لہو میں بھیگے تمام موسم گواہی دیں گے, کہ تم کھڑے تھے

لہو میں بھیگے تمام موسم

گواہی دیں گے کہ تم کھڑے تھے

وفا کے رستے کا ہر مسافر

گواہی دے گا

کہ تم کھڑے تھے

سحر کا سورج گواہی دے گا

کہ جب اندھیرے کی کوکھ میں سے نکلنے والے یہ سوچتے تھے

کہ کوئی جگنو نہیں بچا ہے

تو تم کھڑے تھے

تمہاری آنکھوں کے طاقچوں میں

جلے چراغوں کی روشنی نے

نئی منازل ھمیں دکھائیں

تمہارے چہرے کی جھریوں نے

ھے ولولوں کو نمود بخشی

 

ہماری دھرتی کے جسم سے جب ھوس کے مارے

سیاہ جونکوں کی طرح چمٹے

تو تم کھڑے تھے

تمہاری ہمت،تمہاری عظمت اور استقامت

تو وہ ہمالہ ہے جس کی چوٹی تلک پہنچنا

نہ ہم میں پہلے کسی کےبس میں

نہ آنے والے دنوں مں ہوگا

سو آنے والی تمام نسلیں گواہی دیں گی

کہ تم کھڑے تھے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s