مودی کے خطابات فاش تاریخی غلطیوں سے پر

انڈین وزیراعظم نریندر مودی امریکہ کے دورے پر ہیں جنھوں نے کونارک کے
سوریہ مندر کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ یہ 2000 برس پرانا ہے جبکہ اس تاریخی مندر کی عمر 700 سال سے زیادہ نہیں۔ ان کے اس غلط بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مودی کا خوب مذاق اڑایا گیا۔ وزیراعظم اپنی تقریروں میں اکثر ایسی غلطیاں کرتے رہتے ہیں اور ماضی میں ان کی ایسی حرکتوں پر خوب بحث ہوتی رہی ہے۔

مودی کے خطابات میں پائے جانے والی ایسی کئی غلطیوں کی یہاں نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کی اصل حقیقت بھی پیش کی جا رہی ہے:
1: نومبر 2003 میں مودی نے مہاتما گاندھی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھیں موہن لال داس کرم چند گاندھی کہہ دیا تھا۔
حقیقت: مہاتما گاندھی کا مکمل نام موہن داس کرم چند گاندھی تھا۔ اس غلطی پر مودی پر سخت نکتہ چینی ہوئی تھی۔
2: سنہ 2013 میں پٹنہ میں ہونے والی ایک معروف ریلی میں نریندر مودی نے بہار کے متعلق بات کرتے ہوئے شہنشاہ اشوک، پاٹلی پتر اور پھر نالندہ اور تکشلا (ٹیکسلا) کا بھی ذکر کر ڈالا۔
حقیقت یہ ہے کہ تکشلا ریاست پنجاب کا حصہ تھا اور اب وہ پاکستان میں ہے۔

3: جولائی 2003 میں نریندر مودی نے احمد آباد میں کہا تھا کہ آزادی کے وقت ایک ڈالر کی قیمت ایک روپے کے برابر تھی۔

حقیقت: یو پی اے حکومت کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے نریندر مودی یہ بھول گئے تھے کہ اس وقت ایک روپے کی قیمت 30 سینٹ کے برابر تھی، اور اس وقت ایک روپیہ ایک پونڈ کے برابر تھا۔

4: احمد آباد میں اکتوبر 2003 میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ احمد آباد میونسپل میں خواتین کے ریزرویشن کی تجویز سردار ولبھ بھائی پٹیل نے سنہ 1919 میں پیش کی تھی۔
 حقیقت: طویل مدت تک ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ رہنے والے نریندر مودی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ولبھ بھائی پٹیل نے یہ تجویز سنہ 1926 میں رکھی تھی۔
5: فروری 2014 میں نریندر مودی نے میرٹھ میں کہا تھا کہ کانگریس نے جنگِ آزادی کو ایک طرح سے نظرانداز ہی کر دیا تھا۔
حقیقت: مودی یہ بھول گئے کہ کانگریس 1885 میں قائم ہوئی تھی اور 1857 میں لڑی جانے والی جنگ آزادی کے وقت کانگریس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔
6: نومبر 2003 میں بنگلور میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ 15 اگست کے روز ملک کا وزیر اعظم لال قلعے کے دروازے سے قوم سے خطاب کرتا ہے۔
حقیقت: سبھی کو معلوم ہے کہ یوم آزادی کے موقعے پر بھارت کا وزیراعظم لال قلعے کی فصیل پر کھڑا ہو کر خطاب کرتا ہے، نہ کہ دروازے پر۔
7: سنہ 2003 میں ممبئی میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ سنہ 1960 سے لے کر اب تک ریاست مہاراشٹر میں 26 وزرائے اعلیٰ گزرے ہیں۔
 حقیقت: 2003 تک کل 17 رہنماؤں نے 26 بار وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا۔
8: نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ جب قدیم ’گپتاسلطنت‘ کی بات کی جاتی ہے تو ہمیں چندر گپت کی سیاست کی یاد آتی ہے۔
حقیقت: دراصل مودی جس چندر گپت کی اور ان کی سیاست کا ذکر کر رہے تھے، وہ موریہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ گپتا دور میں چندر گپت دوم گزرتے تھے لیکن مودی ان کا ذکر نہیں کر رہے تھے۔
9: دسمبر 2013 میں نریندر مودی نے جموں میں ایک ریلی کے دوران کہا تھا کہ میجر سومناتھ شرما کو مہاویر چکر اور بریگیڈیئر رجندر سنگھ کو پرم ویر ملا تھا۔
حقیقت: میجر سومناتھ شرما کو پرم ویر اور رجندر سنگھ کو مہاویر چکر ملا تھا۔
10: نومبر 2013 میں کھیڑا میں بھی نریندر مودی شيام جي کرشن ورما اور شیاما پرساد مکھرجی کی شخصیات میں فرق نہیں کر پائے تھے۔
حقیقت: مودی نے شیاما پرساد مکھرجی کو گجرات کا بیٹا کہہ دیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ انھوں نے لندن میں انڈیا ہاؤس کی بنیاد رکھی تھی اور ان کی موت 1930 میں واقع ہو گئی تھی۔
دراصل شیاما پرساد مکھرجی کی پیدائش کولکتہ میں ہوئی تھی۔ وہ 1953 میں فوت ہوئے تھے۔ دراصل مودی شیام کرشن ورما کی جگہ شیاما پرساد مکھرجی کا ذکر کرگئے۔
11: پٹنہ میں ایک ریلی کے دوران نریندر مودی نے کہا تھا کہ سکندر اعظم کی فوج نے پوری دنیا فتح کر لی تھی۔ لیکن جب انھوں نے بہاریوں سے پنگا لیا تو ان کا کیا حشر ہوا۔ یہاں آکر ان کی شکست ہوئی تھی۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ سکندر اعظم کی فوج نے کبھی بھی دریائے گنگا کو عبور 
ہی نہیں کیا۔ یعنی ریاست بہار کبھی گئے ہی نہیں۔
بشکریہ بی بی سی اردو

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s