گوگل اور فیس بک – اربوں افراد کی بیک وقت مکمل نگرانی ہورہی ہے

گوگل اور فیس بک جیسے اداروں کی اعلی انتظامیہ کی طرف سے اپنی سروسز استعمال کرنے والوں کو ان کی معلومات خفیہ رکھنے کی ضمانت کبھی نہیں دی گئی۔ لیکن پھر بھی ان کی سروسز استعمال کرنے والوں کی اکثریت اس خوش فہمی کا شکار ہے کہ ان کی طرف سے جن معلومات کا تبادلہ گوگل یا فیس بک کے ذریعے کیا جاتا ہے وہ خفیہ رہتی ہیں اور ان کی ذاتی قسم کی معلومات ان اداروں کے ذریعے کسی تک نہیں پہنچتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی جو آئی فون ٹیبلٹ لیپ ٹاپ کریڈٹ کارڈ یا گاڑی میں جی آئی ایس استعمال کرتا ہے۔ وہ ان تمام ذرائع سے مختلف اوقات میں اپنی جغرافیائی پوزیشن کے علاوہ اپنی آمد و رفت  اپنی گفتگو خود سے ملنے والوں اور اپنے کاروبار اور نجی معاملات کے متعلق معلومات کا ایک خزانہ کشید کرارہا ہوتا ہے۔

 جسے روزانہ کی بنیاد پر گوگل جیسے ادارے پراسس کرکے حکومت کے خفیہ اداروں ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں مارکیٹنگ کے اداروں اور انفرمیشن بروکرز کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں۔ امریکہ کی ایک خفیہ ایجنسی کے ایک بڑے افسر نے کہا کہ ایک زمانہ تھا جب ہمیں کسی مشکوک یا ملک دشمن فرد کی نگرانی کے لئے تین چار افراد مقرر کرنے پڑتے تھے اب یہ سب کام ہمارے لئے گوگل اور فیس بک کررہا ہے اب ہمیں لوگوں کی نگرانی کے لئے تین تین چار چار افراد مقرر کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ دنیا کے اربوں انسانوں کی بیک وقت نگرانی گوگل کررہا ہے۔ ان کے متعلق ہر قسم کی معلومات پراسس کرنے کے بعد ہمیں مہیا کررہا ہے۔ جو بات کبھی ہمارے لئے ایک خواب تھی وہ اب حقیقت بن کر ہمارے سامنے آچکی ہے۔ دسمبر 2009ء میں امریکی براڈ کاسٹنگ کمپنی سی این بی کی ماریہ ارتریو نے گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایرک سگمڈ سے گوگل کی سروسز استعمال کرنے والوں کی پرائیویسی کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی ایسی بات ہے جس کے متعلق آپ چاہتے ہیں کہ وہ دوسروں کو معلوم نہ ہو تو ایسی بات آپ کو کرنی ہی نہیں چاہئیے۔

 انہوں نے اس سلسلے میں اپنے صارفین کی پرائیویسی سے متعلق تشویش کو رد کردیا کہ اگر آپ نے کوئی چیز غلط نہیں کی تو پھر آپ کو لوگوں حکومتوں اداروں اور ہمسایوں کا اس سلسلے میں کوئی ڈر نہیں ہونا چاہئیے کہ آپ کیا کررہے ہیں۔ اسی طرح فیس بک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زوکربرگ نے ایک موقع پر یہ دلیل دی کہ اب پرائیویسی ایک سماجی قدر نہیں رہی۔ عوام کی پرائیویسی کی کوئی پرواہ نہ کرنے والے مسٹر زوکر برگ خود اپنی پرائیویسی کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ اواخر 2013ء میں انہوں نے اپنی رہائش گاہ کے ارد گرد چار گھر تین کروڑ ڈالر کے مصارف سے اس لئے خریدے کہ ان کی پرائیویسی میں کوئی خلل نہ پڑئے۔ دراصل یہ لوگ اپنی سروسز استعمال کرنے والوں کو گاہکوں کی حیثیت دینے کو تیارہی نہیں یہ لوگ ان کے نزدیک صرف قابل فروخت مال ہیں جن کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرکے فروخت کرنے ہی پر ان کی اربوں ڈالرز کی آمدنی کا انحصار ہے۔ فیس بک کے چیف آپریٹنگ آفیسر شرل سینڈبرگ نے بھی پرائیویسی کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کا پرائیویسی حقوق پر اصرار حقیقی اعتباریت True Authenticity سے متضاد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ چند برسوں میں معتبر شناخت کے اظہار کا استعمال اور بھی زیادہ بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انفرمیشن کو معتبر بنانے کے لئے یہ تبدیلی واقع ہوگی اور اس کے نتیجے میں پرائیویسی ختم ہوجانے کی چیخ و پکار بھی ضرور سنی جائے گی۔

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو عام طور پر یہ معلوم نہیں کہ اب پولیس اپنی تفتیش کے لئے اور بڑے ادارے اپنے ہاں ملازمت دینے کے لئے افراد کے متعلق ہر طرح کی معلومات سوشل میڈیا ہی سے حاصل کررہے ہیں۔ وکلا ء اپنے کلائینٹس کے مخالفوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ حقائق حاصل کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر ریسرچ کرتے ہیں۔ پولیس سربراہوں کی انٹرنیشنل ایسوسی ایشن جو پانچ سو سے زائد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تنظیم ہے نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے رکن اداروں سے اکیاسی فیصد سے زائد ادارے جرائم سے متعلق اپنی معمول کی تفیتش میں سوشل میڈیا سے مدد لیتے ہیں۔ اسی طرح مغربی ملکوں کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹس بھی ویزے یا امیگریشن کے لئے درخواست دینے والوں کے روزمرہ معمولات پر نظر رکھنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کررہے ہیں۔ گوگل جیسے ادارے جس طرح ایک شخص کے تین سو سے زائد پہلوؤں کے متعلق مکمل معلومات حاصل کرکے اس کی خامیوں خوبیوں سمیت شخصیت کا ہر رخ واضح کردیتے ہیں ایسی معلومات کے لئے انفرمیشن بروکرز بھاری معاوضے وصول کرتے ہیں۔ اگر امریکی سی آئی اے دنیا بھر کے اربوں انسانوں کے متعلق اپنے ان اداروں کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر مکمل معلومات حاصل کرکے انہیں اپنی ضروریات کے لئے پراسس کرنے اور استعمال کرنے پر قادر ہے تو پھر دوسرے ممالک اس کے مقابلے میں کہاں کھڑے ہیں اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔

انٹرنیٹ کا عام صارف اپنا انٹرنیٹ ایڈریس چرا لئے جانے یا سائبر کرائمز سے وابستہ لوگوں کے دوسرے حربوں کا سامنا کرتا رہتا ہے۔ آپ کے انٹرنیٹ ایڈریس کے چرالئے جانے کے بعد یہ لوگ آپ کی شخصیت کے پردے میں ہر طرح کی جعل ساز ی کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کی انٹرنیٹ آپ کا پاس ورڈ معلوم ہوجانے کے بعد ہی چرایا جاتا ہے جس کے فورا بعد اس کا پاس ورڈ بدل کر ہیکرز اپنا کام شروع کردیتے ہیں آپ کے دوستوں کے ای میل ایڈریس انہیں آپ کے ای میل باکس ہی سے مل جاتے ہیں۔ جنہیں وہ فوری طور پر رابطہ کرکے اپنے کسی دوسرے ملک پہنچنے اور اپنا پاسپورٹ اور رقم گم ہوجانے سے مصیبت کا شکار ہوجانے کے متعلق بتاتے ہیں وہ آپ کے روپ میں آپ کے دوستوں سے مدد کی اپیل کرتے ہیں اور فوری طور پر چند ہزار ڈالر کسی نامعلوم بنک کے اکاؤنٹ میں ادھار کے طور پر بھجوانے کے لئے درخواست کرتے ہیں۔

بہت سے دوستوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ کہیں بیرون ملک نہیں گئے بلکہ آپ کا ای میل ایڈریس چرا لیا گیا ہے۔ لیکن جن لوگوں کو معلوم نہ ہوسکے اور وہ آپ سے گہر ا اور مخلصانہ تعلق رکھتے ہوں تو وہ دھوکے میں آکر آپ کو بھیجنے کے لئے جعلسازوں کے بتائے ہوئے اس اکاؤنٹ میں رقم بھجوا بھی سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جس طرح عام زندگی میں بہت سے لوگ آپ کو بہت نفع بخش کاروبار میں سرمایہ لگانے کے بہانے لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور بہت سے لوگ آپ کی کمزوریاں پکٹر کر آپ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح انٹرنیٹ پر دھوکہ دہی اور فریب کے سلسلے مسلسل جاری رہتے ہیں۔

آپ کو اکثر کسی ملک کی سابق شہزادی کی میل موصول ہوتی ہے کہ اس نے آپ کو پسند کرلیا ہے اور وہ آپ کے ذریعے آپ کے ملک میں چند ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے جس کے نفع سے آدھا آپ کا ہوگا۔ اس سے رابطے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو بات جا کر اس پر ختم ہوتی ہے کہ اس کے مرحوم والد نے جسے انقلابیوں نے قتل کردیا ہے اس کے لئے ڈالرز اور سونے سے بھرا ایک صندوق کہیں محفوظ کررکھا ہے جسے چھڑانے کیلئے اس شہزادی کو فوری طور پر پانچ سو ڈالر کی رقم درکار ہے جس کے بعد وہ آپ کو اربوں ڈالر بھجوانے کی پوزیشن میں ہوگی ۔ آپ کا مزاج لالچی ہے تو آپ پانچ سو ڈالر اس کے بتائے گئے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنے کیلئے بے چین ہوجائیں گے۔ اسی طرح آپ کو ای میل موصول ہوتی ہے کہ آپ کی ایک ملین ڈالر کی لاٹری نکل آئی ہے۔ اگرچہ آپ نے کسی لاٹری کا ٹکٹ نہیں خریدا تھا لیکن آپ کو بتایا جاتا ہے کہ لاٹری کی یہ رقم انٹرنیٹ والوں کی خصوصی پالیسی کے تحت انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں سے ایک خوش قسمت کا نام نکال کر دی جارہی ہے۔ آپ رابطہ کرتے ہیں تو آپ کو کمپنی کے وکیل سے رابطہ کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ آپ وکیل سے رابطہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا چیک تو بالکل تیار پڑا ہے لیکن اسے آپ تک پہنچانے کے سلسلے میں ضروری قانونی کا رروائی کیلئے وکیل کی فیس پانچ سو ڈالر ہے جو آپ جتنی جلد ان کے د ئیے گئے غیر ملکی اکاؤنٹ میں جمع کرا دیں گے ایک ملین ڈالر کا چیک اتنی ہی جلد آپ کی جیب میں پہنچ جائے گا۔

انٹرنیٹ استعمال کرنے والے کم و بیش چالیس فیصد افراد ای میل ایڈریس ہیک ہونے یااپنے ساتھ آن لائن فراڈ کئے جانے کی کوششوں کا تجربہ کرچکے ہیں۔ ایک طرف بڑے پیمانے پر سائبر کرائمز کے منظم گروہ ہیں جو لاکھوں کمپیوٹرز کا نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے سائبر انڈر ورلڈ چلا رہے ہیں دوسری طرف چھوٹی وارداتیں کرنے والے اور تیسری طرف ہمارے متعلق ہر طرح کی معلومات کشید کرکے مختلف اداروں کو فروخت کرنے والے ادارے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظراب یہ ممکن ہوچکا ہے کہ ایک حکومت اپنے کروڑوں افراد کے روز مرہ کی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھے اپنے تمام شہریوں کی روزانہ بنیادوں پر سرگرمیوں کوپراسس کراکے ہر طرح کے جرائم کا سراغ لگائے اور مجرموں کو قرار واقعی سزائیں دے کر ملک میں انصاف قائم کر ے ۔

ڈاکٹر شفیق جالندھری

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s