ترکی میں جمہوری حکومت کے خلاف فوجی بغاوت اور مغرب کا دوہر ا کردا ر

ترکی میں فوجی بغاوت کے آغاز پر خوشیوں کے شادیانے بجانے والے مغربی میڈیا پر اس وقت صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔

جیسے ہی فوجی بغاوت شروع ہوئی تو مغربی میڈیا کی باچھیں پھٹی جارہی تھیں   فاکس نیوز کے نیوز اینکر نے اقوام متحدہ کے لئے امریکی سابق سفیرجان بولٹن سے سوال کیا کہ فوجی بغاوت کے کیا اثرات ہونگے تو موصوف نے اس بغاوت کے فوائد گنوائے اور کہا کہ اگر بغاوت ناکام ہوگئی تو بہت خون ریزی ہوگی ۔ فاکس نیوز کو بغاوت کی کامیابی کا اتنا یقین تھا کہ امریکی و ترکی کی فوج کے درمیان “مثالی تعاون” پر ایک ڈیبیٹ بھی کرادی۔ فاکس نیوز کے فوجی ماہر چیک نیش نے تبصرے میں ترک فوجی کی مہارت کو بیان کرتے ہوئے زمین آسمان ایک کردئے۔

اس موقع پر سی این این ۔۔۔ بی بی سی ۔۔۔۔۔ اسکائی نیوز ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے چکر میں تھے ۔۔۔۔ ترک باغی فوجیوں کی ہمت بڑھائی جارہی تھی ۔ ترک وزیر اعظم کو دہشت گردوں کا ہمدرد و مددگار ثابت کیا جارہا تھا ۔ اسکائی نیوز کا رپورٹر فرماتا ہے کہ ترکی کے وزیر اعظم کو دہشت گردوں کی حمایت پر مبنی پالیسی پر ردعمل کا سامنا ہے اور امید ہے کہ فوجی اس حکومت کو نکال باہر کریں گے۔ جان کیری کو بھی امید تھی کہ فوجی بغاوت کے بعد ترکی میں امن استحکام کا تسلسل ہوگا۔

پھر منظر بدلتا ہے ۔۔۔ سڑکوں پر عوام کا ہجوم ۔۔۔۔ مغربی میڈیا کی امیدوں کا مرکز ۔۔۔۔ فوجی بغاوت ناکام ہونا شروع ہوئی۔۔۔۔۔ترک عوام نے تاریخ رقم کی۔۔۔۔فضا یااللہ بسم اللہ ، اللہ اکبر کی صدائوں سے گونجنے لگی ۔۔۔ دیوانوں نے ایسی تاریخ رقم کی جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے ۔۔۔۔ فوجی بغاوت کی ناکامی کے آثار نظر آئے تو مغربی میڈیا کے اینکرز کی باچھے اپنی جگہ واپس آتے آتے مزید سکڑ گئی جبکہ ترک عوام کی مذاحمت دیکھ کر آنکھیں پھٹ گئی۔۔۔۔ امریکہ بھی پہلے بیان کے بعد پلٹی مار کر ترک جمہوری حکومت کے ساتھ ہوگیا ۔۔۔۔ پھر سارا دن ترکی کی جمہوری حکومت کو مبارکباد دیتے گزرا ۔۔۔

بظاہر تو بغض نکالنے کا زریعہ نہ رہا ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔ پھر جب باغی ترک فوجی پناہ کے لئے اپنے آقائوں کے پاس پہنچنا شروع ہوئے تو ۔۔۔۔ پھر مغربی میڈیا کی “انسانی حقوق” کی رگ پھڑکی ۔۔۔۔ اور سینکڑوں عام شہریوں کو شہید کرنے والے ان باغی فوجیوں کو مظلوم ظاہر کرنا شروع کردیا ۔۔۔۔۔ ہیلی کاپٹر کے زریعے فرار ہوکر ترکی سے یونان پہنچنے والے بغاوت کے ذمہ دار 8 فوجی افسران کے حقوق یاد آگئے ۔۔۔۔ ترک عوام کی جانب سے فوجیوں کو جوتے، بیلٹ یا تھپڑ مارنا اسی میڈیا کے نزدیک عوام پر فائرنگ ، ٹینک چڑھانے اور شیلنگ کرنے سے زیادہ بڑا گناہ ٹھہرا ۔۔۔۔ مفرور فوجی افسران کی مظلومیت کا رونا رویا ہی جارہا تھا کہ اچانک وہی آواز گونجی جس سے اب ۔۔۔۔ باغیوں اور ان کے آقائوں کی گھگھی بندھ جاتی ہے ۔۔۔۔ طیب اردگان نے کہا کہ

یونان فوری طور پر بغاوت کے ذمہ داران 8 فوجی افسران کو ہمارے حوالے کریں ۔ یہ ترکی کے مجرم ہیں۔

اس وقت سے اب تک مغربی میڈیا پر صف ماتم بچھی ہوئی ہے ۔

بشکریہ: طارق حبیب

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s