پی آئی اے کی نجکاری میں حائل رکاوٹیں

نواز حکومت کو حسبِ توقع قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی نجکاری میں شدید
سیاسی دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مخالفت اقتصادی ماہرین کی جانب سے ہوتی تو بات سمجھ میں آتی لیکن ہر مسلہ ہر ٹانگ اڑانے میں ماہر سیاسی جماعتیں ایک مرتبہ پھر اس پر شدید تنقید کر رہی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ماہانہ اربوں روپے کا خسارہ برادشت نہیں کرسکتی ہے۔
قومی ایئر لائن میں بدعنوانی اور بدانتظامی کے چرچے تو عام ہیں لیکن سب سے بڑا چیلنج اس میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومت خصوصا پیپلز پارٹی کے ادوار میں بڑے پیمانے پر بھرتیاں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پی آئی اے میں اس وقت 18 ہزار سے زائد ملازمین ہیں جن میں سے تقریباً چار ہزار یومیہ اجرت والے ہیں۔ یہ دنیا میں فی نشست کے مقابلے میں عملے کی تعداد کی سب سے زیادہ شرح ہے۔
نجکاری اور طیارے
ایک جانب حکومت نجکاری کے لیے پر تول رہی ہے تو دوسری جانب گذشتہ دنوں اخبارات میں اشتہار کے ذریعے اس نے مزید آٹھ چھوٹے بڑے طیارے لیز پر لینے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ کمپنی کے پاس اس وقت 38 طیارے موجود ہیں۔ ان میں سے 11 بوئنگ ترپل سیون، 11 ائیر بس اے 320، پانچ ایربس اے 310 اور 11 اے ٹی آر شامل ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مطابق حکومت اس سال ایئر لائن کی جزوی نج کاری کے لیے فنانشل ایڈوائزر مقرر کرنے اور 26 فیصد حصص فروخت کرنے کی پابند ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کا مجموعی خسارہ 300 ارب روپے تک جا پہنچا ہے جبکہ ماہانہ تین ارب روپے کا نقصان برادشت کرنا پڑ رہا ہے۔
نجکاری کے وفاقی وزیر محمد زبیر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ اضافی ملازمین کے مسئلے کا حل رضا کارانہ ریٹائرمنٹ اور انھیں دیگر جگہوں پر نوکری حاصل کرنے میں مدد دے کر تلاش کر سکتی ہے۔ لیکن پی آئی اے کے ملازمین کو خدشات لاحق ہیں۔
انھوں نے گذشتہ ماہ اس اقدام کے خلاف احتجاجی تحریک چلا کر فضائی کمپنی کے آپریشن کئی دن تک مفلوج کر دیے تھے۔
یہ احتجاج اس وقت خونی بھی ثابت ہوا جب کراچی میں احتجاج کے دوران دو ملازمین ہلاک ہوئے۔
ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق قانون سازی واپس لے۔ ان کا موقف تھا کہ ملازمین کو کپمنی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ان کے حوالے کر دینا چاہیے۔ اگر وہ اس میں ناکام ہوتے ہیں تو پھر حکومت ان کے ساتھ جو چاہے کرسکتی ہے۔
لیکن فی الحال حکومت اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے اور ایوان بالا یا سینیٹ میں دو مرتبہ بل کی ناکامی کے بعد اب اسے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں حل کرنا چاہتی ہے۔ اور اسی سلسلے میں آج پیر کو پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس بھی ہو رہا ہے۔
کمپنی کے پاس اس وقت 38 طیارے موجود ہیں۔ ان میں سے 11 بوئنگ ٹرپل سیون، 11 ایئر بس اے 320، پانچ ایربس اے 310 اور 11 اے ٹی آر شامل ہیں۔
ماہرین کے خیال میں سخت مقابلے کے باوجود پی آئی اے کو کئی منافع بخش روٹس پر برتری حاصل ہے اور بہتر انتظامی اور اقتصادی طرز عمل سے تمام مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔ اندرونی مسائل کے علاوہ پی آئی اے کے لیے 
مسافروں کی سروس میں بہتری بھی لانی ہوگی۔
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s