کیا اسلام امریکہ سے نفرت کرتا ہے؟

جمعے کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈنلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اسلام ہم سے نفرت کرتا ہے۔ 

امریکی ریاست میامی میں ہونے والے ایک مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ ’ شدید نفرت پائی جاتی ہے، میں اپنے الفاظ پر قائم ہوں۔ 
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس موقف پر سینیٹر روبیو نے مسلمانوں کا بھرپور دفاع کیا۔
امریکہ میں نائن الیون کے حملے کرنے والے اور ان جیسے دیگر شدت پسند مسلمان یقیناً امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے نفرت کرتے ہیں۔

لیکن کیا ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ سب مسلمان امریکہ سے نفرت کرتے ہیں درست ہے؟
اگرچہ ابھی تک اس حوالے امریکہ میں مسلمانوں سے کوئی سروے نہیں کیا گیا ہے تاہم دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں میں اس حوالے سے پائے جانے والے عمومی جذبات کو کئی رائے عامہ کے سروے کرنے والی کمپنیوں نے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔
فیو ریسریچ سینٹر جو دنیا میں پائے جانے والے رحجانات کے متعلق سروے کرتا ہے کا کہنا ہے کہ عراق جنگ کے دوران دنیا بھر میں شدید امریکہ مخالف جذبات پائے جاتے تھے۔

مسلم اکثریت والے ممالک میں امریکہ مخالف جذبات کا تعلق مذہب سے نہیں امریکہ کی پالیسیوں سے ہے۔ 

ڈالیا موگاہد
تاہم موجودہ دور میں چند ممالک کے علاوہ امریکہ مخالف جذبات کا دنیا بھر میں عام ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
فیو ریسرچ سے سینٹر سے وابستہ ’بروس سٹوکس‘ کے بقول مسلمان اکثریت والے ممالک میں امریکہ سے متعلق جذبات میں یکسانیت نہیں ہے۔
’ہمیں مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان ممالک جیسے مصر میں امریکہ مخالف جذبات زیادہ نظر آتے ہیں۔ لیکن مشرقِ وسطیٰ سے باہر بسنے والے مسلمان عمومی طور پر امریکہ سے متعلق مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ 
فیو ریسرچ سینٹر کے تازہ اعداد وشمار کے مطابق دنیا کے سب سے زیادہ مسلمان آبادی والے ملک انڈونیشیا میں 62 فیصد لوگ امریکہ سے متعلق مثبت رائے رکھتے ہیں۔
بروس سٹوکس کے مطابق سینیگال جہاں 90 فیصد آبادی مسلمان ہے، 80 فیصد لوگ امریکہ کہ بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں۔
 صدر اوباما کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہم نے لوگوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی دیکھی ہے۔ 
بروس سٹوکس کے مطابق صدر اوباما کے اقتدار کے پہلے سال میں فلسطین میں بھی امریکہ سے متعلق پائے جانے والے منفی جذبات میں کمی دیکھی گئی تھی۔
سنہ 2014 میں بی بی سی ورلڈ سروس نے 24 ممالک میں سروے کیا تھا جس میں امریکہ سے متعلق پوچھا گیا تھا کہ آیا وہ دنیا میں بنیادی طور پر منفی یا مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔
اس سوال کے جواب میں 61 فیصد پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ امریکہ کا کردار منفی ہے لیکن چین اور جرمنی کے بارے میں بھی 59 فیصد اور 57 فیصد منفی رائے سامنے آئی تھی۔
جبکہ مسلم اکثریت والے ملک ترکی میں 36 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ امریکہ کا کردار منفی ہے اور اتنی ہی فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ امریکہ دنیا میں مثبت کردار اد کر رہا ہے۔
’ہو سپیکس فار اسلام ‘ کی شریک مصنف ڈالیا موگاہد کے بقول مسلم اکثریت والے ممالک میں امریکہ مخالف جذبات کا تعلق مذہب سے نہیں ہے۔
  اس کا تعلق مذہب نہیں امریکہ کی پالیسیوں سے ہے۔ 
فیو ریسرچ سینٹر کے اعداوشمار کے مطابق سنہ 2011 میں پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہوا تھا اس کی وجہ امریکی فوج کی اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائئ تھی۔ پاکستانی عوام کے خیال میں یہ ان کے ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی تھی۔
ڈالیا موگاہد کے مطابق اگرچہ کینیڈا میں بھی امریکہ کی طرح کی ہی ثقافت اور مذہب ہے لیکن اس کی فارن پالیسی امریکہ سے مختلف ہے اس لیے کینیڈا سے متعلق مسلمان عمومی طور پر مثبت رائے رکھتے ہیں۔
محمد مہدی
بی بی سی نیوز

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s