فارک : نصف دہائی تک دنیا کی طاقتور فوج سے لڑنیوالے گوریلوں کی کہانی

کولمبیا کا باغی گروپ ’’ فارک‘‘ اپنی پرُاسرار سرگرمیوں اور حکومت کے ساتھ طویل جنگ کے حوالے سے مشہور ہے۔ کولمبئین صدر، جوان مینوئل سینتوس اور ’’فارک‘‘ کے اہم رہنمائوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود بھی یہ گوریلا جنگجو جنگل میں ہتھیاروں سے لیس ہو کر زندگی گزار رہے ہیں۔ برطانوی جریدے، ڈیلی میل کے مطابق، انٹیوقیا کے جنگل میں ان باغیوں کا ایک کیمپ قائم ہے، جہاں 63 سالہ ییرا کاسترو خاتون باغیوں کو لڑائی کی تربیت دیتی ہے، جس کے پاس ایک نارنجی رنگ کا لیپ ٹاپ بھی ہے۔

 ییرا کاسترو نے ہوانا میں حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی حصہ لیا۔ برطانوی جریدے کے نمائندے نے اس کیمپ میں رہنے والے جنگجوئوں سے ان کے طرزِ زندگی اور ’’فارک‘‘ میں ان کی شمولیت کے حوالے سے بات چیت کی۔ اس دوران جولیانا نامی جنگجو خاتون نے بتایا کہ سیاسی نظریات کے علاوہ اس کے ساتھ ہونے والا ایک المیہ بھی اس کی ’’فارک‘‘ میں شمولیت کی وجہ بنا۔ 

  جولیانا کا مزید کہنا تھا کہ وہ کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی، لیکن حالات نے اسے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کردیا، لیکن اب اسے امید ہو چلی ہے کہ زمانہ امن میں وہ سیاست میں شمولیت اختیار کر کے اپنی تنظیم کے لیے خدمات انجام دے سکتی ہے۔ ایک جنگجو ہونے کے باوجود جولیانا عام عورتوں کی طرح بنتی سنورتی بھی ہے اور اسے اپنے ہونٹوں کو ہلکی گلابی لپ سٹک سے سجانا پسند ہے۔

 جولیانا سے بات چیت کے دوران اس کے ایک جنگجو ساتھی، الیکسز نے بتایا کہ ’’ فارک‘‘ میں رہتے ہوئے ہمیں کبھی رقم کو چھونے تک کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ ہمیں یہاں ادویہ سے لے کر سگریٹ تک مل جاتے ہیں۔ یہاں ان چیزوں کے لیے کسی کو بھی دوسرے کا محتاج نہیں ہونا پڑتا۔‘‘ اس موقعے پر تنظیم کے ایک کمانڈر، اینیبل کا کہنا تھا کہ ’’ سیاست، جنگ سے زیادہ مشکل کام ہے کیونکہ میدانِ جنگ میں غلطی سے صرف ہؤپ کی جان جاتی ہے جبکہ سیاست کے میدان میں ہونے والی غلطی سے پوری تنظیم کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔‘‘ اس تنظیم میں بعض ایسے افراد بھی شامل ہیں، جو گذشتہ 25 برس سے حکومت کے خلاف برسر پیکار ہیں۔

 ان میں 41 سالہ کمانڈر، جوان پیبلو بھی شامل ہے، جس نے نہ آج تک کبھی کار چلائی، نہ فلم دیکھی ہے اور نہ ہی ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا۔ جوان پیبلو کا کہنا ہے کہ حکومت اور گوریلوں کے درمیان مذاکرات کے بعد جنگ کا خاتمہ ہو رہا ہے اور اس کی بھی خواہش ہے کہ وہ 25 برس بعد جنگل سے نکل کر اپنے گائوں جائے، جہاں اس نے اپنا بچپن گزارا تھا۔ اس کا خیال ہے کہ اس جنگ میں نہ کوئی فاتح ٹھہرا اور نہ ہی مفتوح البتہ دونوں اطراف نقصان ہی ہوا۔

 پیبلو کے مطابق ’’ ہم نے 51 برس تک ایک ایسے دشمن کے خلاف جنگ لڑی، جسے دنیا کی سب سے طاقتور فوج، یو ایس آرمی کی پشت پناہی حاصل تھی، لیکن وہ ہمیں جھکا نہیں پائے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ہم ایک شکست خوردہ تنظیم کے طور پر مذاکرات کی میز پر گئے اور ہمیں ہمارے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں نے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا، جو اس وقت بھی جاری ہیں۔‘‘ ڈیلی میل کے مطابق ’’فارک‘‘ کے جنگجوئوں کی تعداد لگ بھگ 7000 ہزار ہے اور ان میں سے بیش تر جوان پیبلو کی طرح غریب اور دیہی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

یہ جنگجو رات سوتے وقت بھی مسلح ہوتے ہیں۔ رات میں انہیں ایک دوسرے سے بات چیت کی اجازت نہیں ہوتی البتہ خطرے کی صورت میں ایک دوسرے کو خفیہ ناموں سے پکار سکتے ہیں۔ یہ وائرلیس یا پیغام رساں افراد کے ذریعے دوسرے یونٹس کے افراد سے رابطے میں رہتے ہیں جبکہ ان کی خوراک میں خنزیر کا گوشت اور چاول شامل ہیں۔

 کولمبیئن حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق، فوج اور گوریلوں کے درمیان کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ کے نتیجے میں 2 لاکھ 20 ہزار افراد مارے گئے، 40 ہزار لاپتا ہوئے اور 50 لاکھ کو در بدر ہونا پڑا۔ اس اعتبار سے یہ شام کے بعد کسی بھی ملک میں ہونے والی سب سے بڑی نقل مکانی ہے۔  

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s