پاکستانیوں کی دبئی میں 85 ارب روپے مالیت کی پراپرٹی

رواں سال کے نصف عرصے میں پاکستانیوں نے دبئی میں 3 ارب اماراتی درہم (85 ارب روپے) کی پراپرٹی خریدی، جبکہ ہندوستانیوں نے 7 ارب اور برطانوی شہریوں نے چار ارب درہم کی جائیدادیں خریدیں۔ دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال میں پاکستانیوں نے دبئی کی رئیلٹی مارکیٹ میں 18 ارب درہم (512 ارب روپے) سے بھی زائد رقم کی سرمایہ کاری کی۔ 2015 میں غیر ملکیوں میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والے ہندوستانی تھے۔ ان کے 8 ہزار 7 سو 56 سرمایہ کاروں کی جانب سے 20 ارب درہم کی پراپرٹی ٹرانزکشن کی گئی، جبکہ 4 ہزار 8 سو 89 سرمایہ کاروں کی جانب سے 10 ارب درہم کی پراپرٹی ٹرانزکشن کے ساتھ برطانوی دوسرے نمبر پر رہے۔

دوسری جانب 6 ہزار 106 سرمایہ کاروں کی جانب سے 8 ارب درہم کی پراپرٹی ٹرانزیکشن کے ساتھ پاکستانی تیسرے نمبر پر رہے۔ سال 2014 میں پاکستانی 5 ہزار 79 کی ٹرانزیکشن کے ساتھ 7 اعشاریہ 59 درہم کی سرمایہ کاری کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ ہندوستانیوں نے 7 ہزار 335 ٹرانزیکشنز کے ساتھ 18 اعشاریہ 1 ارب درہم مالیت کی جائیدادیں خریدیں، جبکہ برطانوی شہریوں نے 9 اعشاریہ 32 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی۔ اس حوالے سے کلفٹن میں موجود پاریکھ اسٹیٹ کے مالک عبدالوہاب پاریکھ نے بتایا کہ، ‘مقامی تاجروں کے بجائے ہمارے سیاستدان، بیوروکریٹس اور کچھ دیگر خریداروں نے دبئی میں پراپرٹی خریدی ہے۔ تاجروں نے ٹیکس ریٹرنز پر دہندگان اور نادہندگان پر 0.3 سے 0.6 فیصد کے وِد ہولڈنگ ٹیکس متعارف ہونے کے بعد اپنے پیسے نکال کر بیرون ملک منتقل کردیئے ہیں’۔

دوسری جانب مقامی مارکیٹ میں موجود پراپرٹی ڈیلرز نئے ویلیو ایشن ریٹس متعارف ہونے کے بعد مستقبل کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ بے اثر ہو چکی ہے۔ عبد الوہاب پاریکھ کا کہنا ہے کہ پراپرٹی کے لیے نئی ویلیو ایشن قیمتوں کے بعد مقامی تاجروں نے دبئی میں پراپرٹی خریدنا شروع کردی ہے کیونکہ ایک سال سے بھی زائد عرصے سے مارکیٹ میں قیمتیں گراوٹ کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی ویلیوایشن کی قیمتیں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کلفٹن کے لیے تو قابل جواز دکھائی دیتی ہیں مگر کراچی کے دیگر علاقوں کی ویلیو ایشن قیمتیں حد سے زیادہ ہیں۔

انھوں نے بتایا، ‘میں حیران ہوں کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبائی حکومت کے بجائے وفاقی حکومت نے ویلیوایشن قیمتیں ترتیب دی ہیں، جسں معاملے پر صوبائی حکومت فیصلے کا اختیار رکھتی ہے وہاں وفاقی حکومت مداخلت نہیں کر سکتی’۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ‘یکم جولائی سے مارکیٹ میں خرید و فروخت مناسب رہی ہے، جبکہ جولائی سے قبل صرف 15 فیصد ڈیلز باہمی اتفاق سے ہوئیں مگر فروخت کنندگان نے 10 سے 15 فیصد کم قیمت حاصل کی، تاہم کافی خریداروں اور فروخت کنندگان نے باہمی طور پر ٹرانزیکشن منسوخ کردیں’۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں 80 فیصد کالا دھن شامل ہے۔ کلفٹن میں سٹی ایسوسی ایٹ کے سی ای او محمد شفیع جکوانی نے بتایا کہ ‘پراپرٹی ٹرانزیکشن کی مد میں کافی کمی آئی ہے اور ڈی ایچ اے اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں نیا مالیاتی بل متعارف ہونے سے پہلے کی تعداد کے مقابلے میں صرف 10 سے 15 فیصد ڈیلز ہوئی ہیں’۔

آفیشل اور اوپن مارکیٹ کے درمیان قیمتوں کے کثیر فرق کی وجوہات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ویلیوایشن کی ٹیبل کا قیام 1986 میں ہوا تھا، اس کے بعد سے مارکیٹ میں قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ مارکیٹوں نے تین تیزی کے رجحان کے عرصے دیکھے، پہلا 1993 سے 1996، دوسرا 2001 سے 2005 اور تیسرا 2011 سے 2016 تک۔ نارتھ ناظم آباد میں واقع ناظم آباد اسٹیٹ کے مالک محمد نجیب نے بتایا کہ ‘جولائی 2016 سے اب تک خرید و فروخت نہ ہونے کے برابر ہوئی ہے جس کی وجہ خاص طور پر نئی ویلیوایشن قیمتوں کے بعد خریداروں اور فروخت کنندگان کی جانب سے صورتحال بہتر ہونے کے انتظار کا رجحان ہے’۔ ان کا مزید کہنا تھا، ‘نئی ویلیو ایشن قیمتیں حد سے زیادہ ہیں جو کہ پراپرٹی کے خریداروں اور فروخت کنندگان کو مستقبل کی ڈیلز کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کرسکتی ہیں’۔

 عامر شفاعت خان

یہ خبر 6 اگست 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s