’’گڈ ‘‘ طالبان، ’’بیڈ‘‘ طالبان

پورا میڈیا گُنگ ہے، سب کو ایسے لگتا ہے سانپ سونگھ گیا ہے۔ کیسے مان لیں کہ افغانستان کے وہ طالبان جن کے ساتھ انھوں نے پاکستان میں ہونے والے ہر سانحہ کو جوڑنے کی کوشش کی۔ انھیں اپنے امریکی آقاؤں، مغربی سرپرستوں اور ذاتی تعصب کی بھینٹ چڑھا کر بدنام کیا گیا۔ افغانستان نے آج اگر پچاس سال پہلے بھی کوئی زیادتی کی تھی تو اسے بحیثیت مجموعی ان کے کھاتے میں ڈال کر انھیں پوری افغان تاریخ کا نمایندہ قرار دے کر گالی دی گئی۔

کیسے تسلیم کر لیں کہ سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو انھوں نے بغیر تاوان کے رہا کر دیا اور پھر اسے پاکستان تک چھوڑ کر آئے۔ ان راستوں سے ہوتے ہوئے جہاں امریکی اور افغان فوجی باؤلے کتوں کی طرح ان کا پیچھا کرتے پھرتے ہیں۔ وہ جو افغان امور کے ماہر بن کر کتنے سالوں سے یہ ثابت کرنے میں مصروف تھے کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان  ایک ہی چیز ہیں۔ اگر وہ یہ تسلیم کر لیں کہ شہباز تاثیر پاکستانی طالبان کی قید میں ایک سے دوسری جگہ بِکتا ایک ایسے گروہ تک جا پہنچا تھا جو مقامی اور ازبک طالبان پر مشتمل تھا اور وہ بھاری تاوان طلب کر رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی انھوں نے افغان طالبان سے شکست کھائی اور شہباز تاثیر افغان طالبان کے ہاتھ آیا تو ملا اختر منصور نے فوراً اسے بحفاظت پاکستان پہنچانے کا حکم صادر کیا۔
کیا یہ سب گزشتہ پندرہ سال کی بدترین کردار کشی اور افغان طالبان کو مطعون کرنے کی ساری کوششوں کے برعکس نہیں ہو گیا۔ میڈیا گُنگ ہے اور اس لمحے کی تلاش میں ہے جب انھیں کوئی ایسی جھوٹی رپورٹ ہی میسر آ جائے تا کہ ان گُنگ زبانوں کو قرار آ جائے اور وہ ایک بار پھر سے افغانستان میں آزادی اور حریت کی جنگ لڑنے والوں کے خلاف بولنا شروع کر دیں۔
شہباز تاثیر جس علاقے سے ہوتا ہوا کوئٹہ کے قریب کچلاک میں پہنچا، وہ پورے کا پورا علاقہ 1980ء سے افغانستان میں ہونے والی کشمکش کا گواہ ہے۔ ان چھتیس سالوں میں وہاں جو بھی اتار چڑھاؤ آیا، پاکستان میں رہنے والے اس خطے کے افراد پر اس کا اثر ضرور مرتب ہوا۔ زابل، قندھار اور ہلمند، یہ تین صوبے ایسے ہیں جو بلوچستان کے اہم اضلاع کی سرحدوں کے اس پار ہیں جب کہ پکتیکا اور نیمرروز دو صوبے بلوچستان کے شمالی اور مغربی اضلاع کے آخری کناروں کو چھوتے ہیں۔ قندھار کا فاصلہ چمن سے اتنا ہی ہے جتنا کوئٹہ کا فاصلہ چمن سے ہے۔

اسی لیے چمن کا شہر گزشتہ چھتیس سالوں سے افغانستان میں ہونے والے ہر واقعے یا آنے والے ہر انقلاب سے براہ راست متاثر ضرور ہوا ہے۔ ان چھتیس سالوں میں سے صرف چھ سال ایسے تھے جب افغانستان کے بارڈر کے ساتھ آباد ژوب، قلعہ سیف اللہ، چمن، نوشکی اور دالبندین کے عوام نے سکھ کا سانس لیا اور انھیں اس بات کا اندازہ ہوا کہ پڑوس میں بھی اگر ایک ایسی حکومت قائم ہو جائے جو انصاف کرتی ہو اور امن و امان قائم کر دے تو ساتھ والے خطے میں بھی امن اور انصاف کی خوشبو دار ہوائیں چلنے لگتی ہیں۔

یہ چھ سال تھے 1995ء سے 2001ء تک‘ جب افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی۔ ورنہ روس کی 1980ء میں افغانستان میں آمد سے اگلے پندرہ سالوں تک اس خطے نے یا توبم دھماکے دیکھے یا پھر اغوا برائے تاوان۔ کونسا سا ایسا شہر نہیں تھا جہاں سے انسان تاوان کے لیے اغوا نہ ہوئے ہوں اور گاڑیاں تو پورے پاکستان سے چوری کر کے افغانستان کے ان صوبوں میں جا کر بیچی جاتی تھیں۔

میں 1980ء کے اوائل میں، اقوام متحدہ کے ایک ادارے کے تحت منشیات کی اسمگلنگ پر تحقیق کر رہا تھا۔ میرے ساتھ ایک جرمن باشندہ بھی تھا۔ ہم دونوں افغانستان میں پھیلی وسیع و عریض پوست کی کاشت دیکھتے، پھر بارڈر پر موجود ہیروئن کی فیکٹریوں کے بارے معلومات اکٹھا کرتے اور پھر پاکستان کے ان شہروں میں چلنے والے اڈوں جسے یہاں کے لوگ ساقی خانہ کہتے ہیں وہاں منشیات کا شکار افراد سے انٹرویو کرتے۔

یہ دھندا روس کے زمانے میں بھی چلتا رہا۔ افغان جنگ میں بھی زوروں پر رہا۔ مجاہدین کی حکومت آئی تو وہ آپس میں اس قدر بٹی ہوئی تھی کہ منشیات فروشوں کے وارے نیارے ہو گئے۔ لیکن طالبان کے ان پانچ سالوں میں سے آخری تین سال جب ملا محمد عمر نے منشیات پر پابندی کا حکم صادر کیا۔ افغانستان میں منشیات کی کاشت جو دنیا کا نوے فیصد تھی صفر پر آ گئی۔ ژوب سے لے کر چاغی تک کے تمام سرحدی اضلاع اور یہاں تک کہ کوئٹہ سے زیارت اور لورالائی تک کے تمام علاقے اس لیے امن میں آ گئے تھے کہ اب کوئی شخص چوری کر کے، گاڑی اغوا کر کے یا پھر قتل کے بعد افغانستان میں پناہ نہیں لے سکتا تھا۔
آغاز میں کچھ لوگ اسے پہلے والا افغانستان سمجھتے ہوئے ایسے جرائم کر کے وہاں پناہ گزین ہوئے لیکن وہ تمام گاڑیاں اور چوری کا مال بھی واپس کیا گیا اور مجرم بھی پاکستان کے حوالے کر دیے گئے۔ انھیں دنوں میں یہ دستور عام ہونے لگا تھا کہ لوگ اپنے درمیان ہونے والے قضیؤں اور جھگڑوں کے فیصلے افغانستان کی کسی نزدیکی عدالت کے طالبان سے کرواتے۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ جان محمد دشتی کے دفتر میں موجود وہ وفد مجھے نہیں بھولتا جو ایک درخواست لے کر آیا تھا کہ چار اشخاص نے ہمارے کروڑوں افغانی (کرنسی) اور ایک موٹر سائیکل دھوکے سے لے لیا ہے۔ چاروں پکڑے گئے۔ دو کو عدالت نے چھوڑ دیا اور دو ایس ایچ او نے پولیس کے رہا کردہ بھاگ کر قندھار چلے گئے۔ ہم اپنا مقدمہ لے کر وہاں پہنچے۔ طالبان نے آدھی رقم اور موٹر سائیکل واپس کروا دیا۔ آپ ہمیں باقی دو افراد پکڑ کر دو ہم ان کو قندھار لے جائیں گے تا کہ انصاف سے فیصلہ ہو۔
سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کے واپس آنے کے بعد اس سارے علاقے میں لوگوں کے ذہنوں میں اس دور کی یاد تازہ کر دی ہے۔ جس دن شہباز تاثیر کی خبر آئی، میں نے وہاں بے شمار لوگوں سے رابطہ کیا۔ ہر کسی کو اس واقعے کی پوری صحت کا علم تھا۔ کیسے قلات غلزئی کے قریب طالبان کی ایک ایسے گروہ سے جھڑپ ہوئی جسے امریکا، افغان حکومت اور بھارت نے ان کے خلاف منظم کیا ہے۔ اس میں ازبکستان کی اسلامک موومنٹ کے لوگ بھی شامل ہیں۔
 ان کا ابوبکر البغدادی سے کوئی رابطہ نہیں لیکن ایک بڑی چھتری کے نیچے آنے کے لیے داعش کا ذکر کرتے ہیں۔ جہاں جہاں افغانستان میں یہ جگہ بناتے ہیں، وہاں افغان فوج اور امریکا ان کے لیے راہ ہموار کرتا ہے تا کہ یہ طالبان سے لڑیں۔
غزنی پر جب طالبان نے اپنا حملہ کیا تو زابل پڑوس میں ہونے کی وجہ سے ان کے زیراثر تھا۔ وہاں یہ گروپ بھی موجود تھا جس کے پاس شہباز تاثیر تھا۔ غزنی میں افغان فوج کا تو عمل دخل مشکل تھا، اسی گروہ کو طالبان کے خلاف ابھارا گیا۔ جنگ میں یہ لوگ پسپا ہوئے اور شہباز تاثیر افغان طالبان کے ہاتھ آ گیا۔ یہاں اس قیادت کا فرق واضح ہوتا ہے جو اغوا برائے تاوان پر یقین نہیں رکھتی، بے گناہ کو اس کے جرم کی سزا نہیں دیتی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہزار بے وفائیوں کے باوجود پاکستان سے محبت کرتی ہے، احترام کرتی ہے۔ زابل سے کچلاک کوئی آسان راستہ نہیں۔ دو بندی کے پہاڑی میدان اور قلعہ سیف اللہ کے پہاڑی سلسلے اور ان کے دشوار گزار راستے۔
دوسری جانب افغان فوج اور خود پاکستانی اہلکار آپ کے تعاقب میں لیکن شہباز تاثیر کو ایک محفوظ جگہ تک چھوڑ کر گئے تا کہ وہ گھر رابطہ کر کے بتا سکے۔ طالبان اب موبائل فون کا استعمال بہت کم کرتے ہیں تاکہ ڈرون وغیرہ سے بچ سکیں۔ اس لیے بہت احتیاط کرنا پڑی اس سارے سفر میں۔ایک افواہ اور گرم تھی کہ چالیس کروڑ لیے گئے لیکن علاقے کے لوگوں کی خبر اس کی تصدیق نہیں کرتی۔ شہباز تاثیر کی واپسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کی حکومت موجود ہو تو پاکستان میں جرائم کس قدر کم ہوں گے لیکن کون اس کو مانے گا۔ شاید کوئی نہیں۔
دنیا کی ہر قوم میں ’’گڈ‘‘ اور ’’بیڈ‘‘ ہوتے ہیں لیکن تعصب کی انتہا دیکھیں کہ اس ملک کے عظیم دانشور تمام کے تمام طالبان کو ’’بیڈ‘‘ گنتے ہیں اور دوسروں کو گننے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔ خواہ مدرسے میں پڑھتے ہوں اور امن سے رہتے ہوں، خواہ دھماکے اور دہشت گردی کرتے ہوں یا پھر وہ افغان طالبان جنہوں نے اپنے ملک میں ایک پرامن حکومت پانچ سال تک چلا کر دکھائی۔ سب کے سب ’’بیڈ‘‘ ہیں۔ اسی لیے کہ یہ لوگ شہباز تاثیر کی بازیابی کے واقعہ پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ کسی کی بڑائی کی تعریف نہیں کریں گے۔اگر شہباز تاثیر بلوچ قوم پرستوں، سندھ کے ڈاکوؤں یا کراچی کے بھتہ خوروں کے ہاتھ آتا تو کیا وہ ایسے رہا ہوتا۔ ہرگز نہیں۔ لیکن کوئی نہیں بولے گا۔ پندرہ سال کا جھوٹ واپس نگلنا آسان کام تو نہیں ہوتا۔
اوریا مقبول جان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s