ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

ایک شکاری سے ایک ساحلی بستی کے لڑکے نے پوچھا استاد جی میں چھوٹے موٹے پرندے تو زندہ پکڑ لیتا ہوں مگر بگلہ آج تک نہیں پکڑ سکا۔ شکاری نے کہا یہ تو بہت آسان ہے۔ جب بھی تم کسی چٹان پر بگلہ بیٹھے دیکھو تو دبے پاؤں اس کے پیچھے جاؤ، سر پر موم بتی رکھ کے جلا دو۔ موم کے پگھلتے قطرے بگلے کی آنکھوں میں پڑنے سے وہ نابینا ہو جائے گا۔ اس کے بعد آرام سے گردن سے پکڑو اور تھیلے میں ڈال لو۔ لڑکے نے پوچھا استاد جی ایک بات تو بتاؤ۔ جب میں بگلے کے اتنا نزدیک پہنچ جاؤں تو پھر سر پر موم بتی رکھنے کی کیا ضرورت۔ ڈائریکٹ گردن کیوں نہ دبوچ لوں؟ شکاری نے کہا کہ بات تو تیری ٹھیک ہے بچے پر اس طرح بگلہ پکڑنا کوئی فنکاری تو نہ ہوئی…
دنیا کے بیشتر ممالک میں جب بھی کوئی مالی و اخلاقی اسکینڈل سامنے آتا ہے تو عام طور سے ملکی ادارے ہی اس کی تحقیقات کرتے ہیں۔ جیسے امریکا میں ایف بی آئی، اسرائیل میں پولیس بیورو، برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ یارڈ، بھارت میں سی بی آئی۔ بھلے کوئی کلنٹن ہو، ایریل شیرون ہو، ٹونی بلیئریاراجیو گاندھی۔
یہ بھی ہو سکتا تھا کہ وزیرِ اعظم نواز شریف پانامہ لیکس کی چھان بین کا کیس نیب کے حوالے کر دیتے۔ آخر نیب برسوں سے سیاستدانوں، سابق جرنیلوں، بیوروکریٹس، تاجروں اور صنعت کاروں کے معاملات کی چھان بین کر ہی رہی ہے۔ کئی مقدمات کو منطقی انجام تک بھی پہنچا چکی ہے۔ اس کے پاس چھان بین کا ضروری انفراسٹرکچر بھی ہے۔
اگرچہ پانامہ لیکس سے چند ہفتے پہلے میاں صاحب نے نیب کو سخت سست بھی سنائی تھیں اور یہ تک کہا تھا کہ نیب جس طرح تاجر طبقے کو ہراساں کر رہی ہے اس کے بعد ملکی و غیر ملکی مخیئر پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہچکچا رہے ہیں اور افسر ضروری فائلوں پر دستخط سے بھی گھبرا رہے ہیں۔ اپنے تحفظات کے باوجود اگر وزیرِ اعظم پانامہ کیس کی چھان بین کا کام نیب کے حوالے کر دیتے تو حزبِ اختلاف بھی ایک خود مختار آئینی ادارے کے ہاتھوں اس کیس کی چھان بین کی بہت زیادہ مخالفت نہ کر پاتی۔ اس کام کے لیے ایف آئی اے بھی ایک موزوں ادارہ ہے مگر اس کی مثال میں اس لیے نہیں دے رہا کیونکہ ایف آئی اے وزارتِ داخلہ کے تحت ہے اور وزیرِ داخلہ تقریباً نائب وزیرِ اعظم ہیں۔
مگر میاں صاحب نے کسی وجہ سے نیب کا راستہ نہیں اپنایا۔ انھوں نے پہلے خود ہی قوم سے بعجلت خطاب میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے پانامہ لیکس کی گیند کو کسی ریٹائرڈ جج کے حوالے کرنے کی کوشش کی۔ جب بقول وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان سپریم کورٹ کے دو سابق چیف جسٹسوں سمیت پانچ ججوں نے یکے بعد دیگرے پانامہ لیکس کا گرم آلو پکڑنے سے انکار کر دیا تو پھر سکینڈل کا فٹ بال کھلے میدان میں چھوڑ دیا گیا۔ یوں بھانت بھانت کی فرمائشی ککیں اس فٹ بال پر پڑنا شروع ہو گئیں۔ عمران خان، اسفند یار ولی اور سراج الحق وغیرہ کی ضد ہے کہ تحقیقاتی کمیشن سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس اور دیگر برادر ججوں پر مشتمل ہو۔ جب کہ چیف جسٹس نے بھی اشارہ دیا کہ عدالت کا کام مقدمہ سنناہے۔ چھان بین انتظامی اداروں کا کام ہے۔
حکومت نے معاملے کی سنجیدگی کی شدت اپنے تئیں کم رکھنے کے لیے کم از کم دو ہفتے گیند کو کھیلنے کے بجائے اسے الزامی آسٹرو ٹرف پر ڈفلیکٹ کرنے یا ادھر ادھر باؤنڈری لائن سے باہر پھینکنے میں ضایع کر دیے اور پھر چار و ناچار عدالتِ عظمیٰ سے دوبارہ مدد لینے کا فیصلہ ایسے کیا جیسے بھولے کو اس کا باپ ٹیکہ لگوانے کے لیے کھینچتا ہوا کمپاؤنڈر تک لے جائے۔
اس دوران تجویزاتی میچ میں غیر سیاسی فریق بھی اپنا حصہ ڈالنے لگے۔ جیسے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے صدارتی آرڈیننس کے تحت نیشنل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جو اقوام متحدہ کے کنوینشن برائے انسداد بدعنوانی کے تحت جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنا کر بیرونی دنیا سے شواہد جمع کر سکے۔ پیپلز پارٹی سے وابستہ کئی نام بھی چونکہ پانامہ لیکس کا حصہ ہیں لہذا حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں کے برعکس پیپلز پارٹی کھل کے نہ تو کوئی آزادانہ موقف اپنا سکتی ہے اور نہ خاموش رہنے کی پوزیشن میں ہے۔ چنانچہ اس نے درمیانی راستہ چنا۔ وہ ایک پارلیمانی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کی حامی ہے جسے مالیاتی امور کے فورنزک ماہرین کا تعاون حاصل ہو۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے معاملے کو الزامیہ و جوابی الزامیہ دھول میں چھپاتے ہوئے شائد یہ بھی خیال ہو کہ حزبِ اختلاف کا کنفیوژن ایک طرح سے اس کے حق میں جائے گا۔ نہ اپوزیشن کسی ایک طریقے پر متفق ہو گی نہ تحقیقات کی رادھا ناچے گی۔ دوسری جانب اپوزیشن بھی اس سارے مسئلے کو مالیاتی تکنیکی انداز سے دیکھنے کے بجائے نواز شریف پر دباؤ ڈالنے کے ایک سنہری موقع کی طرح استعمال کر رہی ہے۔
سیدھی سیدھی بات ہے کہ وزیرِ اعظم کے خاندان پر آنے والے حرف کی چھان بین ہو تا کہ یہ حرف دھل سکے۔ مگر میزبانی کی نیت نہ ہو تو ایک سادہ سی بات کو بھی جلیبی بنایا جا سکتا ہے۔ بالکل اس میزبان کی طرح جس نے ایک بن بلائے مہمان سے پوچھا چائے پیجئے گا؟ مہمان نے کہا جی پی لیں گے۔ میزبان نے کہا کپ میں یا گلاس میں۔ مہمان نے کہا کپ میں۔ میزبان نے کہا کپ پلاسٹک کا بھی ہے اور چائنا کلے کا بھی۔ مہمان نے کہا چائنا کلے ٹھیک رہے گا۔ میزبان نے کہا میڈ ان پاکستان ٹی کپ میں یا برٹش میڈ میں۔ مہمان نے کہا برٹش چل جائے گا۔ میزبان نے کہا برٹش ٹی سیٹ بھی میرے پاس دو طرح کے ہیں سادہ بھی اور پھولدار بھی۔ میزبان نے کہا پھولدار اچھا لگے گا۔ میزبان نے کہا بس جیسے ہی باورچی آتا ہے میں چائے بنواتا ہوں۔ مہمان نے کہا مجھے بھی جانے کی کوئی جلدی نہیں۔
شائد مسلم لیگ ن بھی حزبِ اختلاف کو پانامہ کپ میں ایسی ہی چائے پیش کرنا چاہ رہی ہے۔ اب جب کہ فوج نے کسی باورچی کا انتظار کیے بغیر اپنے کچن کی صفائی شروع کر دی ہے۔ لگتا ہے سویلینز کو بھی اپنا خانساماں خود ہی بننا پڑے گا۔ آپس کی بات تو یہ ہے کہ میں نے منیرؔ نیازی کے بڑے بڑے عاشق دیکھے مگر پچھلے پینتیس برس میں نواز شریف جیسا نہیں دیکھا جو منیرؔ کی شاعری محض پسند ہی نہیں کرتے بلکہ اسے روزمرہ کاروبارِ مملکت کا حصہ بھی بنا کے رکھتے ہیں۔
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو
مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

وسعت اللہ خان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s