حلب جل رہا ہے

شام کا سب سے بڑا شہر‘حلب‘ ہے. یہ شہر عالمِ اسلام کیلئے بہت اہمیت کا حامل
ہے. کئی مسلم سلاطین جیسا کہ سلطان عمادالدین زنگی اور انکے فرزند سلطان نورالدین زنگی کے حکمرانی میں دارالخلافہ رہا. عالمِ اسلام کیلئے آج تک یہ شہر اہم ترین مرکزی شہروں میں سے ایک ہے. یہ شہر علوم و فنون، تجارت و سیاست کی اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے.

یہ وہ شہر ہے کہ جس نے شیرِ اسلام سلطان عماد الدین زنگی کو باطل کیخلاف کمربستہ ہوتے دیکھا، یہ وہ شہرہے جس نے محافظ ِحرمین سلطان نورالدین زنگی کو صدائے تکبیر بلند کرتے دشمنوں کی صفوں میں ماتم بچھاتے دیکھا، تاریخ دیکھیں تو یہ وہ شہرہے کہ جس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو نورالدین زنگی کی فوج میں کماندار دیکھا اور پھر ایک سلطان کی شکل میں بھی دیکھا. تاریخ جانتی ہے اس شہر کو کہ اس نے سلطان رکن الدین بیبرس کے ہاتھوں تاتاریوں کو شکست کھاتے اور بھاگتے ہوئے دیکھا ہے.

اس شہر نے دُکھ بھی دیکھے اور خوشیاں بھی، حلب نے اپنے باشندوں کو جشن مناتے دیکھا اور آنسو بہاتے دیکھا، جنگیں بھی دیکھیں اور امن کا زمانہ بھی. تاریخ کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے آج بھی یہ شہر شام کا تجارتی مرکز تھا، تب تک جب تک بشارالاسدی و روسی افواج نے اس شہر کی اینٹ سے اینٹ نہ بجا دی. آج ہسپتالوں، کلینکوں، سکولوں،کالجوں، بازاروں اور مسجدوں میں اپنے باشندوں کو، اپنے ننھے ننھے بچوں کو، اپنی انتظار کرتی ماؤں کو، اپنے کسب ِحلال کمانے والے مرد وں کو خون میں نہایا ہوا دیکھ کے حلب آج خود رو رہا ہے.

آج حلب صدائیں لگا رہا ہے، آوازیں دے رہا ہے عمادالدین زنگی کو، نورالدین زنگی کو،سلطان صلاح الدین ایوبی کو، ملک شاہ سلجوقی کو، خیرالدین باربروسہ کو اور یوسف بن تاشفین کو، مگر یہ کیا جانے کہ وہ دور تھا جب اس امت کے فرزند جاگ رہے تھے، جب غیرت ِایمانی بیدار تھی،جب اس امت کے جوانوں کو پلٹ کرجھپٹنا اور جھپٹ کر پلٹنا آتا تھا. جب یہ غیور گھر کی چوکھٹ کے بجائے تلواروں کے سائے میں جینا پسند کرتے تھے. مگر صد ہائے افسوس! آج غیرت ایمانی ایسی سو رہی ہے کہ کروڑوں مسلمانوں کا خون دیکھ کر بھی جاگ نہیں رہی. آج مسلم امہ کو گاجر مولی کیطرح کاٹا جارہا ہے مگر ہم مصروف ہیں رنگ و سرور کی محفلوں میں . یہود و ہنود مسلم کا خون پی رہے ہیں اور یہاں غفلت کی شراب کے جام بھرے جارہے ہیں .

کئی دوستوں کو دیکھ رہاہوں جو لبرلز کو چپ رہنے پر کوس رہے ہیں، مگر یہ نہیں سوچ رہے کہ لبرلز کا تو کام ہی یہی ہے، اصل مدعا یہ ہے کہ ہم نے کیا کیا، ہم لبرلز کو بعد میں کوسیں گے مگر پہلے اپنے گریبان میں کیوں نہ جھانک لیں؟

آج امت ِمسلمہ کا انگ انگ لہولہان، مظلوم امت دھاڑیں مار رہی مگر کیا خوب کہا کسی نے‘جس پہ بیتے، وہی جانے‘. جس امت کو ایک وجود کہا گیاآج اسی کو دوسرے بھائیوں کی خبر تک نہیں .
امید ہے کہ یہ امت کسی دن جاگے گی، مگر ڈر ہے کہیں دیر نہ ہو جائے. کیونکہ جو قوم کرکٹ کو جہاد سمجھنے لگے، شراب و کباب اور ناچ و موسیقی جس قوم کا شیوہ بن جائے. اللہ سے بڑھ کر نجومیوں پہ یقین ہو تو اس قوم کا مقدر صرف تباہی اور بربادی ہوتا ہے. دعا ہے اللہ اس امت کو جگا کر اس امت کو حلب جیسی تباہی سے مزید بچائے اور حلب پہ مزید رحم فرمائے. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.
تحریر: اسدیوسفزئی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s