عبدالستار ایدھی، ایک عہد ساز شخصیت

1951 میں بالکل صفر سے آغاز کرنے والے عبدالستار ایدھی نے پاکستان کو سب سے بڑا فلاحی ادارہ دیا، وہ ملک و قوم کے ہیرو ہیں۔ کپڑوں کے 2 جوڑوں پر مطمئن ایدھی صاحب بغیر کھڑکی اور سفید ٹائلوں والے ایک کمرے میں رہائش پذیر ہیں، جس کے ساتھ ہی ان کے خیراتی ادارے کا دفتر موجود ہے۔ اس کمرے میں انتہائی کم سامان ہے، جس میں ایک بیڈ، ایک سنک اور ایک چولہا شامل ہے۔ عبدالستار ایدھی کی بیگم بلقیس ایدھی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ سے بات کرتے ہوئے بتایا، ‘انہوں نے آج تک اپنے بچوں کے لیے گھر نہیں بنایا۔’

ایدھی صاحب نے پاکستان کے غریب اور مفلس افراد کے لیے اس کام کا آغاز کیا اور قوم کو اس حوالے سے متحرک کیا کہ وہ عطیات دیں اور کام کرنے میں مدد کریں، جس سے فلاحی اداروں کی کمی کی وجہ سے آنے والے خلاء کو دور کیا جاسکے۔ اس علاقے میں موجود ایمبولینس کے اسپیکر سے صدا آ رہی تھی، ‘ایدھی صاحب یہاں موجود ہیں اور آپ کی امداد کے منتظر ہیں۔’برابر سے گزرتے افراد اس کمزور، سفید داڑھی والے، قراقلی ٹوپی پہنے شخص کے پاس رکتے، عقیدت کا اظہار کرتے اورامداد دیتے۔ یہی وہ شخص ہے جو پورے ملک اور بیرون ممالک میں بھی عبدالستار ایدھی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ ایدھی کو نوبل امن انعام کے لیے کئی بار نامزد کیا جاچکا ہے، اس سال بھی وہ نامزد افراد کی فہرست میں شامل ہیں،

نئی قوم، نئی امید

عبالستار ایدھی، برطانیہ کے زیرِ انتظام ہندوستان کے علاقے گجرات میں ایک مسلمان تاجر کے گھر پیدا ہوئے اور پھر 1947 میں وہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ ان کے بیٹے فیصل ایدھی کا کہنا تھا، ‘انہوں (ایدھی صاحب) نے سوچا تھا کہ مسلمانوں کی یہ مملکت سماجی فلاحی ریاست ہوگی، مگر جب وہ پاکستان پہنچے تو اس کے بالکل برعکس پایا۔’لیکن جب یہ ریاست ایدھی کی مفلوج اور دماغی بیماری کی شکار والدہ کی دیکھ بھال میں اس خاندان کی مدد نہیں کر پائی، تو یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے خدمتِ خلق کا فیصلہ کیا اور 1951 میں شہرِ قائد کے قلب میں نہایت پُرامید ہو کر اپنا کلینک کھولا۔

اپنی سوانح حیات ‘اے میرر ٹو دی بلائنڈ’ میں ایدھی صاحب نے لکھا، ‘معاشرے کی خدمت میری صلاحیت تھی، جسے مجھے سامنے لانا تھا۔’گزشتہ سالوں میں ایدھی اور ان کی ٹیم نے میٹرنٹی وارڈز، مردہ خانے، یتیم خانے، شیلٹر ہومز اور اولڈ ہومز بھی بنائے، جس کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا تھا جو اپنی مدد آپ نہیں کرسکتے۔ اس ادارے کا سب سے ممتاز حصہ اس کی 1500 ایمبولینس ہیں جو ملک میں دہشت گردی کے حملوں کے دوران بھی غیر معمولی طریقے سے اپنا کام کرتی نظر آتی ہیں۔

مذہب سے بالا تر ہو کر انسانی اقدار کو فروغ دینے اور لوگوں کو بااختیار بنانے کے سفر میں ایدھی کو کئی انتہا پسند سوچ رکھنے والوں کا سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے ان کے کام کو غیر اسلامی اور ایدھی صاحب کو کافر تک قرار دے دیا۔ لیکن ایدھی صاحب نے اپنی انتھک کوششوں اور محنت کے ساتھ اپنے دشمنوں کے منہ بند کروا دیئے۔ انھیں اس کام میں اتنی عزت ملی کہ مسلح گروہ اور ڈاکو بھی ان کی ایمبولینس کو بخش دیا کرتے تھے۔ 1.5 بلین روپے کا سالانہ بجٹ، جن میں سے بڑا حصہ پاکستان کے متوسط طبقہ کی جانب سے دی گئی امداد پر مشتمل ہوتا ہے، مسلسل بڑھ رہا ہے۔ فیصل ایدھی کے مطابق ‘بنیاد پرست گروپ، تنقید کے باجود اس امداد کو اپنے مفاد کے لیے چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔’

بلقیس ایدھی کی خدمات

ایدھی فاؤنڈیشن ملک بھر میں 5700 لاوارث بچوں، بوڑھی اور مظلوم خواتین اور معذور افراد سمیت نشے کے عادی افراد کو بھی 17 پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے، جہاں تقریباً 3 ہزار کے قریب افراد ملازم ہیں، جن میں سے اکثر وہ ہیں، جو پہلے یہیں کے رہائشی تھے۔ بلقیس ایدھی کو اپنی ‘جھولا’ سروس پر سب سے زیادہ فخر ہے، جہاں ڈالے گئے بچوں کو گود لیا جاتا ہے۔ اپنے کام کے آغاز میں ایدھی صاحب جب اپنی ایمبولینس میں شہر کا دورہ کرتے تو انہیں کثیر تعداد میں نومولود بچوں کی لاشیں ملتیں، جنہیں لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا، جس کے بعد اب اس ادارے نے ہر سینڑ کے باہر ایک جھولا لگا دیا ہے جس پر درج ہے ‘معصوم بچوں کو قل نہ کریں، انہیں ہمارے جھولے میں ڈال دیں’.

بلقیس ایدھی نے اُن خواتین کی تصاویر بھی دکھائیں جنھیں بچپن میں ان کے والدین نے اپنانے سے انکار کردیا تھا، آج وہ معتبر جامعات سے گریجویٹ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلی 4 دہائیوں میں کئی ہزار بچے، جن میں سے بڑی تعداد لڑکیوں کی ہے، ایدھی سینٹر کے جھولے میں ڈالے گئے۔ ایدھی سینٹر میں پروان چڑھنے والی 16 سالہ سحر نے کہا، ‘اگر ایدھی نہ ہوتے، تو میں اس وقت زندہ نہ ہوتی۔’ ان کا مزید کہنا تھا، ‘بلقیس ایدھی اور ایدھی صاحب ہر وقت ہم لوگوں کے لیے موجود ہوتے ہیں۔’ وہ چھوٹے بچوں کا خیال رکھتی ہیں، جن میں ایک اُس چور کی بیٹی بھی ہے جسے 2014 میں اسی ادارے میں چوری کرنے کی بناء پر جیل ہوگئی تھی۔

ایدھی صاحب فی الوقت اپنے ادارے کی دیکھ بھال کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے فیصل ایدھی کو 2016 کے آغاز میں ادارے کا ٹرسٹی بنا دیا تھا۔ ایدھی صاحب نے آہ بھرتے ہوئے کہا، ‘میں نے بہت زیادہ کام کرلیا ہے، میں اپنی زندگی سے مطمئین ہوں۔’دوسری جانب فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ ان کے والد اُن کے ہیرو ہیں اور اپنے والد کی جگہ لینا ایک ‘بہت بڑی ذمہ داری ہے’۔

انہوں نے کہا، ‘ابھی ہمیں بہت کچھ کرنا ہے’۔

بشکریہ ڈان نیوز اردو

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s