پہلے اللہ پھر بیٹا، پہلے قرآن پھر بیٹا، پہلے محمد رسول اللہؐ پھر بیٹا

ہندوستان ٹائمز کی ہریندر بویجا اکتوبر 2015ء میں مقبوضہ کشمیر کے پلوامہ کے علاقے میں ترال شہر کے ایک ہائر سیکنڈری سکول کے پرنسپل مظفر احمد وانی کے گھر پہنچی۔ دیودار کی منقش لکڑی سے بنے دروزے کے پاس کھڑے ہو کر اس نے ایک رپورٹر، جسے ہندی میں پترکار کہتے ہیں، کی حیثیت سے ابتدائی کلمات بولتے ہوئے کہا، ’’آئیے جانتے ہیں کہ ایک پڑھا لکھا کشمیری نوجوان شدت پسندی کی آواز کیسے بن گیا‘‘ ادھیڑ عمر کے مظفر احمد وانی جس نے سر پر ایک سفید ٹوپی اور بدن پر اون سے بنا ہوا کشمیری چوغہ پہنا ہوا تھا۔

اس کے چہرے کے خال و خط ایک راسخ العقیدہ مسلمان کے لگتے تھے۔ داڑھی کی تراش خراش، چہرے پر عجز و انکساری اور گفتگو میں تحمل۔ لیکن جب اس نے سوالات کے جواب دینا شروع کیے تو یوں لگتا تھا کہ جذبہ ایمانی، شوق شہادت اور اللہ کی ذات پر توکل اس کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ سوال کیا گیا، برہان یا اس جیسے نوجوان کشمیریوں کا مقصد کیا ہے، جواب دیا، ہندوستان سے آزادی، یہ نوجوانوں کا ہی نہیں بلکہ ہم سب کا مقصد ہے۔ آپ کو معلوم ہے کشمیر کے حالات کیسے ہیں، ٹرک ڈرائیور یہاں سے جاتا ہے، مار دیا جاتا ہے، کیوںکہ مسلمان ہے، ہم حلال جانور  ذبح کرتے ہیں فساد ہو جاتے ہیں۔ پھر سوال کیا، آپ کو پتا ہے ہندوستان کی فوج کو ہرانا بہت مشکل ہے لیکن اس نے کیا جذبہ ایمانی سے بھر پور جواب دیا۔ ’’بہت مشکل ہے، بہت مشکل ہے، لیکن ہمارا اللہ پر یقین ہے، ہمیں یقین ہے کہ جو اس تحریک میں ہندوستان کے ظلم و ستم سے مرتا ہے وہ مرتا نہیں بلکہ اپنے اللہ کے پاس جاتا ہے۔

دوسری دنیا میں ٹرانسفر ہو جاتا ہے۔ سوال کیا گیا کہ آپ کو تکلیف ہو گی کہ آپ کا بیٹا گولی سے مرے گا۔ جواب دینے والے باپ کی ہمت اور ایمان دیکھیے، کہا، ہاں تھوڑی تکلیف تو ہوتی ہے لیکن پھر یاد آتا ہے پہلے خدا پھر بیٹا، پہلے محمد صلی اللہ علیہ و سلم پھر بیٹا، پہلے قرآن پھر بیٹا، پہلے بیٹا نہیں ہے۔ اس کے بعد پوچھا، برہان آج ایک رول ماڈل بن چکا ہے۔ اس کی ویڈیو سامنے آئی ہیں، وہ جو کہتا ہے لوگ اس کے پیچھے چلتے ہیں۔ جواب دیا آج نوے فیصد لوگ اسے دعائیں دیتے ہیں کہ برہان زندہ رہے تا کہ ہماری جدوجہد آگے بڑھے۔ آج اسے پانچ سال ہو گئے مجاہد بنے ہوئے، یہ دو ہزار دن بنتے ہیں، مجھے نہیں معلوم وہ کھاتا کہاں سے ہے، پہنتا کہاں سے ہے، آخر لوگ اس کی مدد کرتے ہیں نا۔ آخری سوال کیا، آپ اس کے لیے کیا دعا کرتے ہیں، کہا، میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ اسے کامل ایمان عطا کرے۔

یہ انٹرویو آج بھی یوٹیوب پر موجود ہے جب کہ اس عظیم باپ کا بیٹا اپنے اللہ کے حضور اپنی شہادت کا صلہ لینے پہنچ چکا ہے۔ برہان وانی جب صرف 15 سال کا تھا تو 16 اکتوبر 2016ء کو کشمیری مجاہدین کے ساتھ شامل ہونے کے لیے اپنے اس عظیم المرتبت باپ سے اجازت لینے کے بعد روانہ ہوگیا۔ 1990ء سے لے کر اب تک بھارت یہ الزام عائد کرتا رہتا تھا کہ کشمیر کی جدوجہد دراصل پاکستان میں موجود تنظیموں حرکت المجاہدین، لشکر طیبہ، جیش محمد اور البدر کی مداخلت کی وجہ سے ہے۔ اسی لیے مجاہدین جو شہید ہوتے تھے ان کے نام و مقام خفیہ رکھے جاتے تھے۔ اس کی وجہ مجاہدین یہ بتاتے تھے کہ ان کی شہادت کے بعد بھارت کی فوج ان کے گھر پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیتی تھی۔ لیکن بھارت انھیں پاکستان سے آئے ہوئے مسلح درانداز کہتا تھا۔ برہان وانی نے خوف کا یہ پردہ چاک کردیا۔ اپنے چہرے سے گمنامی کا نقاب اتارا اور سوشل میڈیا پر ایک مقامی کشمیری کی حیثیت سے سامنے آگیا۔ اس کی اس جرأت کو ان کشمیری نوجوانوں نے قبول کیا جو ایک ناختم ہونے والی فوجی بربریت سے تنگ تھے۔

وہ 1990ء کے بعد پہلا چہرہ تھا جو کشمیر کے ہر گھر میں پہچانا جانے لگا۔ ہر کوئی یہ کہانی اپنے بچوں کو سناتا کہ برہان اپنے بھائی کے ساتھ موٹر سائیکل پر جارہا تھا کہ بھارتی فوج اور پولیس کے لوگوں نے انھیں پکڑ کر بہت مارا۔ اس کا بھائی بے ہوش ہوگیا۔ برہان اس وقت نویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ اس نے سب کچھ چھوڑا اور جہاد کے لیے نکل پڑا۔ 2011ء میں اسے حزب المجاہدین نے اپنا ممبر بنالیا۔ اور پھر اس کی سوشل میڈیا پر موجودگی نے پورے کشمیر میں آگ لگا دی۔ برہان کی وہ ویڈیو کشمیر میں ہردل کی دھڑکن بن گئی جس میں وہ نوجوانوں کو بھارت سے آزادی کے لیے تیار کررہا تھا۔ اس کی گفتگو میں کس بلا کی روانی تھی اور الفاظ کا سحر ایسا کہ دلوں میں اترجائیں۔ اس کی اسلحہ کے ساتھ تصویریں بھارتی افواج کا منہ چڑاتی تھیں۔

بھارتی افواج اور کشمیر پولیس اس کی تلاش میں تھیں۔ 13 اپریل 2015ء کو اس کے بھائی خالد مظفر وانی کو بھارتی فوج اور کشمیری پولیس نے شہید کردیا۔ اسے چند دن پہلے اٹھایا گیا تھا۔ اس پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ مجاہدین یعنی ہندوستان کے لیے آتنک وادی (دہشت گردوں) کا سہولت کار ہے۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے اور کسی قسم کی گولی اس کے جسم میں پیوست نہ تھی۔ وہ ایم کام کا طالب علم تھا اور اس کا جہادی تنظیموں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ اس علاقے کے لوگ کہتے ہیں اور بھارتی افواج بھی اس کے خلاف میڈیا کو کوئی ثبوت فراہم نہ کرسکی۔ برہان کی 2016ء جون میں آنے والی ویڈیو ایک مسلمان مجاہد کی اخلاقیات کی علمبردار تھی۔ اس نے کہا مجاہدین امرناتھ یاترا پر حملہ نہیں کریں گے۔ ہندو پنڈت جموں میں آکر رہ سکتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے اسرائیل کی طرح علیحدہ بستیاں مت بناؤ۔ اس نے کہا ہم صرف اور صرف یونیفارم والوں پر حملے کریں گے کہ ان سے ہی ہماری لڑائی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی ایک ویڈیو کی وجہ سے اندازاً تیس نوجوان حزب المجاہدین میں شامل ہوئے تھے۔

8 جولائی 2016ء کو بھارتی فوج کی یونٹ 19 راشٹریہ رائفلز اور جموں کشمیر کے سپیشل گروپ نے کوکرناگ کے گاؤں بنڈورا میں شام چار بج کر تیس منٹ پر آپریشن شروع کیا۔ گاؤں کے لوگ اکٹھا ہوگئے اور انھوں نے فوجیوں پر پتھر برسانا شروع کردیے۔ برہان اپنے ساتھیوں سرتاج احمد شیخ اور پرویز احمد لشکری کے ساتھ جس گھر میں موجود تھا وہاں سے انھوں نے مقابلہ شروع کیا۔ لیکن سوا چھ بجے شام تینوں شہادت کے ارفع منصب پر فائز ہوکر اللہ کی بارگاہ میں پہنچ چکے تھے۔

اس کی شہادت کے بعد جس طرح پورے کشمیر میں جذبات بھڑکے اور جس طرح اس کے جنازے میں لوگ جوق در جوق پہنچے اور جیسے اس شخص کی میت کو کندھا دینے کے لیے گھمسان کا رن پڑا۔ سب آیندہ سالوں کے کشمیر کا نقشہ واضح کرتا ہے۔ فوج کے ترجمان کہتے ہیں کہ ہمیں اس کے بعد ایک زیادہ زور دار مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ حزب المجاہدین نے کہا کہ وہ جنوبی کشمیر کا کمانڈر تھا۔ اس کی جگہ لینے کے لیے بہت نوجوان موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برہان کی آخری ویڈیو جس میں وہ نئے آنے والے مجاہدین کے ساتھ کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آتا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری نوجوان جوق در جوق شامل ہونے چلے جارہے ہیں۔

گزشتہ دو سالوں سے ایک چیز کشمیر میں بہت عام ہوئی ہے اور وہ ہے پاکستانی پرچم۔ برہان کے جنازے میں بھی یہ پرچم بار بار دکھائی دیا گیا۔ اسے پاکستان کے پرچم میں دفن کیا گیا۔ یہ کشمیری پاکستان سے کیوں ملنا چاہتے ہیں۔ اپنی آزاد ریاست کے لیے جدوجہد کیوں نہیں کرتے۔ اس سوال کا جواب برہان وانی کے والد کے انٹرویو میں موجود ہے۔ اللہ کے لیے جان دینے والوں کو بخوبی علم ہے کہ دنیا میں دو سو سے زیادہ ملکوں میں سے صرف ایک ملک ایسا ہے جو رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر نہیں بلکہ کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر بنا ہے۔ کشمیر کے لیے مرو یا دنیا کے کسی اور ملک کے لیے اس مقصد دنیاوی، علاقائی اور قومی جدوجہد میں مرکر امرہونا ہوگا۔ لیکن پاکستان کے لیے مرنا اللہ کے لیے مرنا ہے۔ شہادت کی موت ہے۔ اسی لیے جب بوڑھا سیدعلی گیلانی نعرہ بلند کرتا ہے کہ پاکستان سے رشتہ کیا، لاالہ الااللہ تو پورا کشمیر گونج اٹھتا ہے۔ اس لیے کہ کشمیری کہتے ہیں، پہلے اللہ پھر بیٹا، پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بیٹا، پہلے قرآن پھر بیٹا۔

اوریا مقبول جان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s