برطانوی ریفرینڈم : سٹے بازوں کا فیورٹ کون؟

برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے معاملے پر برطانوی عوام، سیاست دان
اور رائے عامہ کے جائزے تک تو منقسم ہیں لیکن سیاسی سٹے باز یورپی یونین سے نکلنے کی حامی مہم کو فیورٹ قرار دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ’پولیٹیکل بیٹنگ‘ یا سیاسی سٹے بازی میں فیورٹ امیدوار یا پارٹی کا تعین کیسے ہوتا ہے؟ اور پھر مختلف شرطوں کے ریٹ یا بھاؤ کیسے طے کیے جاتے ہیں۔ مائیک سمتھسن بی بی سی سے منسلک رہ چکے ہیں، وہ اب ایک سیاست دان اور پولیٹیکل بیٹنگ کے ماہر ہیں اور اپنی کتاب ’دی پولیٹیکل پنٹر‘ میں انھوں نے ان لوگوں کے لیے سیاسی سٹے بازی کے گْر تحریر کیے ہیں جو اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ پولیٹیکل بیٹنگ یا سیاسی سٹہ بازی میں ’آڈز‘ یا بھاؤ طے ہونے کا دار و مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ لوگ کس امیدوار یا پارٹی پر زیادہ پیسہ لگاتے ہیں۔ یعنی اگر زیادہ لوگ برطانیہ کے یورپ چھوڑنے پر پیسے لگائیں تو یہی مہم سٹے بازوں کی فیورٹ قرار پائے گی۔ اس وقت اگر بیٹنگ یا سٹے بازی کی مارکیٹ پر نظر ڈالی جائے تو یہی صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ سٹے باز کمپنی پیڈی پاور کی ویب سائٹ پر اگر برطانیہ کے یورپ میں رہنے پر شرط لگائی جائے تو جیت کی صورت میں تین سو پاؤنڈ کے بدلے چار سو پاؤنڈ ملیں گے۔ لیکن اگر برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے پر شرط لگائی جائے تو جیت کی صورت میں تین سو کے بدلے نو سو پاؤنڈ مل رہے ہیں۔

یعنی جس کی جیت پر کم پیسے ملیں، وہی فیورٹ۔

مائیک کا کہنا تھا کہ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ رائے عامہ کے جائزوں میں تو یورپی یونین میں رہنے اور اسے چھوڑنے کی مہم کے درمیان فرق کم ہے لیکن سٹے بازی کی مارکیٹ میں فرق خاصا زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپی یونین میں رہنے کی مہم پر بہت بڑی بڑی شرطیں اور پیسے لگائے جا رہے ہیں۔
مغربی ممالک میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ سیاسی رپورٹنگ سے وابستہ صحافی اپنے تـجزیوں میں رائے عامہ کے جائزوں کے علاوہ بیٹنگ مارکیٹ کے بھاؤ کا بھی حوالہ دیتے ہیں۔
ہیرلڈ سکاٹ لینڈ سے وابستہ صحافی پیٹر سوینڈن بھی ان صحافیوں میں شامل ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لیے سیاسی سٹہ بازی کی مارکیٹ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی رپورٹنگ میں سیاسی بیٹنگ کے بھاؤ پر نظر رکھنے سے آپ کی سٹوریز میں زیادہ گہرائی نظر آئے گی، آپ کو مختلف شرطوں کے بھاؤ سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ سیاسی منظر نامہ کون سی کروٹ بدل سکتا ہے۔‘پیٹر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کا اگلا وزیر اعظم کون ہو گا، اس پر بورس جانسن تو سٹے بازوں کے فیورٹ ہیں لیکن انھوں نے اس شرط میں امبر روڈ کا نام بھی دیا ہوا ہے، جس سے بطور صحافی مجھے یہ اشارے ملتے ہیں کہ امبر روڈ پر بھی میں نظر رکھوں۔
سیاسی سٹے بازی کا موضوع دلچسپ اس لحاظ سے بھی ہے کہ اس میں کبھی کبھار بڑے بڑے اپ سیٹس بھی ہو جاتے ہیں لیکن اس مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بھی اسی تیزی سے آتا ہے جس تیزی سے سیاسی صورت حال بدلتی ہے۔ برطانیہ کی حزبِ اختلاف لیبر پارٹی کے سربراہ نے جب اپنی جماعت کی سربراہی کے لیے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو سٹے بازوں نے ان کی جیت کا بھاؤ ’ایک پر سو‘ یعنی ایک کے بدلے سو پاؤنڈ رکھا تھا، لیکن جیسے جیسے جیریمی کوربن اپنی کامیاب مہم کے باعث جیت کے قریب ہوتے گئے، سٹے باز مارکیٹ میں ان کی جیت پر ملنے والے پیسے بھی کم ہوتے گئے۔
مائیک سمتھسن سے دوران گفتگو ازرائے مذاق پوچھا کہ ویسے تو آپ فیس لے کر پولیٹیکل بیٹنگ کے مشورے دیتے ہیں لیکن بتا ہی دیں کہ یورپی ریفرینڈم میں فیورٹ کون ہے؟ مائیک نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، ’ابھی صبر کریں، ایک اور دن انتظار کر لیں۔‘
عادل شاہ زیب
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s