ہنری کیسنجر کی ویتنام کو دھکمی

ویتنام جنگ، پچھلی صدی کی اہم ترین جنگ ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد
امریکہ دنیا کے تمام براعظموں پر اپنی عسکری حاکمیت کے لیے مختلف خطوں میں بڑی سرعت کے ساتھ سرگرم ہوا۔ وہ جہاں پرانے نوآبادیاتی نظام کی جگہ نیا سامراجی نظام قائم کرنا چاہتا تھا، وہیں اس کو سرمایہ داری نظام کے مقابلے میں اشتراکی نظام کا ایک بڑا چیلنج درپیش تھا۔ سوو یت یونین اور عوامی جمہوریہ چین پچھلی صدی میں اشتراکی نظام کے اہم مراکز کے طور پر ابھرے جس کے اثرات ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں ثبت ہونے لگے۔

امریکہ نے Containment of Communism کے لیے سوویت یونین، عوامی جمہوریہ چین اور ان کے زیراثر ممالک میں سیاسی اور عسکری حوالے سے بھرپور پالیسیاں اپنائیں جس میں امریکہ کا Global War Agenda سرفہرست تھا۔ امریکہ جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر اپنی War Machinery کو میدانِ جنگوں میں استعمال کرنے لگا۔ ویتنام اس زمانے میں امریکی سامراج اور ویتنامی جنگِ آزادی اور سوشلسٹ انقلاب کا اہم میدان بنا۔ ویتنام کے رہنما ہوچی مِن اس جنگ آزادی اور انقلاب کے قائد تھے جو اس وقت دنیا بھر میں چلنے والی سوشلسٹ تحریکوں کے آئیڈیل بن کر ابھرے۔ امریکہ نے اپنے سامراجی عزائم کو مسلط کرنے کے لیے ویتنام میں جنگ کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ جنگ ویتنام کو دوسری انڈو چائنا جنگ بھی کہا جاتا ہے۔ 1946ء میں یہ جنگ ویتنام، لاؤس اور کمبوڈیا سے شروع ہوئی۔ اس جنگ میں امریکہ اور دوسری طرف سابق سوویت یونین و عوامی جمہوریہ چین جنگ زدہ قوتوں کے اتحادی بن کر سامنے آئے۔ شمالی ویتنام کی حمایت، چین اور اشتراکی روس نے کی اور جنوبی ویتنام کے پیچھے امریکہ بھرپور انداز میں شامل ہوا۔ امریکہ نے یہاں براہِ راست فوجی مداخلت کی۔

اس جنگ میں عسکری اور عددی طاقت میں امریکہ ایک بالادست ملک تھا۔ ویتنامیوں نے دس لاکھ اور امریکہ نے ساٹھ ہزار نفوس اس جنگ کی نذر کردئیے۔جنگِ ویتنام ، امریکہ کے لیے ایک ایسا گرم آلو (Hot Potato) ثابت ہوئی کہ اس کے لیے اس جنگ سے نکلنا مشکل ہوگیا۔ جہاں ویتنامیوں نے اس جنگ میں مزاحمت میں امریکہ کو اس کی جنگی ٹیکنالوجی اور عددی برتری کے باوجود ناکوں چنے چبوائے، وہیں جنگ ویتنام یورپ، ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ حتیٰ کہ خود ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ایک سامراجی نفرت کی علامت بن کر ابھری۔ اس جنگ کے لیے امریکہ نے اپنے ہاں جبری بھرتی بھی کی ، مرحوم باکسر محمد علی اسی جنگِ ویتنام میں ایک ہیرو بن کر ابھرا کہ اس نے امریکہ کی جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اس میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔ امریکہ نے اپنے ہاں سیاہ فام اور ہسپانوی شہریوں کو جبری بھرتی میں اہم ٹارگٹ رکھا۔

دو ہزار میں مجھے امریکہ کی Associated State پورٹوریکو جو کیوبا سے بھی آگے ڈومینکن جمہوریہ (Dominican Republic) کے ساتھ جزیرہ ہے اور امریکہ کی تاحال کالونی ہے، کے سفر کا موقع ملا تو مجھے علم ہوا کہ وہاں امریکی تسلط کے خلاف کس قدر نفرت پائی جاتی ہے۔ ہسپانوی لوگوں کا یہ جزیرہ جنگِ ویتنام میں جبری بھرتی کے لیے اہم مرکز تھا۔ اس سفر میں میرا ایک میزبان ہروقت امریکہ کو کوستا رہتا تھا کہ کیسے اُس کو ویتنام میں جنگ لڑنے کے لیے جبراً دھکیلا گیا۔ میرا یہ پورٹوریکن دوست کارلوس اپنی پتلون اوپر کرکے بائیں ٹانگ پر لگی ویتنامیوں کی گولی دکھاتا اور کہتا، ’’یہ زخم ویتنامیوں کی گولی سے بنا، مگر اس کا تمام تر ذمہ دار بدمعاش امریکہ ہے۔‘‘

جنگِ ویتنام میں ہوچی مِن نے مسلح حملہ آوروں کے خلاف عوامی جنگ لڑی۔ یہ کوئی دہشت گردی نہیں تھی کہ وہ امریکیوں کے گھروں، گرجا گھروں اور معصوم امریکی شہریوں کو چوری چھپے نشانہ نہیں بناتا تھا۔ جبکہ ہوچی مِن نے باقاعدہ مسلح حملہ آور افواج کے خلاف ایک باقاعدہ جنگ لڑی۔ اس دوران ہوچی مِن نے اپنے مخالف کے ساتھ اپنی شرائط پر مذاکرات بھی کیے جو جنگوں میں حکمت عملی کا ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اس جنگ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد 1972ء میں سب سے بڑا فضائی حملہ ہوا، جس کو ویتنام میں آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب امریکی صدر رچرڈ نکسن کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر ہنری کسنجر نے ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کی پولٹ بیورو کے رکن لی ڈک تھو کے ساتھ 8اکتوبر 1972ء کو جنگ بندی کے لیے خفیہ مذاکرات کیے۔

مذاکرات کے مختلف مراحل کے بعد طے ہوا کہ 31 اکتوبر کو ہنوئی میں معاہدے پر باقاعدہ دستخط ہوں گے۔ لیکن امریکیوں نے اس معاہدے میں بہت لیت ولعل سے کام لینا شروع کردیا۔ بالواسطہ رابطوں کے بعد پھر طے ہوا کہ 16دسمبر 1972ء کو مزید نکات پر بات ہوگی۔ 14دسمبر کو پیرس سے روانگی کے وقت ہنری کسنجر نے ویتنام کو دھمکی آمیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ 72گھنٹوں کے اندر معاہدے پر دستخط کرے ورنہ وہ ہنوئی کو قبرستان بنا دے گا۔ اس نے اپنے بیان میں کہا تھا، “Grave Consequences”۔ اور جب وہ امریکہ پہنچا تو امریکی افواج نے ویتنام کے شہر ہنوئی کو قبرستان بنانے کے لیے خوفناک فضائی حملے کا آغاز کردیا۔ ہنوئی میں اپنے قیام کے دوران جب اس فضائی حملے کی تاریخ میرے ذہن میں آئی توایسے لگا جیسے یہ ہنستا بستا ہنوئی ایک خواب ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں۔ امریکہ نے اس حملے میں اپنے جدید ترین جنگی طیارے B-52 استعمال کیے جبکہ ویتنام کے پاس اس کا فضائی اور زمین سے مقابلہ کرنے کی کوئی صلاحیت نہ تھی۔ امریکی اس کو Operation Linebacker II یا Christmas Bombing بھی کہتے ہیں۔

اس فضائی حملے میں امریکیوں نے جدید B-52 طیاروں کے ذریعے جھیلوں کے شہر ہنوئی پر بموں کی بارش کردی۔ دسمبر کے وہ ایام جب ہنوئی میں وقتاً فوقتاً بارش ہوتی ہے،18 سے 29دسمبر 1972ء کو اِن ہی دنوں میں ہنوئی کے شہریوں پر امریکی بموں کی بارش ہوئی۔ امریکی یہ یقین کیے بیٹھے تھے کہ ویتنام پہلی دھمکی پر ہی سرینڈر کر جائے گا،اگر نہیں تو بموں کی بارش ہنوئی کو ’’کمیو نزم کا قبرستان‘‘ بنادے گی۔ لیکن ویتنامیوں نے ہنوئی پر امریکی جنگی طیاروں B-52 کو غیر متوقع طور پر حیران کر دیا۔
ہنوئی میں کانفرنس میں شریک ایک سابق ویتنامی سفارتکار نگیون کو انگ کھائی جو مشرقِ وسطیٰ میں بیس سال تک سفارتکاری کرتے رہے، انہوں نے مجھے اس جنگ کے دو دلچسپ پہلو بتائے۔ نگیون کو انگ کھائی کے بقول، پہلے دن ہی جب ویتنامیوں نے چھے B-52 گرا دئیے تو واشنگٹن میں کہرام مچ گیا۔ امریکیوں کی اطلاعات کے مطابق، ویت نام زمینی یا فضائی حملے سے B-52 کو ٹارگٹ کرنے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ یہی وہ یقین تھا ،جس کے تحت ڈاکٹر ہنری کسنجر نے ہنوئی کو قبرستان بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
امریکی غیر متوقع نقصان سے دوچار ہو کر ورطۂ حیرت میں تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ B-52 طیارہ ہنوئی میں گرایا جا سکے۔ میرے ویتنامی دوست سابق سفیر نگیون کے بقول، امریکی معلومات کا نظام بہت کمزور ثابت ہوا۔ میں نے کہا، نہیں دراصل اُن کو ویتنامیوں میں اپنے ایجنٹ بنانے میں ناکامی ہوئی۔ مسٹر نگیون کے بقول، ویتنام اس وقت تک سابق سوویت یونین سےSAM2 میزائل حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔ اس کے سبب پہلے دن 6 اور 12 دنوں میں چالیس B-52 اور 50 دیگر امریکی طیارے ہنوئی کی فضاؤں میں مار گرائے گئے۔ سابق سینئر سفارتکار کے بقول ویتنامیوں نے جہاں سوویت یونین سےSAM2 میزائل حاصل کر لیے تھے، وہیں ہم نے خود بھی SAM2 سے ملتا جلتا میزائل بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی جس نے ویت نام کو” کمیونزم کا قبرستان” بنانے کے خواب کو شکست فاش دے دی۔
جب دھڑا دھڑ ہنوئی میں امریکی طیارے گرنے لگے تو واشنگٹن معاہدے کے لیے بے تاب ہوگیا۔ یہ اس کی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی شکست اور ویتنام میں جنگ کے خاتمے کا آخری مرحلہ اور ویتنامیوں کی مزاحمت کا آخری دَور تھا۔ اس کے بعد ویتنام اور امریکہ جنگ بندی پر متفق ہوئے اور ویتنام سامراج کی کالونی بننے کی بجائے ایک آزاد اور خودمختار اشتراکی ملک بن کر ابھرا۔ لیکن اس ساری جنگ کا ایک پہلو حیران کن ہے، میرے اس ویت نامی دوست سفارتکار نگیون کو انگ کھائی نے بتایا کہ جب ویتنام اور امریکہ جنگ بندی اور معاہدے کے لیے تیار ہوئے اور امریکہ امن کی بھیک مانگ رہا تھا، تب تک ہمارے پاس صرف ایک SAM2 میزائل رہ گیا تھا، اگراس وقت امریکہ کو معلوم ہوجاتا کہ اب ویتنام کے پاس ایک ہی SAM2 میزائل باقی رہ گیاہے تو شاید جنگ اور تاریخ کچھ اور طرح طے ہوتی۔
ہنوئی میں اس فضائی حملے کے حوالے سے ایک باقاعدہ میوزیم ہے جسے راقم نے جاکر دیکھا کہ کیسے ’’کمیونزم کا قبرستان‘‘ بنانے والوں کے طیارے مزاحمت کرنے والوں اور آزادی اور انقلاب کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے شانداریادگار ہیں۔ Museum of Victory Over B-52″ “ہنوئی میں جنگِ ویتنام کی فتح کا میوزیم ہے۔ امریکی طیاروں B-52 کے یہ ڈھانچے سامراج کی شکست اور ویتنام کے انقلاب کی کہانی بتا رہے ہیں۔ بشکریہ روزنامہ ‘نئی بات’
فرخ سہیل گوئندی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s