اسلام آباد ہونے کا کیا فائدہ؟

محمد علی جناح سے سکندر مرزا اور لیاقت علی خان تا فیروز خان نون کسی
گورنر جنرل یا وزیرِ اعظم کو خیال نہ آیا کہ کراچی پاکستان کا وفاقی دارلحکومت ہونے کے لیے سخت ناموزوں ہے۔ آئے دن جلسے جلوس نکلتے ہیں، خود سر طلبا بہانے بہانے گورنر جنرل ہاؤس کا گھیراؤ کر لیتے ہیں اور سرکار تعمیرِ مملکت کے کام پر کماحقہہ توجہ نہیں دے سکتی۔

عام طور پر نئی بستیاں اور محلات بسانے کا وہی حکمران سوچتے ہیں جنھیں عوامی جوابدہی کا خوف نہیں ہوتا۔ چنانچہ پاکستان کے پہلے فوجی آمر جنرل ایوب خان کو یہ خیال آ ہی گیا۔
انھوں نے اقتدار پر قابض ہوتے ہی میجر جنرل یحیی خان کو نئے دارلحکومت کے لیے ایسا موزوں علاقہ تلاش کرنے کا کام سونپا جہاں کا موسم کراچی کی طرح مرطوب نہ ہو، لوگ کراچی کی طرح جذباتی جھگڑالو نہ ہوں بلکہ لوگ ہی نہ ہوں تو اور اچھا۔ تاکہ دور دراز کے سکون میں امورِ مملکت کو جیسے چاہے شکل دی جا سکے۔
نئے دارلحکومت کی تعمیر کا ایک جواز یہ بنایا گیا کہ کراچی ایک کونے پر ہے لہذٰا پنجاب اور سرحد کے لوگوں کو یہاں پہنچنے میں دشواری ہوتی ہے۔
اس مشکل کا حل نیا دارلحکومت بالکل دوسرے کونے پر بنا کے نکالا گیا۔
کراچی اگرچہ مشرقی پاکستان سے دور تھا مگر سمندری و بحری روٹ کے ذریعے جڑا ہوا تھا۔ لیکن اسلام آباد تو مشرقی پاکستان والوں کے لئے تقریباً مریخ پر تھا۔

 بس ایک خوبی تھی کہ جی ایچ کیو بھی ساتھ لگا ہوا تھا اور ایوب خان کا آبائی گاؤں ریحانہ مارگلہ کے دوسری جانب تھا۔ چنانچہ ڈھاکہ میں پروپیگنڈہ شروع ہوگیا کہ ہمارا پٹ سن اسلام آباد بنا رہا ہے۔

سنہ 66 میں ماسٹر پلان کے مطابق اسلام آباد کے کنگرے تیزی سے ابھرنے لگے تو اندازہ یہی تھا کہ اگلے50 برس تک یہ سرکاری بابوؤں کا شہر رہے گا اور اس ویرانے تک کوئی جلسہ جلوس پہنچنے کا تو خیر سوال ہی نہیں؟
جنرل ضیا الحق پہلے حکمران تھے جنھوں نے پنڈی کا ایوانِ صدر اور چیف آف آرمی سٹاف چھوڑ کے سیاسی شور شرابے سے پاک اسلام آباد کے ایوانِ صدر میں دفتر جانا شروع کیا اور کبھی کبھار قیام بھی ہونے لگا۔
پھر ایک دن وہ ہوگیا جس سے بچنے کے لئے دارلحکومت کراچی سے اکھاڑ کر پوٹھوہاری سطح مرتفع پر پہنچایا گیا تھا۔ یعنی اسلام آباد پاکستان سے 25 کلو میٹر کے فاصلے پر نہ رہا اور میلے کچیلے عوام کے پسینے کے محاصرے میں آ گیا۔
1979میں کعبہ پر حملے کی خبر پہنچتے ہی سینکڑوں مشتعل مظاہرین پنڈی سے اسلام آباد کی جانب دوڑ پڑے اور امریکی سفارتخانہ جلا دیا۔ ایسا اسلام آباد میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
چار اور پانچ جولائی 1980 کو ہزاروں شیعہ مظاہرین نے زکوۃ و عشر آرڈیننس میں ترمیم کے لئے اسلام آباد سیکرٹیریٹ کے سامنے پرامن دھرنا دیا۔ کارِ سرکار مفلوج ہوگیا۔ حکومت نے زکوۃ کی کٹوتی نہ کرنے کا مطالبہ تسلیم کرلیا۔اسلام آباد اس طرح سے پہلے کبھی نہیں جھکا تھا۔
17اگست 1979 کو جنرل ضیا الحق کی پہلی برسی کے موقع پر بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت نے وفاقی دارلحکومت کا امن برقرار رکھنے کے لئے ناکہ بندی کردی مگر آئی جے آئی کے ہزاروں حامیوں نے نواز شریف کی قیادت میں دارلحکومت پر یلغار کردی۔
وزیرِ داخلہ چوہدری اعتزاز احسن نے راستہ دے دیا اور فاتحہ خواں پرامن انداز میں ضیا الحق کی برسی منا کر منتشر ہوگئے۔
14اگست 2014 کو طاہر القادری کا دوسرا محاصرہ اور تحریکِ انصاف کی جانب سے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے طویل 126 روزہ دھرنا دیا تھا
بے نظیر بھٹو نے اسلام آباد پر اپنی حکومت کے دور میں اپوزیشن یلغار کو اگرچہ پسند نہیں کیا مگر جب خود اپوزیشن میں آئیں تو پسند کیا اور 16نومبر 1992 کو شریف حکومت کے خلاف لانگ مارچ لے کر اسلام آباد میں داخل ہوئیں اور پھر 16 جولائی 1993 کو دارلحکومت کا محاصرہ تب تک رکھا جب تک جنرل وحید کاکڑ نے غلام اسحاق خان اور نواز شریف نامی بے نظیر کے دونوں سیاسی حریفوں کو چلتا نہیں کردیا۔
اور پھر مارچ 2007 میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی برطرفی کے بعد پہلی بار پاکستان کی کوئی بھی احتجاجی تحریک کراچی یا لاہور کے بجائے اسلام آباد سے پھوٹی ۔ اب تک گولی پاکستان کے دیگر شہروں میں ہی چلتی آئی تھی مگر جولائی 2007 میں لال مسجد آپریشن نے پرامن اسلام آباد کی کلغی بھی اتار لی۔
جب باقی پاکستان دھماکوں اور خودکش حملوں سے جوج رہا تھا۔
اسلام آباد میں تب بھی دہشت گردی کی چھٹ پھٹ گھٹنائیں ہی گھٹ رہی تھیں۔ لیکن پھر مصری سفارتخانے پر حملہ ، ڈینش سفارتخانے کا دھماکہ، میریٹ ہوٹل کا ٹرک بم سے اڑنا، گورنر سلمان تاثیر کا قتل، ایر بلیو اور بھوجا ائیر کے شہر کے اوپر فضائی حادثے، 14 جنوری 2013 کا طاہر القادری کا پہلا چار روزہ محاصرہ، 14اگست 2014 کو طاہر القادری کا دوسرا محاصرہ اور تحریکِ انصاف کی جانب سے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے طویل 126 روزہ دھرنا۔
اور اب ممتاز قادری کے بدلے کے لئے بے چین پرجوش سنی جوانوں کی جانب سے ڈی چوک پر جملہ اقسام کی بازار سے بارعایت گالیوں سے بھرا دھرنا شو ۔ غرض اسلام آباد ایک کے بعد ایک امتحان سے گذرتا جا رہا ہے۔ جانے ایوب خان نے کیا سوچ کر اتنا خرچہ کیا؟ جس بے ادب جنتا سے دور رہنا مقصود تھا اس نے تو محلات کے سامنے بھی اجابتی رستے بنا لیے ؟ جائیں کہاں اب اور یہاں تک تو آ گئے۔
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s