عالمی بساط پر روس کی چالیں…شاہنواز فاروقی

بطور وزیراعظم مئی ۲۰۱۲ء میں ولادی میر پیوٹن تیسری بار روس کے صدر
بنے۔ اس کے بعد سے روس بین الاقوامی سطح پر زیادہ جارحانہ اور مقامی سطح پر زیادہ جابرانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ روس کریمیا پر حملہ کرکے اسے غیرقانونی طور پر اپنے ساتھ شامل کرچکا ہے۔ اس نے مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کی حمایت، تربیت اور ہتھیار بندی کی ہے اور ہزاروں فوجیوں کو وہاں لڑنے بھیجا ہے۔

 وہ اب تک جمہوریہ جارجیا کے ۲۰ فیصد حصے پر قابض ہے اور ۲۰۰۸ء کے چھ نکاتی امن معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے، جس کے بعد ۲۰۰۸ء کی جارجیا جنگ ختم ہوئی تھی۔ روسی لڑاکا طیارے جنگ میں الجھے شامی صدر بشار الاسد کی حمایت میں فضائی حملے کر رہے ہیں۔ روس یوریشین اکنامک یونین جیسی تنظیموں کے ذریعے سابقہ سوویت یونین کے ممالک کو اپنے اثر میں لانے کی کوششوں میں بھی تیزی لاچکا ہے اور یورپی یونین اور امریکا کے خلاف اس کی بیان بازی میں بھی سختی آگئی ہے۔

سوویت یونین کے انہدام کو تقریباً پچیس برس بیت چکے ہیں اور اب بھی کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ روس اصلاح کی راہ پر ہے۔ جمہوری آزادیاں پسپا ہیں، بدعنوانی لامتناہی ہے اور مستقبل تاریک ہے۔ چوتھائی صدی قبل سوویت یونین کے انہدام کا سبب بننے والی ناکامیاں آج پیوٹن کے روس میں ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور بین الاقوامی معاشی پابندیوں کی بدولت روسی معیشت اب کساد بازاری کی حالت میں ہے۔
روس کی آبادی بوڑھے افراد میں اضافے، روز افزوں فروغ پاتی شراب نوشی اور منشیات کے عام استعمال، بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی بیماریوں اور شرح پیدائش میں کمی کی وجہ سے گھٹ رہی ہے۔ قوم پرستی کے شدید جذبات عروج پر ہیں، جو حکومت کے نئے حلقۂ اثر کی تلاش کو استحکام بخش رہے ہیں۔ سوویت یونین کا انہدام اور دیوارِ برلن کا سقوط بہت سوں کو حیرت میں ڈال گیا۔ مغربی رہنماؤں کو چاہیے کہ اب ایک بار پھر اُبھرتے ہوئے روس کو دوبارہ موقع نہ دیں کہ وہ انہیں حیرت میں ڈال دے۔
جدید سامراجیت
مغرب جس قسم کے روس کا آج مشاہدہ کررہا ہے، تبصرہ نگاروں کے دعوئوں کے برعکس وہ سرد جنگ والا روس نہیں بلکہ سامراجی روس ہے۔ پیوٹن کا رویہ روسی تاتاریوں جیسا ہے، جنہوں نے ایک کے بعد ایک قوم، ایک کے بعد ایک صوبے اور ایک کے بعد ایک بادشاہت کو فتح کرکے روسی سلطنت قائم کی تھی۔ اس وقت روسی سترہویں اور اٹھارویں صدی کی علاقائی فتوحات کو، جو سامراجی روس کا خاصہ تھیں، دوسروں کی زمین پر قبضہ نہیں بلکہ اپنی زمینوں کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے تھے۔

اس وقت روس کی سامراجی فتوحات کو پولینڈ کی کیتھولک سلطنت سے اپنے قدامت پسند عیسائی بھائیوں کو نجات دلانے کی جِدوجہد کے طور پر بیان کیا جاتا تھا۔ اس منظرنامے سے مذہبی پہلو کو نکال دیجیے اور اس کی جگہ پیوٹن کے مؤقف، یعنی نسلی روسیوں کے ساتھ روسیوں کے برادرانہ تعلقات کے تحفظ کی کوشش کو رکھیے، تو ہمارے سامنے وہی پرانا منظرنامہ آجاتا ہے۔ بالکل انیسویں صدی کی طرح آج کے روسی راہنما بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی جائز زمینیں واپس حاصل کر رہے ہیں۔ چاہے وہ ٹرانس نسٹریا ہو یا جنوبی اوسیشیا، ابغازیہ، کریمیا یا پھر یوریشین یونین کی تخلیق، یا بیلا روس اور قزاقستان کے ساتھ کسٹم یونین، یا پھر آرمینیا کے اوپر عملی طور پر روس کی بالادستی۔ دراصل یہ روسی سلطنت کی دوبارہ تعمیر کی تیاری ہے۔

یوکرین پر حملہ
جب کریملن کے حمایت یافتہ یوکرینی صدر وکتور یانیکووچ ۲۰۱۳ء میں یورپی یونین کے ساتھ ایک تنظیمی معاہدہ طے کرنے میں ناکام ہوئے تو اس کے بعد کئی ماہ کے مظاہروں کے نتیجے میں ۲۰۱۴ء کے اوائل میں اقتدار سے ان کا اخراج ہو گیا۔ روس نے ردِ عمل میں یوکرین کی علاقائی سالمیت کو روندتے ہوئے وہاں فوجی بھیجے، جن کو مقامی روس نواز جنگجو گروہوں کی حمایت بھی حاصل تھی، تاکہ ’’روسی عوام کی حفاظت‘‘ کے بہانے کی آڑ میں کریمیا پر قبضہ کرسکے۔ اس کے بعد روس نے کریمیا کو اپنے ساتھ شامل کرلیا۔
اکیسویں صدی میں بزورِ قوت زمین کے ایسے اتصال کی مثال نہیں ملتی۔ روس کی حمایت، اسلحے اور تربیت کی شہہ پر مشرقی یوکرین کے علیحدگی پسند رہنماؤں نے ’’لوگانسک عوامی جمہوریہ‘‘ اور ’’ڈانسک عوامی جمہوریہ‘‘ کے قیام کا اعلان کیا، جس کے بعد گویا نوروسیا کی نام نہاد وفاقی ریاست وجود میں آگئی۔ روس جدید ہتھیاروں، تکنیکی اور مالی امداد، اور اپنی روایتی اور خاص آپریشن افواج کے ذریعے مشرقی یوکرین کے ڈانباس خطے میں علیحدگی پسند طبقات کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
یوکرین میں سرگرم روسی افواج کی تعداد گھٹتی بڑھتی رہتی ہے جس کا انحصار زمینی سلامتی صورتحال پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب یوکرینی افواج علیحدگی پسند گروہوں سے دوبدو لڑ رہی تھیں تو ماسکو نے اندازاً ۵۰۰۰ فوجی یوکرین بھیجے تھے۔ جنگ بندی کے دو معاہدے، منسک۔۱ اور منسک۔۲، بالترتیب ستمبر ۲۰۱۴ء اور فروری ۲۰۱۵ء میں ہوئے اور ہو کر ختم بھی ہوگئے۔ اگرچہ باقاعدہ جنگ بندی کا معاہدہ برقرار ہے لیکن یوکرینی افواج اور روس نواز باغیوں (یا عام روسی فوجیوں) کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ ٹینکوں، بندوقوں اور فضائی دفاعی نظاموں پر مشتمل روسی قافلے مسلسل یوکرینی سرحد کو پار کرتے رہے ہیں۔ جنگ بندی کے معاہدے یوکرین کی فی الواقع تقسیم پر منتج ہوئے ہیں اور خطے کے تازہ ترین منجمد تنازع کی تشکیل کا سبب بنے ہیں۔
قطب شمالی میں روسی عسکریت پسندی
امریکا قطب شمالی کی پانچ ساحلی طاقتوں میں سے ایک ہے اور ان آٹھ ممالک میں شامل ہے جو زمینی طور پر قطب شمالی کے دائرے سے اوپر واقع ہیں۔ وہ علاقہ جو ۶۶ درجہ عرض شمالی کے شمال میں ہے اور ناروے، سویڈن، فن لینڈ، روس، کینیڈا، گرین لینڈ، آئس لینڈ اور امریکا کے خطوں پر مشتمل ہے۔ قطب شمالی کے حصہ دار قطب شمالی میں عسکری سرگرمی کے لیے مختلف حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔
اگرچہ قطب شمالی میں درپیش موجودہ سلامتی کے چیلنج ابھی عسکری نوعیت کے نہیں لیکن خطے میں عسکری صلاحیت کی ضرورت ہے تاکہ سویلین حکام کی مدد کی جاسکے۔ مثال کے طور پر سویلین تلاش اور بچاؤ (سرچ اینڈ ریسکیو) اور قدرتی آفات کے ردِعمل کے لیے ایسے ناسازگار ماحول میں فوج سویلین اداروں کی مدد کرسکتی ہے۔ اس کے باوجود روس نے اس خطے میں اپنی موجودگی کو عسکری رنگ دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
روس کا شمالی بیڑہ جو قطب شمالی میں قائم ہے، روسی بحریہ کے دو تہائی پر مشتمل ہے۔ ۲۰۱۵ء میں قطب شمالی میں تمام روسی افواج کی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے لیے ایک نئی قطب شمالی کمان ترتیب دی گئی۔ اگلے چند سالوں میں دو نئی نام نہاد قطب شمالی بریگیڈیں قطب شمالی میں مستقل طور پر قائم کی جائیں گی۔ روسی خصوصی افواج پہلے ہی خطے میں مشقیں کرتی رہی ہیں۔ سوویت یونین کے دور کی پرانی تنصیبات و تعمیرات دوبارہ فعال ہو گئی ہیں۔ مثلاً جزیرہ کو تلنی پر قائم فضائی اڈہ ۳۰ سال بعد پہلی دفعہ استعمال کے قابل بنایا گیا ہے۔
منتہائے مقصود ۲۰۲۰ء تک قطب شمالی میں ایک مشترکہ روسی عسکری فوج کی تعیناتی ہے اور نظر آرہا ہے کہ روس اس ہدف کو حاصل کرنے کی ڈگر پر ہے۔ قطب شمالی میں روس کے اسٹریٹجک اہداف میں خطے کے موجودہ اور ممکنہ توانائی وسائل کی حفاظت اور دائرہ قطب شمالی پر عسکری برتری قائم رکھنا ہے۔ اگرچہ قطب شمالی کی قوتوں کے درمیان عسکری تصادم کے امکانات کم ہیں، امریکا کو قطب شمالی میں روسی عسکریت پسندی کے مضمرات کو ماسکو کی یوکرین میں حالیہ جارحیت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔
روسی پروپیگنڈا
روس نے اپنی خارجہ پالیسیوں کی حمایت کے لیے پروپیگنڈے کا استعمال ماہرانہ انداز میں اور مستقل مزاجی سے کیا ہے۔ ۲۰۱۳ء کے ’روسی وفاق کی خارجہ پالیسی کے تصور‘ میں روسی حکومت اپنے خارجہ پالیسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ کے استعمال کے بارے میں بہت واضح ہے۔ اپنے پروپیگنڈے کے ذریعے روسی حکومت دنیا کے سامنے اپنی اصول پرستی کا تاثر پھیلانے کی کوشش کرے گی۔
بیرونِ ملک رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے معلومات کے اثرانگیز طریقے تیار کرے گی۔ بین الاقوامی اطلاعاتی ماحول میں روسی ماس میڈیا کے کردار کو مضبوط کرے گی۔ ان کو ضروری ریاستی مدد فراہم کرے گی اور بین الاقوامی معلوماتی تعاون میں سرگرم حصہ لے گی، اپنی خود مختاری اور سلامتی کے لیے اطلاعاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔
روس، مشرقِ وسطیٰ میں
مشرقِ وسطیٰ میں روس امریکا اور اس کے اتحادیوں کو نقصان پہنچا کر اپنے معاشی اور جغرافیائی سیاسی مفادات کا تعاقب کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس نے اقوامِ متحدہ میں شام میں مداخلت کی مغربی کوششوں کو کامیابی سے روک دیا اور صدر بشار الاسد کو مسلح بغاوت سے نمٹنے کے لیے ضروری سفارتی اور فوجی مدد فراہم کی۔ بین الاقوامی برادری کی طرف سے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے پیوٹن کے مجوزہ منصوبے نے دمشق پر ایک طے شدہ امریکی حملے کو روک دیا۔
اس سے بیرونِ ملک پیوٹن کا تاثر بہتر ہوا اور اسد کو کم از کم فوری طور پر طاقت برقرار رہنے کا موقع ملا۔ سرد جنگ کے بعد پہلی دفعہ روس واشنگٹن کے مقابلے میں ایک برابر کا کھلاڑی بن کر ابھرا۔ کمزور ہونے کے باوجود روس نے یہ کر دکھایا اور کئی گنا مضبوط مقابل کے خلاف اس نے سفارتی اور جغرافیائی سیاسی فتح حاصل کی۔ اسد کی جانب سے روس کی براہ راست فوجی مداخلت نے امریکا اور اس کے ساتھیوں کے لیے معاملات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
شام میں روس کا اصل ہدف اسد کی حکومت کو باقی رکھنا ہے۔ اگر اسد چلا گیا تو روس بحیرۂ روم میں طرطوس کے ساحلی شہر میں قائم اپنے آخری بحری اڈے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اگر ایسا ہوا تو بحیرۂ روم میں اپنا آخری بیڑہ اور مشرقِ وسطیٰ میں پاؤں رکھنے کی واحد جگہ ہونے کی وجہ سے یہ ماسکو کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔ اگر اسد اقتدار میں رہتے بھی ہیں، تب بھی پورے شام پر ان کا ویسا تسلط دوبارہ قائم نہیں ہو سکتا، جیسا کبھی تھا۔
پیوٹن یہ بات جانتے ہیں۔ چنانچہ امکان ہے کہ ماسکو لاذقیہ کے خطے میں اسد کے دفاع کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔ اس علاقے میں اسد کی سب سے زیادہ حمایت ہے اور یہی وہ علاقہ ہے جہاں ان کا بحری اڈہ بھی ہے۔ شطرنج کی عالمی بِساط پر مشرقِ وسطیٰ پیوٹن کی نظر میں ایک ایسا خطہ ہے جو مغربی پالیسی کو خراب کرنے میں کام آسکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ خاکستر ہو جائے یا ہزاروں لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں، پیوٹن کو فکر نہیں ہے۔ پیوٹن کے لیے مشرقِ وسطٰی میں امریکا کی ناکامی کا تاثر ذاتی کامیابی ہے اور روس کے بحری اڈے کی بقا ایک اضافی فائدہ ہے۔
بشارالاسد روسیوں کو خوش آمدید کہنے میں خوش ہیں، قطع نظر اس کے کہ اس میزبانی کی قیمت کیا ہوگی۔ اسد کی حکومت کے مرکزی ضامن کے طور پر ایران کا کردار بہت زیادہ زیرِ بحث رہا ہے۔ اگرچہ تہران اس سلسلے میں اہم کردار نبھا رہا ہے لیکن اسے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ ایران صرف پراکسیوں کو استعمال کر کے شام میں جنگ کر سکتا ہے لیکن اسد کی حکومت کو استحکام دینے کے لیے بامعنی انداز میں دخل اندازی کرنے کے لیے قومی وسائل اور مہماتی فوجی صلاحیت صرف روس کے پاس ہے۔
دمشق کے لیے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ صرف ماسکو ہی اس کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ویٹو استعمال کر سکتا ہے، جو اسد کو ہٹانے کی بین الاقوامی کوششوں کو مؤخر، مسدود یا ختم کر سکتا ہے۔ روس نے مذہبی دہشت گردوں کے حامی ایران کو سفارتی تحفظ اور حمایت دینے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہے۔ ماسکو ایران کے پُرامن جوہری توانائی کے حق کا دفاع کرتا ہے اور اس کے ساتھ سرگرم معاشی تعلقات رکھے ہوئے ہے۔ اس نے تہران کو بو شہر جوہری توانائی ری ایکٹر تعمیر کرنے اور چلانے میں مدد دی اور ہزاروں ایرانی فوجی حکام، جوہری سیاست دانوں اور انجینئروں کو تربیت بھی دی۔
یوریشیا: حلقۂ اثر کی دوبارہ تعمیر
سابق سوویت یونین کے علاقوں میں، جس میں یوریشیا کا زیادہ تر حصہ آجاتا ہے، روس نے اپنا اثر بڑھانے کے لیے سخت اور نرم، دونوں طاقتیں استعمال کی ہیں۔ آج روس معاشی، سفارتی اور فوجی ذرائع کے ذریعے خطے میں اپنا اثر مسلسل بڑھا رہا ہے۔ روس نے آرمینیا اور تاجکستان میں قابلِ ذکر فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے اور ۲۰ فیصد جارجیا پر قابض ہے۔ روسی کاروبار اور غیر ملکی سرمایہ کاری وسط ایشیا اور جنوبی قفقاز کے ہر ملک تک پھیلی ہوئی ہے۔ 
روسی حمایت یافتہ تنظیمیں، جیسے اجتماعی سلامتی و دفاعی تنظیم یا یوریشیا معاشی اتحاد، مقامی دارالخلافوں کو معاہدوں کے ذریعے جوڑنے کی کوششیں ہیں۔ روس جنوبی قفقاز کو قدرتی طور پر اپنا حلقۂ اثر سمجھتا ہے اور اگر ضرورت پڑے تو اس خطے میں اثر قائم کرنے کی خاطر طاقت استعمال کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ اگست ۲۰۰۸ء میں روس نے جارجیا پر حملہ کیا اور اس کے دارالخلافہ تبلیسی سے صرف ۱۵؍میل دور رہ گیا۔
سات سال بعد کئی ہزار روسی فوجیوں نے جارجیا کے دو صوبوں جنوبی اوسیشیا اور ابغازیہ پر قبضہ کر لیا۔ ۲۰۱۵ء میں روس نے جنوبی اوسیشیا اور ابغازیہ کے ساتھ نام نہاد انضمامی معاہدے کیے۔ دوسری شقوں کے ساتھ ان معاہدوں میں ہم آہنگ خارجہ پالیسی، مشترکہ سلامتی اور دفاعی حلقے کی تعمیر اور ابغازیوں اور جنوبی اوسیشیا کے باشندوں کے لیے روسی شہریت کے حصول کی سادہ پالیسی پر عملدرآمد شامل ہیں۔ جارجیا کے وزیرِ خارجہ نے ان معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’جارجیا کی قابض زمینوں کے اتصال‘‘ کی طرف ایک قدم قرار دیا۔
یہ معاہدے الگ ہونے والے ان دونوں خطوں کے روس کے ساتھ اتصال کا پیش خیمہ ہیں۔ یہ دونوں خطے بین الاقوامی طور پر ابھی جارجیا کا حصہ ہی مانے جاتے ہیں۔ روس کی طرف سے کریمیا کے غیر قانونی اتصال کو دیکھتے ہوئے جارجیا کی پریشانی بلاوجہ نہیں ہے۔ جنوبی قفقاز میں آج بھی ماسکو نسلی تقسیموں اور کشیدگیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روس نواز پالیسیوں کو آگے بڑھا رہا ہے، جو اکثر امریکا یا نیٹو کے خطے میں اہداف کے برعکس ہوتی ہیں۔
بے یقین مستقبل
مقامی میڈیا میں روس خود کو مغرب کے مدِمقابل معاشی اور نظریاتی معاملات میں متبادل بناکر پیش کر رہا ہے۔ روس نے سی آئی اے اور قومی سلامتی ایجنسی کے سابق ملازم اور باغی ایڈورڈ اسنوڈن جیسے شخص کو عارضی پناہ دی، جس نے آج تک امریکا کی انٹیلی جنس صلاحیتوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ 
کریملن انیسویں صدی کے انداز میں زمینی توسیع اور اسلحہ جمع کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے، جبکہ اس کے مسائل اکیسویں صدی والے ہیں یعنی اچھی حکمرانی کا فقدان، شہریوں کے تحفظ اور مقامی اور بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے قانون کی حکمرانی کی ضرورت اور اپنے گھر میں اسلامی اقلیتوں کا خروج وغیرہ۔ دیگر مسائل مثلاً مغرب کے ساتھ برے تعلقات، چین اور ترکی کے ساتھ جغرافیائی سیاسی مقابلہ بازی، اور بھارت اور برازیل سے معاشی طور پر پیچھے رہ جانے کا خطرہ، کے ساتھ مل کر گھمبیر صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

شاہنواز فاروقی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s