ہڑپہ – قدیم تہذیب کا آئینہ دار

ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہڑپہ کی تہذیب پانچ ہزار سال نہیں بلکہ نو ہزار سال پرانی ہے اور یہ کہ اس کے زوال کی براہِ راست وجہ موسم کی تبدیلی نہیں تھی۔ سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اپنی نوعیت کی اس اولین تحقیق میں بدلتے ہوئے موسموں اور ثقافتی مظاہروں کا تقابل کیا گیا جس سے ظاہر ہوا کہ صرف موسم کی تبدیلی اور مون سون کی کمی ہی اس تہذیب کے زوال کا باعث نہیں تھی بلکہ اس میں فصلیں اگانے کی ترتیب میں تبدیلی کا بھی عمل دخل ہو سکتا ہے۔ ہڑپہ کی تہذیب پاکستان میں وادیِ سندھ کے شہروں ہڑپہ، موہنجو دڑو اور کوٹ دیجی سے لے کر انڈیا میں گھگر ہاکڑا دریا کی وادی میں واقع بِھڑانا، کالی بنگن اور حصار تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ تہذیب اس زمانے کی ترقی یافتہ ترین ٹیکنالوجی سے مزین تھی اور اس کے باسی زراعت، شہری منصوبہ بندی، تجارت، برتن سازی اور مجسمہ سازی کے ماہر تھے۔ اس کے علاوہ وہ تجارت کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے میسوپوٹیمیا اور وسطی ایشیا سے منسلک تھے۔
آج سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال قبل اس تہذیب کا خاتمہ ہو گیا، شہر اجڑ گئے، تحریر کے نمونے غائب ہو گئے، اور زراعت کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ یہ تمام علاقے مون سون کی موسمی نظام کے تحت آتے ہیں لیکن آج کل یہاں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ بارشوں میں کمی اس تہذیب کے یک لخت انہدام کا موجب بنی۔ تاہم اس نظریے میں رخنے موجود ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہی ہے کہ اس زمانے کے موسم کا نقشہ صحرائے تھر اور بحیرۂ عرب کے مقامات سے تیار کیا گیا جو اصل ہڑپہ تہذیب کے مراکز سے دور واقع تھے۔
نیچر میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر انندیا سرکار نے بی سی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم نے اصل صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے انڈین ریاست ہریانہ میں بھڑانا کے آثارِ قدیمہ سے جانوروں کی ہڈیوں میں آکسیجن 18 کے آئسوٹوپس کا تجزیہ کر کے اس زمانے کے مون سون کی تاریخ مرتب کی۔
 

انھوں نے کہا: ’آکسیجن کی یہ مخصوص قسم بارش کے پانی میں پائی جاتی ہے، اور بڑے جانوروں کی ہڈیوں میں اس کا تجزیہ کر کے اس علاقے میں بارش کے پانی کی دستیابی کی صورتِ حال کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے۔ ’ہم نے جب مختلف ادوار کی ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ بارشیں یک لخت ختم نہیں ہوئیں بلکہ یہ عمل بہت سست رفتاری سے اور بتدریج ہوتا رہا، اور بظاہر یہ ہڑپہ تہذیب کے زوال کی براہِ راست وجہ نہیں ہے۔‘ جانوروں کے دانتوں اور ہڈیوں میں آکسیجن 18 کی موجودگی سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس جانور کے جسم میں بارش کا پانی کس مقدار میں موجود ہے۔ بھرانا کے آثار کی مختلف سطحوں میں گائے، بکری اور ہرن کی ہڈیاں پائی گئیں جنھیں تحقیق میں شامل کیا گیا۔
اس سے قبل جھیلوں میں پائے جانے والے کاربونیٹ اور بحیرۂ عرب میں پانی کی بھرائی پر پہلے ہی تحقیق ہو چکی ہے۔ ان تینوں اقسام کے شواہد سے ظاہر ہوا کہ آج سے سات ہزار سال قبل تا نو ہزار سال قبل اس علاقے میں زیادہ بارشیں ہوا کرتی تھیں، جن کی وجہ سے دریاؤں میں پانی بھی آج کے مقابلے میں زیادہ ہوا کرتا تھا۔
ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا ہے کہ بھڑانا آج سے نو ہزار سال قبل آباد ہوا تھا۔ حالیہ تحقیق میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے بھڑانا کے دو مقامات سے برتنوں کا آپٹیکلی سِمولیٹڈ لومینسنس (او ایس ایل) کے طریقے سے جائزہ لے کر ثقافتی ترقی کا موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ تقابل کیا، جس سے یہ معلوم ہوا کہ بارشیں کم ہونے سے معاشرتی اور ثقافتی حالات پر کیا اثر پڑا۔ حالیہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آج سے سات ہزار سال قبل بارشوں کا زور بتدریج ٹوٹنے لگا لیکن توقعات کے برعکس اس سے ہڑپہ تہذیب کی نشو و نما پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس کی بجائے یہاں کے باسیوں نے کاشت کاری کے طریقے اور فصلیں اگانے کی ترتیب تبدیل کر کے بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات کا مقابلہ کیا۔
ماہرین کے مطابق پانی کی فراوانی اور جگہ جگہ دریاؤں، ندی نالوں اور جھیلوں کی وجہ سے اس علاقے میں زراعت کو خوب فروغ ملا جس کی وجہ سے آبادی میں بھی اضافہ ہونا شروع ہو گیا جو بعد میں ایک وسیع و عریض تہذیب کی شکل میں ہمارے سامنے آیا۔ حالیہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آج سے سات ہزار سال قبل بارشوں کا زور بتدریج ٹوٹنے لگا لیکن توقعات کے برعکس اس سے ہڑپہ تہذیب کی نشو و نما پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس کی بجائے یہاں کے باسیوں نے کاشت کاری کے طریقے اور فصلیں اگانے کی ترتیب تبدیل کر کے بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات کا مقابلہ کیا۔
ڈاکٹر سرکار نے بتایا کہ اس تہذیب کے باشندوں نے خشک سالی سے نمٹنے کے لیے گندم اور جو جیسی فصلوں پر انحصار کم کر دیا جو زیادہ بارشوں کی مرہونِ منت ہوتی ہیں اور ان کی بجائے چھوٹے دانوں والی فصلیں مثلاً باجرہ اور چاول زیادہ اگانے شروع کر دیں جو خشک سالی کا نسبتاً بہتر مقابلہ کر سکتی ہیں۔
پاکستان کی معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر اسما ابراہیم نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بہت اہم تحقیق ہے جس سے اس زمانے کے موسم پر روشنی پڑتی ہے۔ ’تاہم چونکہ یہ انڈیا کی صرف ایک سائٹ پر کی گئی ہے اس لیے فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کے وسیع تر مضمرات کیا ہیں اور کیا پاکستانی علاقوں میں بھی ویسے ہی حالات تھے۔‘انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے آثارِ قدیمہ پر بھی اسی قسم کی تحقیق ہونی چاہیے جس کے بعد ہی مکمل تصویر ہمارے سامنے آ سکے گی۔‘

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s