ڈونلڈ ٹرمپ۔۔۔ خطرات کی زَد میں

ری پبلکن کو گرینڈ اولڈ پارٹی یا مختصر طور پر جی او پی (GOP) بھی کہا جاتا ہے۔ امریکہ میں یہ عجیب اُلٹا حساب ہے کہ ری پبلکن قدامت پسند ہیں، لیکن انہیں سرخ رنگ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ جن حلقوں میں ری پبلکن کے نمائندے(کانگریس مین) یا سینیٹر ہیں، اُنہیں سرخ نشان سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ڈیمو کریٹس ہیں، جنہیں ترقی پسند قرار دیا جاتا ہے، بلکہ ری پبلکن ان پر کمیونسٹ ہونے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔ مذہب کے مخالفین کا ڈیمو کریٹس میں زیادہ اجتماع ہے، لیکن ڈیمو کریٹس کو نیلے رنگ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ جن ریاستوں اور جن حلقوں میں ڈیمو کریٹس کے عوامی نمائندے یا سینیٹرز ہیں انہیں نقشوں پر نیلے رنگ سے دکھایا جاتا ہے۔
اس میں کوئی حکمت تو نظر نہیں آتی، شاید یہ اُس امریکی رویئے کامظہر ہے، جس کے تحت برطانیہ کے اُلٹ ہر چیز کو اختیار کیا گیا۔ برطانیہ میں ڈرائیور دائیں ہاتھ بیٹھتا ہے اور گاڑی کو بائیں ہاتھ چلاتا ہے۔ پیدل چلنے والے برطانیہ میں دائیں ہاتھ چلتے ہیں، امریکہ میں بائیں ہاتھ چلتے ہیں۔ برطانیہ میں پیدل چلنے والوں کے لئے بنی ہوئی پٹڑی کو فٹ پاتھ کہا جاتا ہے۔ امریکہ میں سائیڈ واک کہا جاتا ہے۔ برطانیہ میں جسے زیبرا کراسنگ کہتے ہیں، اُسے امریکہ میں کراس واک کہا جاتا ہے اور جہاں اس کا نشان بنا ہوتا ہے، اُسے ’’باکس‘‘ کہتے ہیں، جس پر گاڑی کھڑی کرنا جرم ہے۔ برطانیہ میں بجلی کا سوچ نیچے کے رخ دبانے پر بجلی رواں ہو کر روشنی کرتی یا کسی چیز کو چلاتی ہے۔ امریکہ میں اسے اوپر اُٹھانے سے ہی کام ہوتا ہے۔
آنے والے نومبر میں صرف بلدیاتی انتخابات ہی نہیں ہوں گے ، کئی ریاستوں میں سینیٹ کے انتخابات بھی ہوں گے۔ اس لئے ڈیمو کریٹس سرخ ریاستوں کو نیلا بنانے کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں، کیونکہ ایک عرصے سے پارلیمینٹ(کانگریس) میں ڈیمو کریٹس کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔جب سے صدارتی امیدواری کی دوڑ شروع ہوئی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دوڑ میں ہلچل مچائی ہے، مَیں بہ اصرار یہ لکھتا رہا ہوں کہ ڈونالڈ ٹرمپ گو سب سے آگے ہے، لیکن ڈونالڈ ٹرمپ شاید ہی ری پلکن پارٹی کی امیدواری حاصل کر سکے۔ ڈونالڈ ٹرمپ ایک بدمزاج بگڑا ہوا امیر ہے، جس نے ساری دولت پراپرٹی کے کرایوں سے یا ایسے ہی اور کئی دوسرے میدانوں میں دھوکے بازی سے کمائی ہے۔ اُس نے متعدد مصنوعات پر کچھ رقم خرچ کر کے اپنا نام رکھوا لیا تھا۔
کئی بڑی کمپنیاں اُس کے نام کی خاطر اسے سپانسر کرتی تھیں۔ حال ہی میں عوامی احتجاج پر کوکا کولا نے ڈونالڈ ٹرمپ کی سپانسر شپ واپس لے لی ہے۔ عوام نے اُن مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا ہے جو ڈونالڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب ہیں۔ ٹرمپ واڈکا فیل ہو چکا ہے۔اُس کے جوئے خانے دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے کچھ بڑی بڑی بلڈنگوں کے مالکان کو کچھ رقم کے عوض راضی کر لیا تھا کہ وہ ان بلڈنگوں کو ’’ٹرمپ پلازہ‘‘ کی تختی سے مزین کر لیں۔ یہ ہوتے ہی ان کی قدر میں کئی لاکھ ڈالر کا اضافہ ہو گیا۔ لوگوں نے انہیں دھڑا دھڑ خریدنا شروع کر دیا، ان کے حصے خرید لئے، جب یہ راز کھلا تو دس دس لاکھ کے حصص لاکھ لاکھ کے رہ گئے۔
اب کلیو لینڈ میں ری پبلکن پارٹی کا کنونشن ہونے جا رہا ہے، جس میں خدشہ ہے کہ ضرور لڑائی جھگڑا ہو گا۔ کلیو لینڈ نے اس کنونشن کے پیش نظر اپنی پولیس کے لئے حفاظتی اور دفاعی آلات کا آرڈر دے دیا ہے۔ ان آلات میں فوجی قسم کے دفاعی آلات کے ساتھ پولیس کے تہہ ہو جانے والے ڈنڈے بھی شامل ہیں۔ پولیس نے اپنی نفری کو پانچ ہزار تک لے جانے کے لئے قریبی شہروں سے بھی بھرتی شروع کر رکھی ہے۔ توقع ہے کہ اس کنونشن میں50ہزار مندوبین شرکت کریں گے۔ اس موقع پر فساد ہونے کے خدشات ظاہر کرنے والوں کا خیال ہے کہ پارٹی کے باہر بے شمار عام امریکی ڈونالڈ ٹرمپ کو سخت نا پسند کرتے ہیں اور خیال ہے کہ وہ کنونشن ہال کے باہر زبردست مظاہرے کریں گے۔
پارٹی کے اندر بھی ایسے عناصر کی کمی نہیں جو ڈونالڈ ٹرمپ کو پارٹی امیدوار کے طور پر دیکھنے کے روا دار نہیں۔ ری پبلکن خواہ اندرونی طور پر ڈونالڈ ٹرمپ کے خیالات سے صد فیصد بھی متفق ہوں، انہیں یہ معلوم ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی ترجیحات ووٹ اور ووٹر کے حق میں نہیں ہیں۔ ری پبلکن ڈونالڈ ٹرمپ کے امیگریشن سے متعلق خیالات، شہری آزادیوں کی مخالفت، مسلمانوں سے نفرت اور اُن کی نگرانی کی تجاویز، میکسیگن کے خلاف اظہارِ نفرت اور امریکہ میکسیکو سرحد پر دیوار تعمیر کر کے میکسیکو سے اُن کے اخراجات وصول کرنے کے دعوؤں، خواتین کے خلاف بیان بازی، ٹیڈ کروز کی بیوی کو بدصورت کہنے اور خواتین کے بارے میں نازیبا الفاظ کا عام استعمال، خواتین کے حقوق کی مخالفت، قیدیوں پر جس تشدد سے امریکہ کو عالمی برادری میں شرمندگی اٹھانا پڑی ہے، اُسے نہ صرف جاری رکھنے، بلکہ اس میں اضافہ کرنے کے اعلانات، ایسے معاملات نہیں ہیں جن کی ری پبلکن کھلم کھلا حمایت کر سکیں۔
گرینڈ اولڈ پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ کو معلوم ہے کہ ان نعروں اور ان دعوؤں پر عوام سے ووٹ حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ ادھر ڈونالڈ ٹرمپ چونکہ پارٹی کارکنوں کے عطیات کا محتاج نہیں ہے، اِس لئے اُسے فنڈز کی کمی کا سامنا نہیں ہے۔ وہ ایک موقع پر یہ بھی کہہ چکا ہے کہ پارٹی نے اسے ٹکٹ نہ دی تو وہ آزاد حیثیت سے انتخاب لڑے گا۔ ایک بار کچھ اس قسم کا تاثر بھی دیا ہے کہ اگر پارٹی نے اُسے اپنا امیدوار نامزد نہ کیا تو وہ نامزد امیدوار کی حمایت کرے گا، تاہم ابھی تو یہ مرحلہ نہیں آیا۔ ہمارے ہاں بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ پارٹی کے اندر پرائمریز میں جس کو ووٹ زیادہ ملیں،وہ نامزد امیدوار بن جاتا ہے، ایسا نہیں ہے۔
آخری فیصلہ پارٹی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے اور پرائمریز سادہ اکثریت اور عام ووٹ پر مشتمل نہیں ہوتیں، اس سلسلے میں ہر ریاست کا اپنا اپنا طریقہ کار ہے۔ اب کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو روکنے کے لئے پارٹی مقابلے کا کنونشن منعقد کرے گی، جس میں اسٹیبلشمنٹ ڈونالڈ ٹرمپ کو پرائمریز میں ملنے والی حمایت کی بنیاد پر نہیں، دیگر امور پر اپنا فیصلہ کرے گی اور کسی امیدوار کو بھی نامزد کر دے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی میں سب سے آگے رہنے والی امیدوار ہلیری کلنٹن کی بآسانی نامزدگی ہو جائے گی، لیکن ری پبلکن کی اسٹیبلشمنٹ ڈونالڈ ٹرمپ کو پارٹی کے لئے شرمندگی کا سامان بنانے سے گریز کرے گی۔ اس سلسلے میں میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ جیسے بش خاندان کے چشم و چراغ جیب بش کو جب یہ بات سمجھ آ گئی کہ وہ ہلیری کلنٹن سے ہار جائے گا تو وہ امیدواری کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کو اگر ذرا سی بھی عقل ہوئی تو وہ ایک عورت سے شکست کھانے کی بجائے پارٹی فیصلے پر سر جھکا کر اس شرمندگی سے بچ جائے گا اور شکست کی ذلت شاید ٹیڈکروز کی جھولی میں ڈال دے گا۔
اشرف قریشی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s