محمد علی مرحوم : انسانیت کے لیے ایک مسلم مشنری

لوئس ویلی سے تعلق رکھنے والے کاسیس کلے نے کبھی خواب میں بھی یہ نہ
سوچا ہوگا کہ وہ مستقبل میں ایک دن محمد علی کے طور پر خیر سگالی کا ایک عالمی آئیکون بن جائے گا اور وہ ثقافتوں اور طبقات میں خلیج پاٹنے کے لیے ایک بین الاقوامی پُل بن جائے گا۔ عالمی سطح پر محمد علی نے اپنے طور پر ایک کردار ادا کیا۔ وہ ایک امریکی تھے لیکن وہ ان سب سے تعلق رکھتے تھے جو حُریت فکر اور آزادی کے ساتھ بہتر زندگیوں کے خواب دیکھتے تھے۔ کھیلوں سے وابستہ بہت سی شخصیات اپنی خود پسندی ، اناؤں اور مفاد پرستی کے اسیر ہوجاتی ہیں لیکن محمد علی ان سب سے بالاتر تھے۔ انھوں نے میچ جیتے،وہ اپنے مخالفین کا رنگ کے اندر اور باہر ٹھٹھا اڑاتے لیکن اس کے باوجود وہ ان کا صحت مندانہ احترام بھی کرتے تھے۔ ان کے نزدیک زندگی ،زندگی ہے اور اس کو آگے بڑھے چلے جانا ہے۔

وہ ایک بااصول اور پختہ عزم کے انسان تھے۔ انھوں نے ایک ایسی حکومت کی چیرہ دستیوں کا مقابلہ کیا جو انھیں تباہ کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور شہری حقوق کی تحریک اور اپنے عوام کی آزادی کی حمایت کی۔ انھوں نے بہت سے مقاصد اور نصب العینوں کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ ایک ہیرو کے طور پر ویت نام جنگ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور وہاں جا کر لڑنے سے انکار کردیا۔ ان پر امریکا مخالف ہونے کا الزام عاید کیا گیا لیکن انھوں نے اس کو سختی سے مسترد کردیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ وہ ایک غیرملکی جنگ میں حصہ لینے کے لیے نہیں جانا چاہتے اور ان لوگوں کو ہلاک نہیں کرنا چاہتے جنھیں وہ جانتے تک نہیں۔

مجھے دو مرتبہ محمد علی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ پہلی مرتبہ اس وقت جب وہ سعودی عرب میں عرب نیوز کے دفتر میں آئے تھے۔ میں اس وقت اخبار کا ایڈیٹر تھا۔ وہ خاموشی سے نیوز روم میں داخل ہوئے۔ میرے ساتھیوں سے مصافحہ کیا اور ان سے دلچسپ سوالات کیے۔ میں ان کی دانش اور تاریخ کے بارے میں علم سے بہت متاثر ہوا تھا۔ میں ان کی انسانیت نوازی سے بھی متاثر ہوا۔ ان کے پُرلطف مزاح نے ہم سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ انھوں نے ہمیں چائے پلانے والوں سے بھی ملاقات کی اور ان کے ساتھ وقت گزارا۔ انھوں نے ان لوگوں کو اہمیت دی جنھیں بہت سے لوگ کچھ بھی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ مجھے بہت سی نمایاں شخصیات اور عہدے داروں کے ساتھ ملاقاتوں اور مل بیٹھنے کا موقع ملا ہے لیکن میں نے محمد علی ایسی بلند کرداری اور شائستگی ان میں کسی میں نے نہیں دیکھی۔

تب مجھ سے اسکواش کے آئیکون جہانگیر خان بھی ملاقات کے لیے آئے تھے۔ وہ بارہ مرتبہ اسکواش کے عالمی چیمپئن رہ چکے تھے۔ ہم وہاں سے نیچے اترے اور عرب نیوز کے داخلی دروازے کی جانب گئے۔ جہانگیر خان کے پاس اسکواش راکٹ تھا۔ انھوں نے علی کی جانب راکٹ چلانا تھا اور انھوں نے اپنے حریف پر پل پڑنے کے مشہور زمانہ انداز میں جہانگیر خان پر فقرے چست کرنا تھے۔ اس منظر کو دیکھنے والے بہت محظوظ ہوئے۔
ایک مرتبہ وہ میرے گھر تشریف لائے۔ وہ میرے خاندان ،دوستوں اور عزیز واقارب کے ساتھ مل بیٹھے۔ وہ سب اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے اس مہمان سے ملاقات کے لیے بعجلت پہنچے تھے۔ محمد علی نے ہمیں اپنی زندگی اور جدوجہد کے بارے میں کہانیوں سے محظوظ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کبھی اپنی زندگی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات سے اتنے متاثر نہیں ہوئے تھے جتنا انھیں ان چار برسوں سے صدمہ پہنچا تھا جو ان کی زندگی سے چھین لیے گئے تھے۔ انھوں نے امریکا کے عدالتی نظام کی تعریف کی اور کہا کہ اگرچہ اس نظام میں سقم موجود تھے مگر انھیں یہ پختہ یقین تھا کہ انصاف کا بول بالا ہوگا۔گفتگو میں الفاظ کے برمحل اور واضح انداز میں استعمال پر میں بہت متاثر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ وہ ایک عظیم لکھاری بن سکتے ہیں۔ وہ متبسم انداز میں یوں گویا ہوئے:”بہتر،میں ایک دن یہ کام بھی کروں گا”۔
وہ دنیا کو محبت کی لڑی میں پرونا چاہتے تھے۔ وہ عالمی سطح پر رواداری اور خیرسگالی کا ایک پلیٹ فارم بنانا چاہتے تھے۔ وہ کسی ایک رنگ ،مذہب یا نسل سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ وہ انسانیت کا ایک نادر نمونہ تھے۔ وہ پوری دنیا سے تعلق رکھتے تھے۔ میں ہمیشہ سے یہ کہتا چلا آرہا ہوں کہ اس دنیا میں دو طرح کے لوگ رہتے ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں جو زندگی گزارتے اور مر جاتے ہیں۔دوسری طرح کے وہ لوگ ہیں جو زندہ رہتے اور آگے چلے جاتے ہیں لیکن اس سے قبل وہ ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کا معیار زندگی بہتر بناتے اور انھیں آسودہ کرتے ہیں جنھیں وہ شاید کبھی ملے بھی نہ ہوں۔ محمد علی نوجوانوں اور تمام نوجوانوں خواہ وہ مسلمان ہوں یا کسی اور مذہب یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں،ان سب کے لیے ایک رول ماڈل تھے اور ہیں۔انھوں نے ہماری زندگیوں کو خوشیوں سے مالامال کیا اور ہم سب کو بے پایاں خوشیاں دیں۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کریں۔
کہنہ مشق صحافی ،سیاسی تجزیہ کار اور لکھاری خالد المعینا سعودی گزٹ کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔ان سے ان پتوں پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے: kalmaeena@saudigazette.com.sa اور Twitter: @KhaledAlmaeena
خالد المعینا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s