سعودی عرب میں تارکینِ وطن کے لیے گرین کارڈ

سعودی عرب کے نائب ولی عہد ،نائب وزیراعظم اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن
سلمان کی جانب سے اعلان کردہ ”گرین کارڈ” منصوبے کا بہت سے تارکین وطن نے خیرمقدم کیا ہے۔ اس منصوبے سے تارکین وطن کو اسپانسروں کے پنجۂ استبداد سے بچ نکلنے میں مدد ملے گی کیونکہ ان میں سے بہت سے سفید اور نیلی رنگت والے ورکروں کا برابر استحصال کررہے ہیں۔

اس ”گرین کارڈ” کے حصول کے لیے شرائط وضوابط کو بڑی احتیاط سے وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں یہ کارڈ حاصل کرنے والوں کو کچھ لازمی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔انھیں زکاۃ اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس ادا کرنا پڑیں گے۔ وہ جائیدادوں کے مالک بن سکتے ہیں اور تجارتی ،صنعتی اور دوسری متعلقہ سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں۔
اس منصوبے کا ان تارکین وطن نے خاص طور پر خیرمقدم کیا ہے جو گذشتہ تین یا چار عشروں سے سعودی عرب میں مقیم ہیں اور ان کے بچے یہیں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے ہیں۔ ایک بھارتی نے مجھے بتایا کہ ”یہ ہمارا گھر ہے”۔الریاض میں 1988ء سے مقیم ایک فلپائنی انجینیر کا کہنا تھا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد سے تارکین وطن کو مقامی شہریوں کے ساتھ گھلنے ملنے اور مطابقت اختیار کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ 

میں گذشتہ کئی برسوں سے سعودی عرب کی تعمیر وترقی میں تارکین وطن کے کردار کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔ مجھے ان سے انگریزی اخباروں کے چیف ایڈیٹر کی حثیت سے 1982ء سے 2014ء تک ملاقاتوں اور روابط کے مواقع ملے تھے۔ تارکین وطن ہم سے اپنے تحفظات ،مسائل اورخدشات کو اجاگر کرنے اور انصاف کے حصول کے لیے رابطے کرتے تھے۔

سعودی عرب میں انگریزی اخبارات ہی ایک غیرملکی سرزمین میں کام کرنے، ہر طرح کے سردوگرم اور سنگ دل اسپانسروں کے سخت ناروا سلوک کا مقابلہ کرنے والے تارکین وطن کی آواز بنتے تھے۔ سعودی عرب میں برسوں رہنے کے بعد بہت سوں کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ انھیں اقامتی درجہ حاصل ہوجائے۔ بعض نے اسی طرح کے نظام تجویز کیے تھے کہ جن میں سعودی حکومت ہی اسپانسر ہو۔ ہمیں عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن بھی اپنے مسائل کے بارے میں لکھ بھیجتے تھے۔
بابائے قوم کا فلسفہ
ہمارے اداریوں میں ہمارے اس یقین کا اظہار ہوتا تھا کہ یہ ملک ان تمام لوگوں کے لیے ایک جنت ہے جنھوں نے ذات اور نسل سے قطع نظر اس کی تعمیروترقی میں حصہ لیا ہے،کردار ادا کیا ہے۔ یہی اس مملکت کے بانی اور بابائے قوم شاہ عبدالعزیز کا فلسفہ تھا۔
دنیا بھر میں اس وقت عظیم تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں،عالمگیریت بام عروج پر ہے۔اس صورت حال میں ہمیں بھی دستیاب مہارتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔امریکا کی عظمت کو ایشیائی باشندوں کو قبول کرنے اور اپنے معاشرے میں شامل کرنے کی وجہ سے ہی چار چاند لگے تھے۔ انھوں نے امریکا کی اقتصادیات اور سماجی نظام کی بہتری کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ہم بھی ان کے نظام سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم اپنے نان آئیل سیکٹر کو ترقی دینے کی کوشش کررہے ہیں،تو اس کے لیے ہمیں دستیاب تمام تجربے کار ہاتھوں کی ضرورت ہوگی۔
جی ہاں! سعودیانا ایک مقصد ہے لیکن ہم نظام کے لیے درکار اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حاملین کی جگہ خالی خولی جسموں کو تو شامل نہیں کرسکتے ہیں۔ایک مکمل تزویراتی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بہت سے حربے آزمانا ہوں گے تاکہ مسابقانہ فضا کے حامل کاروباری ماحول میں ہم بھی مقابلہ کرسکیں۔”گرین کارڈ” منصوبہ ان کاروباری حربوں میں سے ایک ہے۔
خالد المعینا
خالد المعینا سعودی گزٹ کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔ ان سے ان پتوں پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے۔
kalmaeena@saudigazette.com.sa اور Twitter: @KhaledAlmaeena

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s