دنیا کے بڑے لوگ کیسے ٹیکس چراتے ہیں

بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی
کے امیر اور طاقتور افراد کیسے ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ ان افراد میں کئی ملکوں کے سربراہانِ حکومت اور سیاسی رہنما شامل ہیں۔ یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ 40 برسوں سے بےداغ طریقے کام کر رہی ہے اور اس پر کبھی کسی غلط کام میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگا۔
دستاویزات میں دنیا کے 72 حالیہ یا سابقہ سربراہانِ مملکت، بشمول آمروں، کا ذکر کیا گیا ہے، جن پر اپنے ملکوں کی دولت لوٹنے کا الزام ہے۔ پاناما پیپرز، جس کی بنیاد پر یہ انکشاف ہوا ہے، اس نے ’پاور پلیئرز‘ کے عنوان کے تحت دنیا کے کئی اہم لوگوں کی فہرست دی ہے، اور اس فہرست میں نواز شریف کے تین بچوں کا بھی ذکر ہے۔
آئی سی آئی جے کے ڈائریکٹر جیرارڈ رائل کہتے ہیں کہ یہ دستاویزات پچھلے 40 برسوں میں موساک فونسیکا کی روزمرہ کی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہیں۔
انھوں نے کہا: ’میرے خیال سے یہ انکشافات ’آف شور‘ دنیا کو پہنچنے والا سب سے بڑا صدمہ ثابت ہوں گے۔‘ اس ڈیٹا میں ان خفیہ آف شور کمپنیوں کا ذکر ہے جن کے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک، لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی اور شام کے صدر بشار الاسد کے خاندانوں اور ساتھیوں کے ساتھ روابط ہیں۔
  
اس کے علاوہ اس میں ایک ارب ڈالر پر مشتمل کالا دھن سفید کرنے والے ایک گروہ کا بھی ذکر ہے جسے ایک روسی بینک چلاتا ہے اور جس کے روسی صدر ولادی میر پوتن کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ روابط ہیں۔ دولت کی ترسیل آف شور کمپنیوں کے ذریعے کی جاتی تھی، جن میں سے دو کے سرکاری طور پر مالک 
روسی صدر کے قریبی دوست تھے۔

موسیقار سرگے رولدوگن لڑکپن سے روسی صدر کے ساتھی ہیں اور وہ پوتن کی بیٹی ماریا کے سرپرست (گاڈ فادر) بھی ہیں۔ کاغذوں میں رولدوگن نے مشتبہ سودوں میں کروڑوں ڈالر کمائے ہیں۔ لیکن ان کی کمپنیوں کی دستاویزات کے مطابق: ’یہ کمپنی ایک پردہ ہے جس کے قیام کا مقصد اس کے اصل مالک کی شناخت چھپانا ہے۔‘

کمپنی کا موقف
موساک فونسیکا کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ’ہر ممکن احتیاط سے کام کرتی ہے اور اگر اس کی خدمات کا غلط استعمال ہوا ہے تو اسے اس پر افسوس ہے۔ ’اگر ہمیں کسی مشکوک سرگرمی یا بدمعاملگی کا پتہ چلا تو ہم فوراً اسے حکام کے علم میں لاتے ہیں۔ اسی طرح جب حکام ہمارے پاس کسی قسم کی بدمعاملگی کے شواہد لاتے ہیں تو ہم ہمیشہ ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں۔‘ موساک فونسیکا کا کہنا ہے کہ آف شور کمپنیاں دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں اور انھیں کئی جائز مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s