آسٹریلیا میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی کی تجویز کا مذاق

آسٹریلیا میں اس ٹی وی میزبان کا سوشل میڈیا پر تمسخر اڑایا جا رہا ہے جس نے فرانس کے شہر نیس میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمان تارکین وطن کی آسٹریلیا آمد پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ سونیا کروگر نے، جو چینل نائن ٹوڈے پر دو پروگراموں کی میزبانی کرتی ہیں، نیس حملے کے بعد اپنے پروگرام میں کہا تھا کہ اگر آسٹریلیا کی سرحدیں وقتی طور پر مسلمانوں کے لیے بند کر دی جائیں تو وہ خود کو زیادہ محفوظ محسوس کریں گی۔ سونیا کروگر نےاپنے ٹوئٹر پیغام میں اپنے خیالات کو ذرہ مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا وہ بطور ایک ماں کے پریشان ہیں اور چاہتی ہیں کہ اس معاملے پر بحث ہونی چاہیے۔ سونیا کروگر کا ہیش ٹیگ asamother# ٹرینڈ کرنے لگا اور کئی لوگوں نے ان پر نسل پرستی کا الزام عائد کیا ہے۔ کمیڈین اور ٹی وی میزبان چارلی پیکرنگ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ’ برائے مہربانی ان چیزوں کی فہرست تو بتا دیں جو بطور ماں آپ سمجھتی ہیں کہ آپ کا حق ہے۔ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی۔‘

ایک اور ٹوئٹر صارف نے لکھا’ میں امید کرتی ہوں کہ میں بطور ماں اپنے بچوں کو ہر مختلف چیز سے نفرت اور خوف نہ سیکھاؤں۔ لیکن سونیا گروگر کی حمایت میں بھی لوگ بولے جو ان کےخیالات سے متفق ہیں اور ان کہنا ہے کہ انھیں اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔ سونیا کروگر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ پچھلے ہفتے نیس کے المناک واقعے کے بعد جس میں دس بچے بھی اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے، میں بطور ماں یقین رکھتی ہوں کہ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ نسل پرستی کا الزام لگائے بغیر ان معاملات پر بحث ہونی چاہیے۔ سونیا کروگر نے مزید کہا کہ جاپان مسلمان شدت پسندوں کے حملوں سے اس لیے محفوظ رہا ہے کیونکہ وہاں مسلمان تارکین وطن کی تعداد بہت ہی کم ہے۔

سینیٹر سارہ ہینسن ینگ نے کہا کہ بطور ماں یہ بہتر ہو گا کہ ہم اپنی جہالت اور عدم رواداری کو چھپانے کے لیے بچوں کا استعمال نہ کریں۔ ایک اور ٹوئٹر صارف ڈان واکر نے بطور ماں مجھے اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہے کہ مسلمانوں کے بچے بھی انھیں جیسے انسان ہوتے ہیں اور یہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں امیتازی سلوک اور تعصب کو مسترد کر دوں۔ ایک اور ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ میں ایسی ماؤں پر پابندی چاہتا ہوں جو فقرہ ہی اس لفظ سے شروع کرتی ہیں’ بطور ماں‘ اور یہ فرض کر لیتی ہیں کہ پوری کمیونٹی ہی ممکنہ دہشتگرد ہے۔

لڈیا شیلی نے اپنے پیغام میں کہا ’ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہمیں دکھ نہیں ہوتا یا ہمیں دہشتگردی سے خوف نہیں آتا، یا ہم غمگین نہیں ہوتے۔ آسٹریلیا کی امیگریشن پالیسی کافی سخت اور پوائنٹس پر مبنی ہے۔ وزیر اعظم میلکم ٹرن بل نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کی پالیسی غیر امتیازی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے۔ آسٹریلیا کی امیگریشن مخالف جماعت ’ون نیشن پارٹی‘ سے تعلق رکھنے والی سینیٹر پولا ہینسن نے سونیا کروگر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سونیا لگی رہو، کم از کم کوئی تو بات کر رہا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s