پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بندوق، سمارٹ فون سے سستی

 فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے ایک تازہ جائزے کے مطابق پاکستان میں جگہ جگہ غیر قانونی اسلحہ ورکشاپیں قائم ہیں، جہاں اسکریپ یعنی بچے کھچے لوہے سے ایسی کلاشنکوف رائفلیں تیار کی جاتی ہیں جو اسمارٹ فون سے بھی سستی ہوتی ہیں۔ پہاڑیوں میں گھرا شمال مغربی شہر درہ آدم خیل پاکستان میں ہتھیاروں کی سب سے بڑی بلیک مارکیٹ کہلاتا ہے‘ یہاں  وقفے وقفے سے گولیاں چلنے کی آوازیں آنا معمول کی بات ہے۔

درہ آدم خیل میں اسلحہ سازی کا کاروبار کئی نسلوں سے چلا آ رہا ہے اور یہ کاروبار1980ء کے عشرے میں خاص طور پر چمکا جب مجاہدین نے سرحد پار افغانستان جا کر سوویت فوجوں کیخلاف لڑنے کیلیے یہاں سے ہتھیار خریدنے شروع کیے تھے۔ درہ آدم خیل اب جرائم پیشہ سرگرمیوں سے کافی حد تک پاک ہو چکا ہے تاہم نئے حالات اسلحہ ساز کاریگروں کیلیے ساز گار نہیں۔ ترکی اور بلغاریہ کی مشہور ایم پی 5 مشین گن کی ہو بہو نقل تیار کرنے کے ماہر کاریگر خطاب گل کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے جگہ جگہ چیک پوائنٹس بنا دیئے ہیں جس سے کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s