پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع

دنیا کا کوئی بھی ملک یا قوم اس وقت تک مضبوط یا ترقی یافتہ نہیں ہوسکتی جب
تک وہ معاشی طور پر مستحکم نہ ہو اور اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اسکی پیداواری صلاحیت کیا ہے ؟اس میں سرمایہ کاری کے کیا امکانات ہیں ؟ اور اس ملک میں کیا سرمایہ کاری ہورہی ہے ؟ اس تناظر میں جب ہم پاکستان کی صورتحال دیکھتے ہیں تو سوائے مایوسی اور ارباب اختیار کی بے حسی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا

کیونکہ حقیقتاً گذشتہ انسٹھ برسوں میں کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ اس جانب توجہ نہیں دی گئی یہی وجہ ہے کہ گذشتہ پندرہ سالوں میں صرف چند موبائل فونز یا چند فوڈ چینز کے علاوہ کسی حقیقی شعبہ میں کسی قسم کی سرمایہ کاری نہیں کی گئی اور المیہ یہ ہے کہ ان شعبوں میں بھی اگر کوئی بیرونی سرمایہ کاری کرتا ہے تو اگر سال میں سو ڈالرز کماتا ہے تو سال کے آخر میں 105 ڈالرز اپنے ملک بھیج دیتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے ملک کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچ پاتا ۔
اس حقیقت کا اس اعدادوشمار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 2000 سے 2007تک ایک بینکار وزیر خزانہ اور بعد میں وزیر اعظم بننے والے شوکت عزیز نے جس طرح جمعہ بازار کی طرح ملکی و غیر ملکی بینک قائم کرکے اس قوم کو پلاسٹک منی کا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے اپنے وسائل سے زیادہ اخراجات کا نشہ لگایا تھا اس کو دیکھتے ہوئے میں نے 2006 میں اپنے ایک کالم میں پیش گوئی کی تھی کہ اسکے نتیجے میں 2009 تک نہ ملک میں صنعتیں بچیں گی اور نہ ہی بینک

 اور پھر دنیا نے دیکھا کہ 2009 تک تمام بیرونی بینک اپنا سرمایہ لپیٹ کر اس ملک سے چلے گئے اور کئی ملکی بینک یا تو بند ہوگئے یا ایک دوسرے میں ضم ہوگئے اور باہر کی سرمایہ کاری تو کیا ملکی سرمایہ کاروں نے بھی آج تک کسی بڑے شعبے میں سرمایہ کاری نہ کی اور اس وقت صرف ہمارے ہاں اسمبل پلانٹ پر انحصار کیا جارہا ہے حالانکہ اس وقت تھائی لینڈ، بنگلہ دیش اور دیگر چھوٹے ممالک تمام شعبوں میں ٹیکنالوجی کیساتھ سرمایہ کاری کرارہے ہیں حالانکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے جتنے مواقع موجود ہیں وہ شائد پوری عالمی دنیا میں چند ممالک کو ہی نصیب ہونگے

چونکہ پاکستان اپنے چاروں موسموں کی بدولت، دریا، سمندر، بندرگاہیں، معدنی وسائل، تیل اور زیر زمین خزانوں کی بدولت ان سے بہتر ین فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ لیکن ہمارے عالمی اداروں کے غلام ارباب اقتدار اپنی مصلحتوں اورمنا فقتوں کی وجہ سے اس طرف توجہ نہیں دے رہے اور صرف نعرئوں،دعوئوں اور خوبصورت الفاظوں کا استعمال کرکے جھوٹے اعدادوشمار کے گورکھ دھندوں میں الجھا کر اس قوم کے مستقبل سے کھیلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
اسی طرح موجودہ دور میں بھی ہماری وزارت خزانہ اور اقتصادی منصوبہ بندی میں بیٹھے ہوئے افراد کا عمل اورکردار پہلے سے بھی زیادہ عالمی مالیاتی اداروں کی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف عمل ہے حالانکہ اس وقت تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں کم ترین قیمت کی وجہ سے دنیا کے تمام ممالک نے ان سے جو فائدہ اٹھایا ہے ہم اس سے بھی محروم رہے ہیں اور اس تمام بچتوں کو پیداواری شعبے میں لگانے کے بجائے اپنے انتظامی اخراجات پورا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف گھر کے اثاثے بیچ بیچ کر ہمارا پیٹ نہیں بھر رہا اور ہم مزید ڈھونڈ ڈھونڈ کر موجود اثاثے کوڑیوں کے مول بیچے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں موجود رہی سہی سرمایہ کاری بھی ختم ہوجائیگی کیونکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ سالوں میں جتنے بھی اثاثے بیچے گئے ان میں سے اکثر کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہے اور جب ملک کے اپنے سرمایہ کار اپنے ملک میں سرمایہ کاری نہیں کرینگے تو بیرون ملک سے آکر کوئی کیوں سرمایہ کاری کریگا؟
اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس وقت ہمارے تمام سنجیدہ حلقوں کیلئے سب سے بڑا لمحہ فکریہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس ملک میں کس طرح سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرکے ملکی سرمایہ کاروں کو اس طرف راغب کرسکتے ہیں کیونکہ چاروں طرف سے اس ملک کو جن خطرات نے گھیرا ہوا ہے اور گذشتہ سولہ سال سے امریکی ایماء پر ایک نام نہاد دہشت گردی کی جنگ ہمارے اوپر تھوپی ہوئی ہے جس سے ایک اندازے کیمطابق اس وقت 150ارب ڈالرز کانقصان اٹھاچکے ہیں اور صرف 2008اور 2009 کے دو سالوں میں 18ارب ڈالرز اور 2011میں 37ارب ڈالرز سے بھی تجاوز کرگیا تھا
 اور ان ہی حالات کو جواز بناکر ہمیں اس حد تک ہمارے ارباب اختیار کی منافقتوں اور مصلحتوں نے عالمی دنیا میں اس حد تک تنہا کردیا ہے کہ آج کوئی حقیقی سرمایہ کار تو کیا ہمارے ملک میں آئیگا ہمارے ملک میں کوئی ہمارے ساتھ کوئی کھیل کھیلنے کو بھی تیار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی شناختی تعاون کرنے کوئی تیار ہے ۔
ان تمام تلخ حقیقتوں کے باوجود ہمارے ارباب اختیار دنیا کی اٹھارویں معاشی طاقت بننے کے دعوے اور خوش فہمیوں کے سمندر میں رہنا چاہتے ہیں ۔ ان کی مثال تو ایسے ہی ہے کہ روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجارہا تھا یا قوم بھوک سے بلبلا رہی تھی اور ملکہ عالیہ انہیں روٹی نہ ملنے کی شکایت پر ڈبل روٹی کھانے کا مشورہ دے رہی تھی اور شائد ہمارے معاشی افلاطون کی بے حسی اس سے بھی زیادہ ہوچکی ہے حالانکہ پلاسٹک اور کیمیکل میں بھی بڑے وسیع مواقع موجود ہیں ۔
اسکے علاوہ ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات کو بھی زیادہ توجہ دیکر اس میں بہت سرمایہ کاری کرکے پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے اسکے ساتھ ساتھ پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک ہے اس لئے زرعی فارمنگ، فوڈ انڈسٹری اور خصوصاً سی فوڈ میں بھی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن ہمارے معاشی افلاطونوں کی بدولت جو ڈالر خوش قسمتی سے 94.5 فی ڈالر کی سطح پر آگیا تھا آج پھر انکی حماقتوں کی وجہ سے 105روپے فی ڈالر تک پہنچ گیا ہے
 جس کی وجہ صرف ہمارے وزارت خزانہ کے ذمہ داروں کی ملک سے بے حسی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اس لئے اب ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی سیاست کو ختم کرکے ملک میں پہلے ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کیلئے راغب کیا جائے اور اس وقت جو آٹو انجینئرنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن اسمبل پلانٹ یا صرف سروسز دی جارہی ہیں ان کومجبور کیا جائے کہ وہ ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت کیساتھ سرمایہ کاری کریں کیونکہ ہمارے ملک میں نہ افرادی قوت کی کمی ہے، نہ وسائل کی کمی ہے اس لئے ہم اپنے وسائل کو استعمال کرکے اس ملک میں ایک بڑا صنعتی اور سرمایہ کاری انقلاب لاسکتے ہیں تب ہی ہم اپنے ملک کو حقیقی معنوں میں سرمایہ کار ملک کہہ سکتے ہیں۔
شیخ منظر عالم

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s