نیوکلیئر سپلائر گروپ

سیاست مقامی ہو، ملکی ہو یا عالمی ہو، اس میں کامیاب وہی ہوتا ہے جو بہترین
پراپیگنڈے، اعصابی جنگ لڑنے کا ماہر ہو، اچھا پراپیگنڈا بھی وہی شخص کرسکتا ہے جو اچھی شخصیت کا مالک ہو، جو اپنی زبان، آنکھ، کان، دل اور دماغ کا اچھا استعمال کرسکتا ہو۔ اس وقت عالمی سطح پر بھارتی سیاسی چالیں کارگر ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس میں بڑا کردار اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا ہے جس نے مسند اقتدار پر فائز ہوتے ہی ایسے ایسے ممالک تک رسائی حاصل کی ہے جو بھارتی بنیوں کے وہم وگمان میں نہیں ہوں گے۔

بھارت کے اندرونی حالات جیسے بھی ہوں اس سے بالائے طاق نریندر مودی نے مسلمان ممالک جن میں عرب امارات، سعودی عرب، ایران، افغانستان و دیگر کے دورے کئے یہ محض دورے ہی نہیں تھے بلکہ کامیابیاں بھی سمیٹی ہیں۔ حتیٰ کہ چپکے سے پاکستانی سر زمین کا بھی چکر لگا گئے۔ مودی جس کے وزیراعظم بننے سے پہلے امریکہ میں داخلہ پر پابندی تھی، وہی مودی امریکہ صدر سے سات بار مل چکا ہے۔ بھارتی وزیراعظم ایک توسیع پسندانہ منصوبے کے تحت اپنے ملک کو ایشیاء کا چوہدری بنا کر پاکستان کو تنہا کرنا چاہتے ہیں، جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شامل ہونے کیلئے بھارت نے سوائے چین کے تمام ممالک کو اپنا ہمنوا بنالیا ہے، چین کا ہاتھ پاکستان کے سر پر ہے اور یہ رہے گا بھی، کیونکہ چین کے پاکستان سے مفادات وابستہ ہیں۔

جغرافیائی لحاظ سے چین اور بھارت سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی وسطی ایشیا تک رسائی کے درمیان پاکستان اور ایران حائل ہیں۔ کچھ کچھ حصہ افغانستان کا بھی ہے تینوں مسلمان ممالک سیاسی، جغرافیائی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان کی بندرگاہ گوادر اور ایرانی چاہ بہار دونوں ہرمز ریجن کے ماتھے پر واقع ہیں۔ دنیا کا دو تہائی حصہ تیل کا یہاں سے گزرتا ہے یعنی روزانہ 17 بلین بیرل خام تیل کی رسد اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔ یہ دونوں بندرگاہیں مکمل آپریشنل ہونے پر بین الاقوامی معیشت کا حب ثابت ہوں گی۔ یہ بحر ہند تک پہنچنے کا ذریعہ ثابت ہوں گی اور یہاں سے دنیا کے 70 فیصد پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل ہوسکے گی۔ سالانہ ایک لاکھ جہاز یہاں سے گزریں گے۔

بھارت نے جب دیکھا کہ چین براستہ پاکستان گوادر پر سرمایہ کاری کررہا ہے تو وہ بھی اس میدان میں کود پڑا حالانکہ اس کی اتنی حیثیت نہیں کہ وہ چینی معیشت کا مقابلہ کرسکے۔ بھارت نے 2003ء میں چاہ بہار بندرگاہ کا ٹھیکہ لیا۔ طویل عرصے تک وہ اس پر کام ہی نہیں شروع کرسکا۔ کافی انتظار کے بعد مئی 2015ء میں بھارت اور ایران کے مابین ایک میمورنڈم پر دستخط کئے گئے کہ اسے 2016ء تک مکمل کرلیا جائیگا۔ اس معاہدے کے تحت بھارت 85.21 ملین ڈالر اس منصوبے پر خرچ کرے گا۔ اب دونوں ایران بھارت اس منصوبے کو توسیع دے کر وسطی ایشیا تک پھیلانے کا منصوبہ لیکر میدان عمل میں اتر چکے ہیں۔ بھارت نے 2009ء میں سو ملین ڈالر کی سڑک دیلا رام سے زرنج تک تعمیر کی اور اب اسے توسیع دے کر سات سو کلومیٹر پر مشتمل سڑک تعمیر کرے گا، جو بھارت کو افغانستان کے صوبے نمروز سے چاہ بہار تک پہنچائے گی۔ اس طرح بھارت کا بھی وسطی ایشیا تک پہنچنے کا خواب پورا ہوجائے گا۔ بھارتی اقتصادی کھیل کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ اور پیسہ ہے جو براہ راست تو ایران میں انویسٹ نہیں کرسکتا لیکن بھارت کے ذریعے کر سکتا ہے۔ امریکہ پاک چین اقتصادی راہداری کو روکنا چاہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے گوادر بندرگاہ کا ٹھیکہ امریکہ کے بجائے چین کو دیا۔
گوادر بندرگاہ کا چارج چائینز اورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی(سی او پی ایچ) کے پاس ہے جو اس نے 40 سال کیلئے پاکستان سے ٹھیکہ پر لیا ہے۔ رواں سال یہ مکمل طور پر آپریشنل ہوجائے گی۔ اسی طرح چین اس تک پہنچنے کیلئے اپنے شہر کاشغر سے گوادر تک سڑکوں، ریلوے لائن اور پائپ لائنوں کا جال بچھا رہا ہے جن پر کام تیزی سے جاری ہے۔ چین ان منصوبوں پر 46 بلین ڈالر خرچ کرے گا۔ یہ راہداری تقریباً تین ہزار کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ راہداری صرف تیل اور دیگر معدنیات کے نقل وحمل کیلئے ہی صرف استعمال نہیں ہوگی بلکہ اس کے ارد گرد صنعتی زون قائم کیے جائیں گے جس سے 10 لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔ اسی سلسلہ میں پاکستان کے نوجوانوں اور سرمایہ کاروں کوچینی زبان بھی سکھائی جا رہی ہے۔
ادھر چین ایسے ہی نوٹوں کی بوریاں کھول کر میدان میں نہیں کود پڑا اس کی نظر وسطی ایشیا کے قدرتی وسائل پر ہے جو وہ نکال کراپنے ملک لے جانا چاہتا ہے۔ان قدرتی وسائل میں صرف تیل گیس ہی نہیں شامل ہے، بلکہ سونا، تانبا، ہیرے اور دیگر قیمتی پتھربھی ہیں۔ پہلے چین کو وسطی ایشیا تک پہنچنے کیلئے 16 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا تھا اب سی پیک مکمل ہونے پر 5 ہزار کلومیٹر تک محدود ہوجائیگا۔ چین اب اس لئے ہمارے ساتھ کھڑا ہے کہ اس کے مفادات کیلئے پاکستان کام کررہا ہے۔ بھارت نے دوستوں میں اضافہ کیا ہے ادھر پاکستان نے دشمنوں کی صف طویل کی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم اور اس کی ٹیم خود میدان میں ہے، جس کا صرف اور صرف فوکس پاکستان دشمنی اور اپنی معیشت کا فروغ ہے۔ پاکستان کے پاس سوائے بیماروں اور بزرگوں کی خارجہ ٹیم کے سوا کچھ نہیں، کسی کا دل خراب ہے تو کسی کا دماغ کام نہیں کرتا، بیماروں سے اسپتالوں کے بل بڑھتے ہیں ملک نہیں چلائے جاتے۔
اگر صاحب اقتدار یا وطن سے محبت کرنیوالا کوئی موجود ہے تو اپنی ٹیم بدلے، خدانخواستہ کچھ ملک کو ہوگیا تو اس کے ذمہ دار یہی ’’بابے‘‘ ہونگے۔ بھارت نیوکلیئر سپلائر گروپ کا ممبر بن جاتا ہے اور پاکستان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا یہ پاکستان کی بہت بڑی ناکامی ہوگی۔ 
اظہر تھراج

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s