کیا بھارت نیو کلیئرسپلائرز گروپ میں شامل ہو سکے گا ؟

بھارتی وزیراعظم امریکہ سے نکل کر کل میکسیکو گئے تھے اور وہاں کے
حکمرانوں سے اپنی نیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG) میں شمولیت کے لئے ووٹ مانگا تھا۔ میکسیکو ایک چھوٹا سا ملک ہے اور امریکہ کے ’’زیرِ سایہ‘‘ ہے، چنانچہ میکسیکو والوں نے بھی ہاتھی کے پاؤں میں پاؤں رکھ دیا اور مودی جی کو بتایا کہ ہم اس سلسلے میں آپ کے ہم نوا ہوں گے۔ اس سے پہلے مودی جی سوئٹزرلینڈ بھی تشریف لے گئے تھے اور ان کا ووٹ حاصل کر لیا تھا۔ اس پانچ ملکی دورے کے پیکیج میں مودی کا پہلا پڑاؤ کابل میں تھا جہاں انہوں نے ہرات میں ایک ڈیم کا افتتاح کیا۔ یہ ڈیم بھارت کے سرمائے (300ملین ڈالر) اور بھارتی انجینئروں کی مدد سے حال ہی میں مکمل کیا گیاہے۔ جب مودی 5جون کو امریکہ اُتر رہے تھے تو اسی روز ان کے وزیر دفاع منوہرپاریکر ویت نام کے   دارالحکومت ہنوئی میں اتر چکے تھے۔ وہ وہاں ویت نام کی حکومت سے ساؤتھ چائنا سمندر (Sea) میں چین کے خلاف ان امریکی (اور بھارتی) کوششوں کے سلسلے میں بات چیت کرنے اور امداد طلب کرنے گئے تھے جو آہستہ آہستہ عالمی تنازعے کا روپ دھارتی چلی جا رہی ہیں۔ مشرق اور مغرب میں بھارت کی یہ رسائیاں (Out -reaches) اتنی بدیہی ہو چکی ہیں کہ اوروں کو سمجھ آئے نہ آئے، چین کو سمجھ آ رہی ہے۔

بھارتی وزیر دفاع کا ویت نام کا دورہ ایک اور مقصد کے لئے بھی کیا جا رہا ہے۔۔۔ ویت نام اور چین کا بظاہر تو کوئی مقابلہ نہیں لیکن ویت نام کی جنگ میں چین نے ویت نامیوں کی جو عسکری اور مالی مدد کی تھی، وہ ویت نام کی نئی نسل کو اب بھی یاد ہے۔ لیکن چونکہ بعض علاقائی معاملات پر چین اور ویت نام میں اختلاف ہے اس لئے امریکہ اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے ( یا اٹھانا چاہتا ہے) یہی سبب ہے کہ چند روز پہلے صدر امریکہ وہاں جا کر ویت نامیوں کو یقین دلا چکے ہیں کہ ’’اب‘‘ امریکہ ان کا یارومددگار ہو گا۔ اتفاق دیکھئے کہ وہی جاپان جس پر دوسری عالمی جنگ میں امریکہ نے جوہری حملے کئے اور لاکھوں جاپانیوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور وہی ویت نام جس میں امریکہ نے لاکھوں ویت نامیوں کو سالہا سال تک کارپٹ بمباری اور نیپام بموں کا نشانہ بنایا وہ دونوں آج امریکی صدر کے سامنے سرِتسلیم خم کئے ہوئے ہیں!

منوہرپاریکر کے اس دورے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ویت نام کو اپنا براہموس (Brah-Mos) کروز میزائل بیچنا چاہتا ہے۔ بعض قارئین کو یاد ہو گا کہ یہ میزائل چند برس پہلے روس اور انڈیا نے مشترکہ طورپر ڈویلپ کیا تھا اس لئے اس کا نام براہموس رکھا گیا جس میں ’’براہ‘‘ انڈیا کے دریائے برہم پتر کا نصف اول ہے اور ’’موس‘‘ روس کے دریائے ماسکو کا۔ یہ کروز میزائل فضا، زمین اور سمندر سے (بذریعہ آبدوز) فائر کیا جا سکتا ہے، نہائت کارگر اور مہلک نتائج کا حامل ہے اور ویت نام اس کو چین کے خلاف استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ چونکہ یہ میزائل ماسکو اور دہلی کی مشترکہ پروڈکٹ ہے اس لئے انڈیا اور رشیا میں یہ معاہدہ ہے کہ جب تک دونوں ممالک راضی نہ ہوں اس وقت تک اسے کسی تیسرے ملک کو فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ روس، اگرچہ چین کا سٹرٹیجک ساتھی ہے لیکن آج کا ساتھی گزرے کل کا دشمن بھی تھا اور آنے والے کل میں ایک بار پھر دشمن بن سکتا ہے۔ اس لئے روس نہیں چاہتا کہ یہ میزائل ویتنام کو دے دیا جائے۔ روسیوں کو خدشہ ہے کہ یہ ہنوئی سے بیجنگ پہنچ جائے گا اور پھر چین اس کو ساؤتھ چائنا سمندر میں کسی بھی جارح ملک کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔

آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ جب سے بی جے پی سرکار دہلی میں براجمان ہوئی ہے، تب سے مودی اور ان کی کابینہ ’’گلوبل گاؤں گاؤں‘‘ چکر لگا کر وہاں کے ’’چودھریوں‘‘ سے ملاقاتیں کر رہی ہے اور بزعم خود پُرامید ہے کہ کامیابیاں اس کے قدم چوم رہی ہیں۔ یعنی اگر مشرق میں وزیر دفاع سرگرم ہیں تو مغرب میں خود وزیر اعظم بہ نفس نفیس گردش کناں ہیں۔ میں کل امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں مودی کی تقریر سن رہا تھا جو بڑی زور دار اور پر مغز تھی۔ موٹے موٹے انگریزی الفاظ اور مشکل بین الاقوامی سیاسی اصطلاحات ان کی زبان سے پھسل رہی تھیں۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ انڈین پارلیمینٹ اور امریکی کانگریس گویا ہم پلہ، ہمسر اور ہم مرتبہ ادارے ہیں! لیکن اس تقریر میں بھی مودی کو پاکستان نہیں بھولا اور انہوں نے نام لئے بغیر پاکستان کا یوں ذکر کیا اور کہا کہ ان کے ’’ہمسائے میں دہشت گردی کے عفریت پرورش پا رہے ہیں!‘‘۔ امریکی کانگریس کے اراکین جب تالیاں پیٹ رہے تھے تو بھارتی میڈیا کھکھلا رہا تھا لیکن اس میڈیا کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ آج امریکی نوازشیں ان پر دو وجوہات کی بنا پر لنڈھائی جا رہی ہیں۔ ایک تو جنوبی ایشیاء کے اس خطے میں امریکہ، چین کے خلاف بھارت کو پہلی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے اور دوسرے پاکستان کی 22 کروڑ کی ’’مونگ پھلی مارکیٹ‘‘ کے مقابلے میں بھارت کی 122 کروڑ کی ’’اخروٹ مارکیٹ‘‘ امریکی سوداگروں، تاجروں، ٹھیکیداروں، لٹیروں اور راہزنوں کی نگاہ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کوNSG میں داخلے کی حمایت کا لولی پاپ دے رکھا ہے۔ رہا افغانستان، سوٹزر لینڈ یا میکسیکو وغیرہ جیسے طفیلی ممالک کی حمایت کا سوال تو جب بھارت کی مارکیٹ کو نچوڑنے کا وقت آئے گا تو ان کے آگے بھی ’’حصہ بقدر جثہ‘‘ پھینک دیا جائے گا۔۔۔ اللہ اللہ، خیر سلا!

پاکستان نے بھی NSGمیں شمولیت کی درخواست دے رکھی ہے اور کئی ملکوں نے پاکستان کی حمایت کا یقین بھی دلا دیا ہے لیکن ہمارا سب سے بڑا تکیہ چین پر ہے۔ چین کا موقف ہے کہ اس کو بھارت کے NSG میں داخلے پر کوئی اعتراض نہیں بشرطیکہ پاکستان کو بھی اس گروپ میں شامل کر لیا جائے اور اس کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے کہ پاکستان بھی وہ ساری شرائط پوری کرتا ہے جو اس گروپ میں شامل ہونے کے لئے ضروری قرار دی گئی ہیں۔ رہا پاکستان کے اس ماضی کا قضیہ کہ اس نے کبھی ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کی مدد کی تھی اور ان کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں چوری چھپے ایک ناروا اقدام اٹھایا تھا تو یہ وہ گناہ ہے جو خود امریکہ بار بار کر چکا ہے۔  روس، برطانیہ اور فرانس کو کس نے یہ جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی تھی؟۔ یہ بات الگ ہے کہ پاکستان کا پول فوراً ہی کھل گیا اور امریکہ کا پول کھلنے کے ناقابل تردید شواہد اب سامنے آ رہے ہیں اور کوئی ہی دن جاتا ہے جب سارا پول بھی کھل جائے گا۔
گزشتہ سطور میں NSG میں شمولیت کے لئے جس ووٹنگ کا ذکر کیا گیا ہے اس کا تعلق تعداد سے نہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس گروپ کے 48 اراکین میں سے اگر 25 اراکین انڈیا کے حق میں ووٹ دیں گے تو باقی 23 کے ووٹ بے معنی ہو جائیں گے۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ ووٹنگ بحث کی شکل میں ہو گی۔ انڈیا سے کہا جائے گا کہ وہ پہلے ایٹمی عدم پھیلاؤ (NPT)کے معاہدے پر دستخط کرے۔ ظاہر ہے یہ بات انڈیا نہیں مانے گا اور اگر امریکہ نے یہ استدلال کیا کہ اس گروپ میں شامل کئی اور ممالک نے بھی تو NPT پر دستخط نہیں کئے تو یہ استدلال پاکستان کے حق میں بھی جائے گا۔
دوسری بات یہ ہے کہ انڈیا کو اس گروپ میں شامل ہونے سے کوئی فوری مالی فوائد حاصل نہیں ہوں گے یعنی وہ اپنی افزودہ یورینیم کو دوسرے ملکوں میں (برائے نیو کلیئر پاور پلانٹ وغیرہ) فروخت نہیں کر سکے گا۔ اور زر مبادلہ نہیں کما سکے گا۔ نہ ہی کوئی اور ترقی یافتہ ملک اس کو وہ جوہری ٹیکنالوجی منتقل (یا فروخت) کر سکے گا جس کی آس بھارت لگائے بیٹھا ہے۔ جب تک بھارت، چین کا حریف رہے گا اور امریکہ کا حلیف ہونے کا دم بھرتا رہے گا تب تک بھارت کے NSG میں شمولیت کے امکانات میری نگاہ میں اگر معدوم نہیں تو موہوم ضرور رہیں گے۔ ساؤتھ چائینا سمندر میں جن چینی جزیروں کی ملکیت کا شور مچایا جا رہا ہے اور امریکہ کہہ رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی سمندر میں واقع ہیں اور اس لئے چین کا حصہ نہیں وہ جزیرے چین کے تصرف میں ہی رہیں گے۔ اس موضوع پر مزید دلائل دینے کے لئے گزشتہ دو صدیوں کی اُس عالمی تاریخ کا پنڈورا باکس کھولنا پڑے گا جس کی پوری خبر اردو زبان کے ایک عام پاکستانی قاری کو نہیں۔ 
بحر الکاہل کے وسیع و عریض پانیوں میں سینکڑوں چھوٹے بڑے جزیرے ہیں جن پر امریکہ نے قبضہ کر رکھا ہے اور ان میں سے ایک جزیرہ (ہوائی) تو باقاعدہ ایک امریکی ریاست کا درجہ پا چکا ہے۔ باقی جزائر پر بھی امریکی بحریہ اور فضائیہ کے ہزاروں ٹروپس مقیم ہیں۔ اس کی تین چوتھائی بحری قوت بحر الکاہل کے انہی جزیروں میں مقیم رہتی ہے۔ صرف اوکی ناوا جزیرے میں 25000 امریکی ٹروپس آج بھی موجود ہیں۔ اسی طرح آیوجیما، گوڈل کینال، مارشل اور وہ سینکڑوں جزیرے ہیں جن کے نام، ان پر قبضے کی ساری تاریخ، وہاں کے اصل باشندوں کا حشر جو امریکیوں نے ان کے ساتھ روا رکھا اور ان کی سٹرٹیجک عسکری اہمیت ایسے موضوعات ہیں جو بڑے پیچیدہ ہیں اور عام قاری کی دلچسپی کا کوئی سامان نہیں رکھتے، اس لئے ان سے فی الحال صرفِ نظر کرتا ہوں۔۔۔۔ ابھی وہ دن کچھ دور ہیں جب پاکستانی قارئین ان بین الاقوامی عسکری اور سٹرٹیجک موضوعات کی پوری طرح تفہیم کر سکیں گے!
لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s