نیوکلیئر سپلائرزگروپ (این ایس جی) : پاکستان کا موقف کتنا مضبوط؟

جوہری مواد کی پرامن مقاصد کے لیے تجارت کے نگران نیوکلیئر سپلائرزگروپ
(این ایس جی) کا غیرمعمولی اجلاس جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں جاری ہے اور پاکستان کے انڈیا کے ساتھ 48 ممالک پر مشتمل اس کلب کی رکنیت پر سینگ اڑائے ہوئے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ اس گروپ کی رکنیت کا اتنا ہی حقدار ہے جتنا کہ بھارت لیکن پاکستان کا موقف کتنا مضبوط ہے؟ کیا بعض کمزوریاں اس کے خلاف جا سکتی ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں دنیا میں جوہری توانائی کے حصول کے لیے ری ایکٹرز، آلات اور سامان کی مانگ میں زبردست اضافہ دیکھا جانے والا ہے اور اسی منڈی سے معاشی فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان اور بھارت اس گروپ کی رکنیت کی دوڑ میں شامل ہیں۔ پاکستان کے نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کے کہنے پر صدر ایوب خان نے کینیڈا سے 1972 میں اپنا پہلا جوہری ری ایکٹر حاصل کیا۔ کینپ نامی یہ پلانٹ کراچی میں نصب ہے۔ 

اس کے بعد پاکستان نے چین سے دو مزید ری ایکٹرز حاصل کیے اور آج کل وہ آٹھ مزید ری ایکٹرز نصب کرنے کے سلسلے میں مختلف مراحل میں ہے۔ اگرچہ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ اس این ایس جی گروپ کی رکنیت کی تمام شرائط پوری کرتا ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ تاحال پاکستان نے خود مقامی طور پر نہ جوہری ری ایکٹر ڈیزائن اور نہ ہی تعمیر کیا ہے۔ اسلام آباد میں قائم سٹریٹیجک وژن انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر ظفر اقبال چیمہ اس سے متفق نہیں اور وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کا سویلین جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا ریکارڈ صاف ستھرا ہے۔ ’آج تک پاکستان کی تاریخ میں بجلی بنانے کے جوہری ری ایکٹرز میں کوئی رپورٹڈ حادثہ نہیں ہے۔ نہ دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے جوہری سائنسدانوں کی پرفارمنس کے سب معترف ہیں۔ میرے خیال میں اس سلسلے میں پاکستان کی سرٹیفیکیشنز کافی بہتر ہیں۔‘ پاکستان پرامن جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی کے لیے غیر امتیازی اور قواعد پر مبنی نظام چاہتا ہے جو اس کی سماجی، اقتصادی ترقی اور ٹیکنالوجی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

  
بین الاقوامی جوہری تنظیم آئی اے ای اے میں پانچ برس تک پاکستان کے مندوب کی ذمہ داریاں نبھانے والے علی سرور نقوی کہتے ہیں کہ جوہری پلانٹس کی تعمیر اور برآمد کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کا تاثر درست نہیں۔ ’پاکستان سپلائر ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے آئی اے ای اے سے کہا ہوا ہے کہ وہ نیم افزودہ یورینیم برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا مکمل طور پر تیار کردہ فیول سائیکل ہے جو کہ بہت کم ممالک کے پاس ہے۔ پاکستان تمام معیار پر پورا اترتا ہے۔‘
لیکن کنگز کالج لندن کے سینیئر ریسرچ فیلو این جے سٹیورٹ کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ہیوی واٹر، جوہری مینوپلیٹرز، مرجنگ سٹیل اور زرکونیم تیار کرنے کی صلاحیت یقیناً ہے۔ لیکن یہ سب ریاست کرتی ہے جس کی صلاحیت اتنی نہیں کہ وہ برآمدات میں حصہ لے سکے۔‘پاکستان کی رکنیت کی درخواست کے خلاف دوسرا بڑا منفی نکتہ مینوفیکچرنگ شعبے میں صلاحیت کا تمام تر ریاست کے کنٹرول میں ہونا ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی نجی شراکت دار یا کمپنی شامل نہیں ہے۔
ڈاکٹر ظفر اقبال چیمہ اسے درست مانتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ یہ محض پاکستان میں نہیں ہے بلکہ بھارت میں بھی ایسا ہی ہے۔ ہم سے زیادہ تو این پی ٹی کی وائیلیشن بھارت نے کی ہے۔ بھارت نے تو 0974 میں ہتھیار کا تجربہ کیا تھا۔ جو خود انھوں نے بعد میں تسلیم کیا۔ پھر 1998 میں اس نے دوبارہ تجربہ کیا۔
’اکثر ترقی پذیر ممالک بلکہ چین میں ایسا ہی ہے۔ صرف امریکہ، مغربی ممالک اور جاپان میں نجی شعبہ سرکاری شعبے سے آگے ہے۔ میرے علم میں ہے کہ نجی شعبے کو اب کچھ اس جانب لایا جا رہا ہے لیکن اس میں ابھی وقت لگے گا۔‘
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ شاید پاکستان کو اس رکنیت کی ضرورت ان چیزوں تک رسائی کے لیے ہے جو وہ خود تیار یا بیرون ملک سے حاصل نہیں کر سکتا لیکن خیال رہے کہ یہ سہولت پاکستان اس تنظیم کا رکن بنے بغیر بھی حاصل کرسکتا ہے۔
پاکستان کہہ چکا ہے کہ وہ بھی انڈیا کی طرح تمام سویلین جوہری تنصیبات پر آئی اے ای اے کی نگرانی کے لیے تیار ہے۔ اگرچہ پاکستان نے 70 کی دہائی میں مبینہ جوہری پھیلاؤ کے بعد سے سخت کنٹرول رکھے ہیں لیکن ماضی بھلانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ڈاکٹر ظفر اقبال چیمہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کا دور اب ختم ہوچکا ہے اور اس کے بعد جوہری ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا کوئی نیا واقعہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ڈاکٹر ظفر کہتے ہیں کہ پاکستان سے زیادہ تو این پی ٹی کی خلاف ورزی انڈیا نے کی ہے۔ ’بھارت نے تو 1974 میں جوہری ہتھیار کا تجربہ کیا تھا۔ جو خود انھوں نے بعد میں تسلیم کیا۔ پھر 1998 میں اس نے دوبارہ تجربہ کیا۔‘
ڈاکٹر ظفر اقبال چیمہ کہتے ہیں کہ جوہری خریدوفروخت کی تو ایک بڑی بین الاقوامی بلیک مارکیٹ ہے۔ ’اس میں مغرب، امریکہ، جرمنی اور سوئس ملوث ہیں۔ پاکستان نے تو ایک مرتبہ ڈاکٹر اے کیو خان کی سرزنش کے بعد کچھ ایسا نہیں کیا ہے۔‘
علی سرور نقوی کہتے ہیں کہ چین نے بھارت سے کہا ہے کہ اس گروپ کی رکنیت کی شرائط کا از سرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں صورتحال کوئی زیادہ واضح نہیں ہے۔ تقریباً یہی رائے ڈاکٹر ظفر چیمہ کی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ این ایس جی کے اس اجلاس میں نئی رکنیت پر تعطل سامنے آنے کا قومی امکان ہے۔
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s