شیخ احمد یاسین شہید : وہ مسجد کا بتدریج معذور ہوتا ہوا ایک امام

وہ میرا آئیڈیل!
وہ مسجد کا بتدریج معذور ہوتا ہوا ایک امام۔۔۔۔۔
وہ غزہ پہنچا تو عرب قومیت اور سیکولرزم کا جادو یاسر عرفات کی قیادت مین سر چڑھ کر بول رہا تھا۔۔۔
اس نے مسجد سے کرکٹ اور فٹبال ٹورنا منٹ آرگنائیز کرنے سے دعوت کا آغاز کیا کہ بندہ مومن فضول جزوی بحثوں پر نہیں کام پر یقین رکھتا ہے۔ 
اس نے باڈی بلڈنگ کلبز بنائے 
اس نے نئی نسل کو تفریح اور کھیل کے راستے ،امت کی گود میں ڈال دیا
اس نے حفظ قرآن کا کلچر دیا اورلاکھوں حفاظ اس کا صدقہ جاریہ ہیں
اور 15 برس بعد وہ اپنے علاقہ کی 80٪ سیٹیں جیت چکا تھا
پھر اسے شہید کر دیا گیا۔ 
اس کے جنازے مین 5 لاکھ ابلتے جذبوں والے نوجوانوں شریک تھے،
جو اس طرح رو رہے تھے جیسے یہ معذور بوڑھا کوئی اور نہیں ان کا باپ ہو۔
اللہ پر اس کا ایمان عجیب سرور بخش تھا، اسے اپنی کامیابی کا یقین ویسے ہی تھا جیسے دن کے سورج کا۔ 
وہ رخصت ہوا تو قوم بانجھ نہیں بلکہ شیروں جیسے لیڈروں کی قطارون پر مشتمل تھی
جو کہتے تھے
” موت تو آنی ہے بیماری سے آئے یا اسرائیلی اپاچی ہیلی کاپٹر کے میزائیل سے آئے پھر اپاچی ہی کیوں نہیں؟”
اس کے سدھائے ہوئے شیراسرائیل کو زہانت ،میڈیا ،تعلیم اور مزاحمت کے میدانوں میں ناکون چنے چبوا رہے ہیں اوران شا اللہ حضرت عیسی کے اولین اتحادی ہوں گے
وہ چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر نہیں وہ کب گیا؟
وہ شخص اب اک سحر کی مانند فضاؤں میں وہ رچا ملے گا
ستیزہ گاہون مین جاں لڑاؤ وہ خود واں تم سے آ ملے گا۔ 
(خود کلامی۔۔۔ زبیر منصوری)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s