برہان وانی کو غصہ کیوں آیا – وسعت اللہ خان

حزب المجاہدین سے تعلق رکھنے والا اکیس سالہ برہان مظفر وانی آٹھ جولائی کو جنوبی کشمیر کے جنگلاتی علاقے کوکرناگ کے بندورو گاؤں میں پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ ، راشٹریہ رائفل اور سینٹرل ریزرو پولیس کے ایک مشترکہ آپریشن میں مارا گیا۔ اس کے بعد کشمیر پھٹ پڑا۔ تادمِ تحریر وادی کے مختلف علاقوں میں بھارتی فوجی ، نیم فوجی اداروں اور پولیس سے جھڑپوں میں دو درجن سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ ڈھائی سو کے لگ بھگ کشمیری مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ تین سیکیورٹی اہل کار ہلاک اور سو سے زائد زخمی بتائے جاتے ہیں۔ بیس پولیس تھانوں پر حملے ہوئے ہیں۔ کئی تھانوں سے اسلحہ لوٹنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ دفاتر پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ نئی دلی کا ساشن جو پام پور میں پچیس جون کو سینٹرل ریزرو پولیس کی بس پر حملے میں آٹھ سپاہیوں کی ہلاکت سے ہلا بیٹھا ہے اس نے اضافی نیم فوجی دستے وادی پہنچا دیے ہیں۔

وادی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے، حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کی اپیل پر وادی میں آٹھ جولائی سے کاروبارِ زندگی ٹھپ ہے۔ برہان وانی کی ہلاکت پر ردِ عمل اتنا شدید ہے کہ بھارت نواز نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر فاروق عبداللہ کو بھی کہنا پڑ گیا کہ ’’ برہان وانی نہ تو پہلا شخص ہے جس نے بندوق اٹھائی اور نہ ہی آخری ہوگا ‘‘۔ مگر یہ لڑکا برہان وانی کشمیری مزاحمت کے نئے مرحلے کا پوسٹر بوائے کیسے بنا ؟

وادی کے ایک علاقے ترال کے گاؤں شریف آباد میں ریاضی کے استاد اور ہائی اسکول ہیڈ ماسٹر مظفر وانی رہتے ہیں۔ان کی اہلیہ میمونہ وانی بھی پوسٹ گریجویٹ ہاؤس وائف ہیں۔ ان دونوں کے چار بچے تھے۔ اب دو ہیں۔ بڑا بیٹا خالد مظفر وانی ایم کام تھا۔ چھوٹا بیٹا  برہان وانی میٹرک میں تھا۔ ان دونوں سے چھوٹی ایک بہن اور بھائی ابھی زیرِ تعلیم ہیں۔ گاؤں والے بتاتے ہیں کہ اب سے چھ برس پہلے دو ہزار دس کے کسی ایک دن خالد ، برہان اور ایک دوست موٹرسائیکل پر جا رہے تھے کہ پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں نے انھیں روکا۔ منہ ماری ہوئی۔ اہلکاروں نے انھیں پیٹنا شروع کردیا۔ خالد بے ہوش ہوگیا اور برہان اور اس کا دوست وہاں سے فرار ہوگئے۔ایک برس بعد خبر آئی کہ برہان حزب المجاہدین میں شامل ہوگیا ( دو ہزار تیرہ میں خالد کو بھارتی فوج نے ایک ’’ مقابلے میں ہلاک کردیا۔ مگر خالد کے والد کا کہنا ہے کہ اس کے جسم پر گولی کا نشان نہیں تھا البتہ تشدد کے بہت سے نشانات تھے۔

مگر برہان اگر کسی شدت پسند یا مزاحمتی گروہ میں شامل ہوگیا تو کیا خاص کیا۔ایسا تو نیم پڑھے لکھے یا پڑھے لکھے درجنوں نوجوان پہلے بھی تشدد و توہین سے تنگ آ  کر چکے ہیں۔ تو پھر برہان کی شخصیت میں ایسی کیا کشش تھی کہ وہ بہت تیزی کے ساتھ کشمیری نوجوان نسل میں مقبول ہوتا چلا گیا اور آج ان کا ہیرو ہے۔ کشمیر میں نوے کی دھائی میں گھسمان کی مزاحمتی تحریک چلی۔ برہان سے پچھلی مزاحمتی پیڑھی کے لوکل ہیرو اشفاق مجید وانی جیسے نوجوان تھے جنہوں نے بھارتی قبضے کے خلاف گذشتہ مزاحمتی دور میں سب سے پہلے بندوق اٹھائی۔ رفتہ رفتہ سرحد پار سے لشکرِ طیبہ ، حرکت المجاہدین ، جیشِ محمد  البدر وغیرہ جیسی غیر مقامی تنظیمیں مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے لگیں تو پھر کشمیری نام کم اور گمنام مجاہدین کے نام زیادہ سنائی دینے لگے جو اپنی شناخت کنیت کے پیچھے چھپا لیتے تھے۔( دو ہزار نو میں مجھے سری نگر جانے کا اتفاق ہوا۔ شہدا کے قبرستان میں آدھی قبروں پر جو شناختی پتھر لگے تھے ان پر پاکستان کے وسطی و جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں اور قصبوں کے نام لکھے ہوئے تھے )۔

نوے کے عشرے کے آخری دنوں میں جب بھارت اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹی ترجیحات بدلنے لگیں اور گمنام جہادی واپس لوٹنے لگے تو لوکل کشمیری آزادی پسند نوجوان بھی بددل ہونے یا تھکنے لگے اور پھر وادی میں ایک سکوت سا آ گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سکوت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی دلی کی اسٹیبلشمنٹ اور کشمیر کی بھارت نواز جماعتیں عام کشمیریوں کے سیاسی ، معاشی و نفسیاتی زخم مندمل کرنے کی تندہی سے کوشش کرتیں۔ مگر بھارتی اسٹیلبشمنٹ اور اس کے کشمیری حواریوں نے اس سکوت کو امن سمجھ لیا اور فرض کرلیا کہ اتنی خونریزی کے بعد مزاحمت کی کمر ٹوٹ چکی ہے لہذا کئی برس کے لیے شانت ہو چکے۔ لیکن اندر سے چونکہ یقین نہیں تھا لہذا وادی میں فوج اور نیم فوجی دستوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ فوج کو اسپیشل پاورز ایکٹ کے تحت گرفتاری اور پوچھ گچھ کے جو اختیارات حاصل تھے وہ جوں کے توں رہے۔عام کشمیری کو شدت پسندی کی پسپائی کے باوجود دم گھونٹنے والی فضا سے نجات نہ مل سکی۔

مزاحمت کاروں کی پرانی نسل عمر رسیدہ ہو چکی تھی مگر نوے کی دہائی میں جو نسل بچپنے کے دور سے گذر رہی تھی اس کے سامنے زندگی کے نئے چیلنجز اور مشکلات جوں کے توں کھڑے تھے۔ یہ نسل پچھلی نسل کے مقابلے میں انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا ، موبائیل فون سے مسلح تھی اور اس کے پاس باقی دنیا سے اپنے حالات کا تقابلی مطالعہ کرنے کی زیادہ سہولت تھی۔ اس نسل نے اگرچہ نوے کی مزاحمتی تحریک کے بعد ہوش سنبھالا مگر اس کو بھی ریاستی طاقت کے استعمال  کے توہین آمیز تجربے سے اسی طرح گذرنا پڑا جس طرح وہ نسل اسی کی دہائی میں گذری تھی کہ جس نے نوے کی دہائی میں بندوق اٹھائی۔ اس وقت وادی کی ساٹھ فیصد آبادی کی عمر تیس برس سے کم ہے۔ اس نوجوان طبقے کو بھلے نوے کی دہائی کی خوں آشامی کا تجربہ نہ بھی ہو تب بھی اسے قدم قدم پر فوج اور پولیس کی چوکیوں ، جامہ تلاشیوں اور توہین آمیزی کا تجربہ ضرور ہے۔اس نسل کے تجربے میں یہ بھی شامل ہے کہ دو ہزار آٹھ اور دس میں پے در پے ہونے والے ریپ کے واقعات پر بھڑک اٹھنے والی بدامنی کو عسکری اداروں نے کیسے کچلا۔

بھارت میں دو ہزار تیرہ میں نریندر مودی کے وزیرِ اعظم بننے کے بعد کشمیریوں کا عارضی دبا ہوا احساسِ عدم تحفظ ایک بار پھر عود کر آیا جب بی جے پی کے پلیٹ فارم سے یہ مطالبہ ہوا کہ آئین کے آرٹیکل تین سو ستر کے تحت کشمیر کو حاصل خصوصی تشخص کو ختم کرکے اسے دیگر بھارتی ریاستوں جیسا سمجھا جائے۔ مزید سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ اپریل دو ہزار پندرہ میں ریاست میں مفتی محمد سعید کی جماعت پیپلزڈیموکریٹک پارٹی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت برسرِ اقتدار آ گئی۔ اس حکومت نے نوے کی دہائی میں وادی چھوڑ کر جانے والے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے نام پر وادی میں تین الگ کالونیوں کے قیام کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ بھارتی فوجیوں اور نیم فوجیوں کے لیے سینک کالونیاں بسانے کا بھی فیصلہ کیا۔

حالانکہ حریت کانفرنس کی قیادت سمیت اسی فیصد کشمیری مسلمان پنڈتوں کی گھروں کو واپسی کے حق میں ہیں مگر بی جے پی پی ڈی پی مخلوط حکومت کی موجودہ وزیرِ اعلی محبوبہ مفتی نے یہ بیان دے کر مفت کی بدنامی کما لی کہ پنڈتوں کو پہلے مرحلے میں فلیٹوں میں رکھا جائے گا تا کہ ان کا خوف کم ہو سکے۔ ہم کبوتروں کو بلیوں کے آگے نہیں پھینک سکتے۔ کشمیریوں نے وزیرِ اعلی کے اس بیان کو توہین آمیز قرار جانا اور حکومت عام کشمیری کے لیے مزید اجنبی ہوگئی۔ مگر ان باتوں کا برہان وانی کی مقبولیت سے کیا تعلق ؟ اس کے جنازے میں بیس ہزار سے زائد عام کشمیریوں نے آخر کیوں شرکت کی اور اسے مزاحمت کاروں نے کلاشنکوفوں سے سلامی کیوں دی ؟

وجہ یہ ہے کہ برہان دیکھنے میں ایک ہیرو کی طرح لگتا تھا۔ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے ہر کشمیری کی دسترس میں تھا۔ وہ اپنی اور اپنے تیس ساتھیوں کی جنگل کی زندگی کی وڈیوز اپ لوڈ کرتا تھا۔ اس کے وہی مطالبے تھے جو وادی کے ہر کشمیری کے ہیں۔ وہ کوئی باہر سے آنے والا جوشیلا نہیں بلکہ اپنا ہی لڑکا تھا۔ وہ اور اس کے ساتھی جدید سوچ کے حامل پڑھے لکھے مزاحمت کار ہیں۔ برہان کی وڈیوز میں یہ پیغام تھا کہ ہمارے گروپ کا ہدف صرف قابض فوج اور ان کے طفیلی ادارے ہیں۔ امرناتھ یاترا پر ہندو یاتری بے فکری سے آ جا سکتے ہیں۔ ہم سینک کالونیوں کی اسکیم کو بھارتی غلبے کی نئی چال سمجھتے ہوئے ان کی مزاحمت کریں گے۔ ہم کشمیری پنڈتوں کی آبائی گھروں میں واپس کے تو حق ہے مگر انھیں کشمیر میں ایک اور اسرائیل بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ( انیس سو اکیانوے سے کشمیری پنڈتوں کی تنظیم پنن کشمیر پنڈتوں کے لیے وادی میں ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کر رہی ہے۔اس تنظیم پر شروع سے بی جے پی کا غلبہ ہے )۔

کشمیری ہر چند برس بعد اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر نئے انداز میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مگر بھارت ہر بار ان سے ایک ہی طریقے سے نمٹتا ہے یوں صرف اور صرف طاقت کے استعمال پر مبنی حکمتِ عملی ایک نئے مزاحمتی دور کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ ضروری نہیں کہ برہان وانی کی موت نوے جیسی تحریک کی شکل اختیار کرے مگر یہ وہ زخم ہے جو پٹیاں بدلنے سے کبھی ٹھیک نہیں ہوگا۔

وسعت اللہ خان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s