خطرہ دہشت گردی نہیں، بھارت ہے

وطن عزیز کے ہر دشمن کی اوقات میرے سامنے ہے بلکہ میرے کیا ہر محب وطن پاکستانی کے سامنے ہے اس لیے جو پاکستانی کسی دشمن سے مرعوب ہوتا ہے وہ اپنی قوم اور وطن پر زیادتی کرتا ہے کیونکہ اپنے پرانے اور جدی پشتی دشمن کو ہم خوب پہچانتے ہیں اور یہ دشمن ہمارا آزمودہ ہے، جنگوں میں بھی اور امن میں بھی۔

میرا واضح اشارہ بھارت کی طرف ہے جو صرف رقبے اور آبادی میں ہم سے بڑا ہے اور بس۔ ہمارے اوپر اس کی صرف یہی برتری اور بڑائی ہے جو حالات نے اسے دے دی ہے اس میں اس کا کوئی کمال نہیں ہے لیکن اس کے عوض قدرت نے ہمیں ایک بہادر اور ناقابل شکست دل دیا ہے اور دنیاوی جنگی اسباب بھی مہیا کر دیتے ہیں۔ یوں ہم کسی سے چھو ٹے نہیں ہیں۔ اگر ہمیں شکست ہوتی ہے تو یہ نہ دست و بازو کی کمزوری کی وجہ اور نہ ہی اسباب جنگ کی کمی کی وجہ سے، ہمیں شکست ہمارے اپنے غدار دلواتے ہیں۔
اگر ہمارا ملک ٹوٹ گیا ہے تو اس کے پیچھے ہمارے اپنے غدار تھے جو اقتدار کے بھوکے تھے اور پورے پاکستان میں انھیں اقتدار نہیں مل سکتا تھا۔ قدرت نے انھیں اقتدار دے دیا لیکن غداری کی سزا میں پھانسی بھی دے دی۔ یہ عجیب اتفاق ہے اور قدرت کے تماشے ہیں کہ پاکستان کے غداروں کو غیر قدرتی موت دی گئی۔ اندرا اور مجیب بھی قتل کر دیے گئے۔

پاکستان کو قدرت کی طرف سے تحفظ عطا ہوا ہے اور جس کسی نے اس تحفظ کی خلاف ورزی کی اسے موت کی سزا دی گئی۔ پاکستان جیسے پسماندہ ملک نے ایٹم بم بھی بنا لیا۔ کیا یہ قدرت کی طرف سے اس کے تحفظ کا ایک ذریعہ اور عطیہ نہیں ہے۔ اب سوائے غداروں کے اس ملک کو کوئی دشمن نقصان نہیں پہنچا سکتا اور اس کی سزا سے بچ نہیں سکتا۔ اس ملک کو جب بھی اور جتنا بھی نقصان ہوا اس کے ذمے داروں کا اتنا ہی نقصان بھی ہو گیا۔

مجھے اگرچہ پاکستان کے دشمن ہمیشہ یاد رہتے ہیں لیکن ان دنوں مجھے اس ضمن میں ایک خوشی بھی ملی ہے کہ حکومت پاکستان نے پہلی بار کھل کر اور واضح الفاظ میں اپنے دشمن بھارت کو اسے دشمن کہہ کر ہمارا دل ٹھنڈا کیا ہے۔ خارجہ امور کے مشیر جناب سرتاج عزیز نے کہیں اور نہیں واشنگٹن میں اعلان کیا ہے کہ ہمیں دہشت گردی سے نہیں سب سے بڑا خطرہ بھارت سے ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بامعنی مذاکرات کا انعقاد ضروری ہے۔ پاکستان کی طرف سے یہ اعلان امریکا پاکستان مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ میں کیا گیا ہے جس میں پاکستان کی نمایندگی ہمارے خارجہ مشیر کر رہے تھے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے سرکاری طور پر بھارت کو اپنے لیے خطرہ قرار دیا ہے جس کی موجودہ حکومت سے کوئی توقع نہیں تھی کیونکہ میاں صاحب نے اقتدار کا آغاز ہی بھارت کے ساتھ دوستی کے خصوصی اعلان کے ساتھ کیا تھا جس سے محب وطن پاکستانی مایوسی میں ڈوب گئے تھے۔ اب یہ پہلا موقع ہے کہ ہماری حکومت نے کھل کر بھارت کی دشمنی کا اقرار کیا ہے ورنہ اب تک تو ہم پاکستانیوں کے دانشور بھارت کی خوشامد ہی کرتے چلے آ رہے تھے اور بھارت کے خلاف کھل کر کوئی بات نہیں کی جاتی تھی۔ ہماری حکومت بھی اسی احتیاط سے کام لے رہی تھی۔
یہ کوئی نہیں سوچتا تھا کہ قوم کو دشمن سے آگاہ نہیں کیا جائے گا تو کسی گمنام دشمن کے خلاف تیاری کیسے ہو گی۔ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ بھارت کے دانشور پاکستان کو اب کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ صرف اس کے بھارتی فوجیوں کو پتہ ہے کہ پاکستانی سپاہی کس مٹی کا بنا ہوا ہے اور دست و بازو کی جنگ میں اس کا مقابلہ ممکن نہیں ہے۔
یہ میرے پہلے زمانے کے مشاہدات ہیں لیکن پاکستان کے ایٹمی طاقت بن جانے کے بعد مجھے بھارت جانے کا اتفاق نہیں ہوا کہ ایٹمی پاکستان کے بارے میں ان کے خیالات کیا ہیں۔ ایٹم بم تو بھارت کے پاس بھی ہے لیکن بات وہی دست و بازو والی ہے۔ بہرکیف میرے اور دوسرے پاکستانیوں کے لیے خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ ہماری حکومت نے بھی بھارت کو اپنا دشمن سمجھ لیا ہے اور وہ بھی دہشت گردی سے بڑھ کر جس سے امریکا خوفزدہ ہے۔
جاندار افراد اور قوموں کے دشمن بھی ہوا کرتے ہیں اور ہونے چاہئیں، ان سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے بشرطیکہ آپ اپنے دل کو توانا رکھیں اور اسے ہارنے نہ دیں۔ ہم عام پاکستانی بھارت کو اس کے بڑے رقبے اور آبادی کے باوجود اپنے سے بڑا نہیں سمجھتے کیونکہ ہم ہندو قوم کو گزشتہ لاتعداد نسلوں سے دیکھتے اور بھگتتے چلے آ رہے ہیں۔
اگر ہم اپنے غداروں کی پہچان کرنے میں کوتاہی نہ کریں اور ان کی سازشوں سے باخبر رہیں تو پاکستان کو کسی بیرونی دشمن سے خطرہ نہیں ہے اور اب جب سے ہمیں ایٹم بم کی طاقت ملی ہے تو دنیا جانتی ہے کہ یہ مسلمان قوم جان کے خطرے کی صورت میں اس مہلک ترین ہتھیار کو استعمال کرنے میں تامل نہیں کرے گی اس لیے پاکستان کے دشمن اب اس کی طرف دیکھنے میں عقل سے بھی کام لیتے ہیں کیونکہ پاکستان اس جدید اسلحہ کے بغیر بھی بہت کچھ تھا اور اپنے سے بڑے دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹا ہوا تھا ۔
جس کا تماشا دنیا نے اس بڑے دشمن کے خلاف جنگوں میں دیکھا تھا اور اب تو پاکستان کے ساتھ گفت و شنید اور غیر جنگی مذاکرات ہی ممکن ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان اپنے مسائل کو حل کرنا شروع کر دے گا اور جس کی ابتداء ظاہر ہے کشمیر سے ہو گی۔ بہرکیف کسی کے پاس کتنی طاقت ہی کیوں نہ ہو جنگ سے بچنا انسانی خدمت ہے اور پاکستان کو اس کا احساس ہے۔
عبدالقادر حسن

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s