نیوکلیئر سپلائر گروپ کیا ہے؟

آج کل نیوکلئیر سپلائرز گروپ میں شمولیت کا ایشو قومی اور بین الاقوامی اخبارات
پر چھایا ہوا ہے۔ پاکستان اس کاممبر بننا چاہتا ہے ، مگر پاکستان کو زیادہ تحفظات بھارت کے اس گروپ کا ممبر بننے کی کوششوں پر ہیں۔ امریکہ بھارت کی بھرپور حمایت کر رہا ہے اور وہ اسے اس گروپ میں لانا چاہتا ہے۔ ادھر چین واحد بڑی قوت ہے جو بھارت کی اس حوالے سے مخالفت کر رہی ہے۔ بھارتی وزیراعظم آج کل بڑے جوش وخروش سے اس کی لابنگ کر رہے ہیں۔ پاکستان یہ چاہتا ہے کہ خطے میں توازن برقرار رہے اور جنوبی ایشیا میں عدم استحکام پیدا نہ ہو۔

 اس وقت این ایس جی کے 48 رکن ممالک ہیں۔ارجنٹائن، آسٹریلیا، آسٹریا، بیلاروس، بیلجیئم، برازیل، بلغاریہ، کینیڈا، چین، کروشیا، قبرص، چیک رپبلک، ڈنمارک، ایسٹونیا، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، ہنگری، آئس لینڈ، آئرلینڈ، اٹلی، جاپان، قزاقستان، جمہوریہ کوریا، لیٹویا، لتھوانیا، لسکمبرگ، مالٹا، میکسیکو، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے، پولینڈ،پرتگال، رومانیہ، روس، سربیا، سلواکیا، سلوینیا، جنوبی افریقہ، سپین، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، ترکی، یوکرائن، برطانیہ اور امریکہ۔ یہ گروپ ایسے ممالک کا گروپ ہے جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے قوانین کے تحت جوہری مواد سپلائی کرنے کے لیے قوانین پر عمل درآمد کرواتا ہے۔ ایک طرح سے یہ جوہری مواد کی پرامن مقاصد کے لیے تجارت کانگران ادارہ ہے۔ این ایس جی کا قیام 1974ء میں بھارت کے جوہری دھماکے کرنے کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔ این ایس جی کے رہنما قوانین میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا اصول 1994ء میں شامل کیا گیا تھا۔
اس گروپ کے کوئی رکن ملکت جوہری مواد کی سپلائی صرف اسی صورت میں کرے گا جب وہ اس بات کا اطمینان کر لے کہ اس سپلائی کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ نہیں ہو گا۔ این ایس جی کے رہنما اصول مختلف عالمی قوانین سے وابستہ ہیں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے حوالے سے لاگو ہوتے ہیں۔ ان میں این پی ٹی یعنی جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا معاہدہ اور ایسے مختلف علاقائی معاہدے شامل ہیں جن پر مختلف ممالک نے دستخط کر رکھے ہیں۔ رکن ممالک کے لیے لازمی ہے کہ وہ این پی ٹی معاہدے پر دستخط کر چکے ہوں۔ این ایس جی کے تمام فیصلے مکمل اتفاقِ رائے کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور کی مکمل ذمہ داری این ایس جی کی پلینری اجلاس میں ہوتے ہیں جو سال میں ایک بار ہوتا ہے جس کی صدارت مختلف ممالک باری باری کرتے ہیں۔ این ایس جی کے مرکزی معاملات ایک تکون چلاتی ہے جس میں اس کی سابقہ، موجودہ اور مستقبل کی چیئر شامل ہیں جو اس وقت ارجنٹائن اور کوریا پر مشتمل ہے کیونکہ اس وقت اس کے چیئرارجنٹائن کے رفائل ماریا نوگراسی ہیں۔
ظاہر عمران
 (بحوالہ: آئی بی سی اُردو ڈاٹ کام)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s