیا۔ میں گیا، سکیورٹی اہلکاروں نے تلاشی لی، مہمانوں کی فہرست میں میرا نام دیکھا اور مجھے چھوڑ دیا۔

ایک انٹرنیشنل ڈی جے تھے اور کئی نوجوان، امیر اور خوبصورت پاکستانی اس پارٹی میں موجود تھے۔ یہ ایک زبردست رات تھی اور میری زندگی کی بہترین پارٹیوں میں سے ایک! پاکستان محفوظ ہے حال ہی مجھے پاکستان کے حوالے سے کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں سب سے زیادہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا پاکستان محفوظ ہے؟ جواب بالکل سادہ سا ہے، جی ہاں! جب تک کہ افغان سرحد کے ساتھ کے علاقوں سے دور رہیں۔ بلاشبہ پاکستان کبھی کبھی دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں آتا ہے، جب میں وہاں تھا تب بھی دو واقعات پیش آئے، لیکن اس وقت تو دنیا کا ہر ملک ان خطرات سے دوچار ہے اور آپ گھر میں ہوتے ہوئے بھی محفوظ نہیں۔ دراصل میڈیا خوف اور تعصب بہت پھیلاتا ہے، آپ ہرگز اس سے متاثر نہ ہوں۔ پاکستانی شدت پسندی کے سخت مخالف ہیں اور ان کی افواج اس وقت شدت پسند عناصر کو بُری طرح کچل رہی ہے اور آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر قیمت پر کام کررہی ہیں۔ کبھی کبھار آپ کو پولیس کے قافلے میں سفر کرنا پڑسکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ خطرناک علاقہ ہی ہے۔ یہ اصل میں مقامی پولیس کا حفاظتی قدم ہوتا ہے۔

پاکستان ماضی میں برطانوی اقتدار میں رہا ہے، اس لیے کسی نہ کسی حد تک لوگوں کو انگریزی بولنا آتی ہے، ورنہ مسکراہٹ کی زبان ہی دوستی کے لیے کافی ہوتی ہے۔ تاریخی شاہراہ ریشم پاکستان کا سفر دراصل تاریخ میں قدم رکھنا ہے۔ مارکوپولو پہلے یورپی مہم جو تھے، جنہوں نے تاریخی شاہراہ ریشم پر قدم رکھا جو ایک قدیم تجارتی راستہ ہے، جو رومی سلطنت کو چین کے ساتھ ملاتا ہے۔ اس کا مرکزی حصہ برصغیر، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے درمیان کوہ قراقرم میں سے گزرتا تھا۔ آج یہاں شاہراہ قراقرم واقع ہے، جو ناقابل یقین مناظر بھی فراہم کرتی ہے اور یہاں تاریخ کے قدم بقدم چلا جا سکتا ہے۔ سستا ترین ملک ہے جن ملکوں کا میں نے سفر کیا، ان میں پاکستان دوسرا سب سے سستا ملک ہے۔ صرف 100 ڈالرز میں پورا ہفتہ گزارنا ممکن ہے، جس میں کھانا پینا، رہائش، ٹرانسپورٹ اور کئی سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگر آپ کے پاکستانی دوست ہیں، تو وہ آپ کی ساری ذمہ داریاں خود نبھانے کو تیار ہو جاتے ہیں، اس معاملے میں وہ ناقابل یقین حد تک فیاض ہیں۔ میں نے کئی بار کھانے کا بل ادا کرنے کی کوشش کی، لیکن میزبانوں نے کبھی ایسا نہیں کرنے دیا۔ رہائش البتہ کافی مہنگی ہوسکتی ہے، لیکن یہاں کیمپنگ کے لیے بہترین مقامات بھی ہیں۔ شاندار ٹریکس پاکستان ٹریکنگ کے لیے دنیا کا بہترین ملک ہے، نیپال سے بھی بہتر۔ پاکستان میں سیکڑوں ایسے مقامات ہیں جہاں ٹریکنگ کی جاسکتی ہے، عام سے دن بھر کے ٹریک سے لے کر کئی ہفتوں پر مشتمل مہمات تک۔ سست ترین مہم جو بھی شاندار مناظر کا لطف اُٹھا سکتے ہیں۔ میں نے جن ٹریکس کا لطف اُٹھایا، اُن میں سب سے زبردست فیری میڈوز تھا، جہاں ہم نے نانگا پربت کے شاندار نظاروں کے ساتھ تین دن گزارے۔ کثیر الثقافتی ملک پاکستان کو عام طور پر میڈیا میں مذہبی عدم برداشت کا حامل ملک دکھایا جاتا ہے، جو حقیقت سے کافی دور ہے۔

آپ کو پاکستان کے کئی شہروں میں مسلمان، عیسائی اور ہندو ساتھ ساتھ رہتے ہوئے نظر آئیں گے۔ چترال کے علاقے میں کالاش کا قبیلہ بھی ہے، جو دراصل سکندر اعظم کی افواج کی اولاد ہیں، جو فوج سے بھاگ کر یہاں رہ گئے تھے اور آج تک رہ رہے ہیں۔ پاکستان میں نئے رنگ، ذائقے، مناظر اور خوشبوئیں آپ کو ہر طرف ملیں گی۔ ایڈونچر کے لیے بہترین جگہ مختصر یہ ہے کہ پاکستان ایڈونچر کے لیے بہترین میدان فراہم کرتا ہے۔ یہاں سب کچھ ہے: دوستانہ مقامی آبادی، شاندار مناظر، ناقابل یقین ٹریکس، پہاڑی دریاؤں میں زبردست کشتی رانی، غیر دریافت شدہ مہم جوئی کے مقامات، رنگین میلے، مزیدار کھانے اور آپ کو مصروف عمل رکھنے کے لیے ایک کے بعد ایک پُرجوش مقام۔ یہ ایسا ملک ہے جس کے سفر کے لیے صرف چند وجوہات پیش کرنا کافی نہیں، یہاں سب کچھ ہے۔ میں اگلے سال ایک مرتبہ پھر ہنزہ جاؤں گا اور میرا ارادہ ہے کہ میں پاکستان کے سفر پر جانے کے لیے مزید افرادکو تیار کرنے کی خاطر انہیں آمادہ کروں!!۔

(اُردو ٹرائب سپیشل)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s